مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
قومی

اگنی ویر اسکیم ختم کرکے باقاعدہ فوجیوں کی بھرتی کی جائے: کانگریس

Awaz E Bihar4 منٹ کی پڑھائی

اگنی ویر اسکیم کی وجہ سے ملازمت کی شرائط اور امتیازی سلوک سے پریشان ہو کر 40 سے زیادہ اگنی ویروں نے خودکشی کر لی ہے۔

کانگریس نے اگنی ویر اسکیم کو ملک کی سلامتی اور فوج کی روایتی بھرتی کے نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے اور باقاعدہ فوجیوں کی بھرتی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس کے سابق فوجیوں کے شعبے کے چیئرمین کرنل روہت چودھری (ریٹائرڈ)، اتراکھنڈ سابق فوجیوں کے شعبے کے چیئرمین کرنل رام رتن نیگی، مغربی اتر پردیش کے نائب چیئرمین کرنل سدھیر کمار اور چندی گڑھ کے چیئرمین اور پنجاب میں دوآبہ کے انچارج لیفٹیننٹ کرنل نوجوت سنگھ تھنڈ نے جمعہ کو یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت نے چار سال قبل اگنی ویر اسکیم فوج پر مسلط کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں مسلح افواج کے اس وقت کے سربراہوں نے حکومت کو یہ اسکیم نافذ کرنے کا مشورہ نہیں دیا تھا۔

کرنل چودھری نے کہا کہ کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں شروع سے ہی اس اسکیم کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ کانگریس کے سابق فوجیوں کے شعبے اور پارٹی کے نیاے یودھاؤں نے ملک بھر میں 'جے جوان' مہم چلائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگنی ویر اسکیم نافذ ہونے کے بعد فوج میں تقریباً سوا دو لاکھ جوانوں کی کمی ہو گئی اور حکومت کے فیصلے سے فوج اور فضائیہ میں بھرتی ہوکر تقرری کے منتظر تقریباً ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کا خواب ٹوٹ گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگنی ویر اسکیم میں تبدیلی کرتے ہوئے چار سال کی خدمت مکمل کرنے والے اگنی ویروں کو دو سال کی توسیع دینے اور چھ سال بعد انتخابی معیار پر پورا اترنے والوں کو مستقل کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی راہل گاندھی اور کانگریس کے مسلسل دباؤ کے سبب کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر تمام اگنی ویروں کی کارکردگی اچھی رہی ہے تو صرف 25 فیصد کو ہی مستقل کیوں کیا جائے اور باقی 75 فیصد کو بھی باقاعدہ فوجی کیوں نہ بنایا جائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اگنی ویر اسکیم کی وجہ سے ملازمت کی شرائط اور امتیازی سلوک سے پریشان ہو کر 40 سے زیادہ اگنی ویروں نے خودکشی کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مستقل کیے جانے والے 25 فیصد اگنی ویروں کو ان کی بھرتی کی تاریخ سے باقاعدہ فوجیوں کے تمام فوائد دیے جائیں، اگنی ویروں کو باقاعدہ فوجیوں کی طرح 90 دن کی چھٹی اور شادی کی اجازت دی جائے اور طبی بنیادوں پر خدمت سے الگ کیے گئے اگنی ویروں کو دوبارہ مناسب عہدوں پر تعینات کیا جائے۔

کانگریس کے سابق فوجیوں کے شعبے کے سربراہ نے شہید اگنی ویروں کے اہل خانہ کو باقاعدہ فوجیوں کے برابر تمام فوائد اور تاحیات پنشن دینے کے ساتھ ہی اگنی ویروں کو ملنے والی سہولتوں اور ان کے لیے مقرر رقم کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس آج سے 'جے جوان-پارٹ 2' مہم شروع کر رہی ہے اور اگنی ویر اسکیم ختم ہونے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

مغربی اتر پردیش سابق فوجیوں کے شعبے کے نائب چیئرمین کرنل سدھیر کمار نے کہا کہ اگنی ویر اسکیم نے فوج کے تربیتی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ چار سال کی مدت ملازمت میں جوانوں کو مناسب تربیت اور تکنیکی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے ضروری باقاعدہ تربیت دینا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی فوجوں میں اس طرح کا نظام موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق دسمبر میں اگنی ویروں کے پہلے بیچ کی چار سالہ خدمت مکمل ہونے پر 75 فیصد جوانوں کے باہر ہونے سے فوج میں جوانوں کی کمی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور دو سال کی توسیع اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

اتراکھنڈ سابق فوجیوں کے شعبے کے چیئرمین کرنل رام رتن نیگی نے کہا کہ اتراکھنڈ میں فوج میں ملازمت صرف روزگار نہیں بلکہ کئی خاندانوں میں نسلوں سے چلی آ رہی ایک روایت ہے۔ اگنی ویر اسکیم نے اس روایت کو متاثر کیا ہے اور ریاست کے نوجوان اور سابق فوجی اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چندی گڑھ سابق فوجیوں کے شعبے کے چیئرمین اور پنجاب میں دوآبہ کے انچارج لیفٹیننٹ کرنل نوجوت سنگھ تھنڈ نے کہا کہ اگنی ویر اسکیم میں تبدیلی سے واضح ہے کہ حکومت پر دباؤ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کے نوجوانوں اور فوج کے مفادات کے لیے اس اسکیم کو منسوخ کرانے کا مطالبہ اٹھاتی رہے گی۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں