سیلاب کی صورتِ حال سنگین، گنڈک کا پشتہ ٹوٹنے سے سارن کے نئے علاقے زیرِ آب
Awaz E Bihar
••3 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ :(اے بی این ) بہار میں سیلاب کی صورتِ حال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے۔ جمعہ کو پشتہ ٹوٹنے کے بعد گنڈک ندی کا پانی سارن ضلع کے مزید علاقوں میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں کھیت، مکانات اور سڑکیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ حکام کے مطابق نیپال اور اتر پردیش میں شدید بارش کے بعد گنڈک، گنگا، کوسی، باگمتی اور گھاگھرا ندیوں میں کئی مقامات پر پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے اور فی الحال حالات میں بہتری کے کوئی واضح آثار نہیں ہیں۔محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ گنڈک ندی میں تیزی سے بڑھتے پانی کے باعث سارن، گوپال گنج، مشرقی و مغربی چمپارن، ویشالی، سپول اور پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں پشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بعض مقامات پر ندی کے بائیں اور دائیں دونوں پشتوں پر شدید دباؤ کی صورتِ حال ہے۔سارن ضلع میں سیلاب کا پانی مزید علاقوں میں پھیلنے کے بعد انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق ضلع میں قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 12 اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی سات ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ محکمہ نے بتایا کہ سیلاب کا پانی مختلف علاقوں میں پھیلنے کے بعد بیتیا، گوپال گنج، بھاگلپور، سپول، مدھوبنی، دربھنگہ، سمستی پور اور مشرقی چمپارن سے اضافی امدادی ٹیمیں بھی سارن بھیجی گئی ہیں۔سیلاب متاثرین تک ضروری اشیا پہنچانے کے لیے فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 3,000 سے زیادہ راشن پیکٹ فضائی راستے سے متاثرہ علاقوں تک پہنچائے جا چکے ہیں، جبکہ شام تک مزید 5,000 سے زیادہ پیکٹ پہنچائے جانے کی توقع ہے۔محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق این ڈی آر ایف کی 12 ٹیموں میں 360 تربیت یافتہ اہلکار شامل ہیں، جو 50 سے زیادہ کشتیوں کے ذریعے راحت اور بچاؤ کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں میں 140 سے زیادہ تربیت یافتہ اہلکار تعینات ہیں اور ان کے پاس 36 سے زیادہ کشتیاں موجود ہیں۔حکام نے بتایا کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے سارن کے لیے امدادی سامان بھی تیزی سے روانہ کیا جا رہا ہے۔ ضلع انتظامیہ سیلاب کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم، لوگوں کے بچاؤ اور ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے مختلف محکموں کے درمیان تال میل قائم کیا جا رہا ہے۔