فرکا آبی معاہدے کی تجدید میں 2050 تک بہار کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے: سنجے جھا
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 9 اکتوبر (اے بی این) جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی ایگزیکٹو صدر سنجے کمار جھا نے جمعہ کو کہا کہ فرکا آبی معاہدے کی تجدید کے وقت 2050 تک بہار کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ جے ڈی یو رہنما نے پٹنہ واقع جے ڈی یو ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں منعقدہ 'فرکا آبی معاہدے پر نتیش سنواد' پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے طے کیے جانے کے دوران بہار کے مفادات کو نظرانداز کیا گیا، جس کا اثر ریاست میں آبپاشی، پینے کے پانی، صنعتی ترقی اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہار کے آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ قومی ایگزیکٹو صدر نے کہا کہ بہار میں نئی صنعتیں اور کارخانے قائم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں فرکا آبی معاہدے کی تجدید کے دوران ریاست کی مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بہار کے آبی وسائل اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی آئندہ کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے اس موقع پر کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتیش کمار شروع سے ہی فرکا بیراج اور آبی معاہدے سے بہار کو ہونے والے نقصانات کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فرکا بیراج کی وجہ سے گنگا میں گاد جمع ہونے اور دریا کی تہہ بلند ہونے سے شمالی بہار کو ہر سال سیلاب کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب خشک موسم میں پانی کی کمی کے باعث ریاست کے کئی اضلاع میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا بہار کی معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ مسٹر کشواہا نے دعویٰ کیا کہ اس بین الاقوامی معاہدے کا 73 فیصد بوجھ صرف بہار اٹھا رہا ہے اور ریاست گزشتہ تین دہائیوں سے سیلاب اور خشک سالی کی دوہری مار جھیل رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو نمایاں طور پر اٹھانے کے لیے سنجے کمار جھا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے بہار کے آبی مفادات سے متعلق معاملہ قومی بحث کا حصہ بنا ہے۔ بہار قانون ساز کونسل میں حکمراں جماعت کے نائب رہنما للن کمار صراف نے کہا کہ فرکا آبی معاہدے سے بہار کے آبی وسائل پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اگلے 50 برسوں کی آبی ضروریات اور ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری شیام رجک نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے بہار کے آبی مفادات کو نظرانداز کیا۔ پارٹی اب 'فرکا آبی معاہدے پر نتیش سنواد' پروگرام کے ذریعے اس معاملے پر بیداری مہم چلا رہی ہے، جس سے آبی حقوق سے متعلق سوالات پر عوامی شرکت بڑھ رہی ہے۔ وہیں پارٹی کے چیف وہپ سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ فرکا بیراج اور آبی معاہدے سے بہار کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ جے ڈی یو کی جانب سے اس بیداری مہم کے تحت گنگا کے کنارے آباد بہار کے 12 اضلاع، بکسر، بھوجپور، سارن، پٹنہ، ویشالی، سمستی پور، بیگوسرائے، لکھی سرائے، مونگیر، کھگڑیا، بھاگلپور اور کٹیہار میں مکالماتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مہم کا آغاز 5 ستمبر کو بکسر سے ہوا تھا اور اختتام کٹیہار میں ہوگا۔ پارٹی کے مطابق گنگا بہار میں بکسر کے راستے داخل ہوتی ہے اور کٹیہار کی جانب سے ریاست سے نکلتی ہے۔ پروگرام کی صدارت پٹنہ دیہی کے ضلعی صدر اشوک کمار سنگھ نے کی۔ نظامت پٹنہ میٹروپولیٹن کے صدر رادھے شیام کشواہا نے کی، جبکہ شکریہ کی تجویز یوتھ ریاستی صدر نتیش پٹیل نے پیش کی۔