انڈیا اتحاد بکھرا ہوا ہے، ایس آئی آر پر اپوزیشن پھیلا رہی ہے غلط فہمی: بی جے پی
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 9 اکتوبر (اے بی این) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس اور انڈیا اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس نہ تو کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی بہار کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس ایجنڈا ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے میں اپوزیشن جماعتیں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان نیرج کمار شرما نے کہا کہ کانگریس کی میٹنگیں صرف مظاہرے اور دکھاوے تک محدود رہ گئی ہیں، جبکہ نشستوں کی تقسیم اور قیادت کے سلسلے میں آپسی کھینچا تانی نے پورے انڈیا اتحاد کو منتشر کردیا ہے۔ انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کی جانب سے پھیلائی جا رہی غلط فہمیوں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن آئینی عمل پر سیاست کر رہی ہے۔ مسٹر شرما نے کہا کہ کانگریس کے پاس نہ تو کوئی واضح پالیسی باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی ایسا تنظیمی ڈھانچہ ہے جو عوام کے درمیان مضبوطی سے کھڑا نظر آئے۔ اس کی میٹنگیں جائزے اور فیصلے کرنے کا پلیٹ فارم بننے کے بجائے مظاہرے اور دکھاوے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ یہی صورت حال پورے انڈیا اتحاد کی ہے، جہاں نشستوں کی تقسیم پر کھینچا تانی، قیادت کے تعلق سے تذبذب اور اتحادی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتحاد کے پاس نہ کوئی مشترکہ ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی مشترکہ عزم۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ اس کے برعکس قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگیں ٹھوس مقاصد کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ان میں تنظیم کا جائزہ، آپسی تال میل اور عوامی مفاد سے جڑے فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ حکومت اور تنظیم دونوں سطحوں پر این ڈی اے کی اتحادی جماعتیں مل کر کام کرتی ہیں۔ بہار کو بھی اسی طرح کے اتحاد اور تال میل کی ضرورت ہے، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر طریقے سے زمین پر اتارا جا سکے۔ بی جے پی لیڈر نے کانگریس کی اندرونی صورت حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں آپسی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ پارٹی کے پاس مستقل قیادت اور واضح سمت کا فقدان ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کی قیادت کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اعلیٰ قیادت میں عزم اور ہم آہنگی کی کمی کا اثر پوری تنظیم پر پڑتا ہے۔مسٹر شرما نے ایس آئی آر کے معاملے پر کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرست کو صاف اور تازہ ترین بنانا ہے، تاکہ اہل ووٹروں کے نام فہرست میں برقرار رہیں اور نااہل یا فرضی اندراجات کو ضابطوں کے مطابق ہٹایا جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس اس عمل کو لے کر لوگوں میں غلط فہمی اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، ضابطوں کے تحت جاری آئینی عمل پر سوال اٹھا کر اپوزیشن صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بہار میں ترقی، امن و قانون، روزگار اور عوامی فلاح و بہبود کے معاملات پر مل کر کام کر رہا ہے۔ اتحاد نے ان شعبوں میں تال میل کے ساتھ فیصلے کیے ہیں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ڈی اے پر عوام کا اعتماد اسی اتحاد اور ترقی کے تئیں عہد بستگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو دکھاوے کی سیاست اور افواہوں پر مبنی اتحاد کے بجائے ایسی حکومت اور تنظیم کی ضرورت ہے جو مل جل کر کام کرے اور ریاست کی ترقی کو ترجیح دے۔ بی جے پی کے مطابق، این ڈی اے اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔