مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
قومی

تہواروں کے دوران ریلوے نے 18 ہزار خصوصی ٹرینوں کو چلانے کا فیصلہ کیا

Awaz E Bihar4 منٹ کی پڑھائی

گزشتہ سال تہواروں کے دوران ریکارڈ 12 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں۔ ان میں سے کئی خصوصی ٹرینوں کو اس سال باقاعدہ ٹرینوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اضافی ٹرینیں بھی چلائی جا رہی ہیں

ریلوے نے دیوالی اور چھٹھ سمیت دیگر تہواروں کے دوران مسافروں کی بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور انہیں آسانی کے ساتھ ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ اس مقصد کے تحت ریلوے نے 18 ہزار خصوصی ٹرینیں چلانے کا انتظام کیا ہے اور سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے دیوالی، چھٹھ پوجا اور دیگر تہواروں کے دوران مسافروں کی بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور ان کی سہولت کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا اور افسران کو ہر وقت نگرانی کرنے کی ہدایت دی۔معائنے کے بعد مسٹر ویشنو نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ملک کے عوام کو دیوالی کی مبارکباد دی اور کہا کہ درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ سمیت تہواروں کے دوران ہر سال مسافروں کی سب سے زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہر سال ریلوے کے نظام میں بہتری کے لیے ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کے لیے کیے گئے انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال غیر محفوظ ٹکٹ والے مسافروں کے لیے ویٹنگ روم بنایا گیا تھا، جو کافی مفید ثابت ہوا۔ اس سال یہاں ریزرو ٹکٹ والے مسافروں کے لیے بھی الگ ویٹنگ روم بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے اسٹیشن پر داخلے کے چھ الگ الگ دروازے تھے، جس سے مسافروں کو اکثر الجھن ہوتی تھی۔ اب ایک مشترکہ ایریا بنایا گیا ہے۔ سامان کی جانچ سے متعلق تمام سہولتیں بھی باہر منتقل کر دی گئی ہیں۔ پہلے اندر جس جگہ ٹکٹ جاری کیے جاتے تھے، اسے اب ایک بڑے ویٹنگ روم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر کیے گئے ان انتظامات سے مسافروں کو کافی سہولت ہوئی ہے۔

ریلوے کے وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال تہواروں کے دوران ریکارڈ 12 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں۔ ان میں سے کئی خصوصی ٹرینوں کو اس سال باقاعدہ ٹرینوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اضافی ٹرینیں بھی چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ سمیت تہواروں کے پورے موسم میں مسافروں کی سہولت کے لیے تقریباً 18 ہزار خصوصی ٹرینیں چلانے کا انتظام کیا گیا ہے۔مسٹر ویشنو نے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شکور بستی ڈپو میں تقریباً چھ ٹرین ریک تیار رکھے گئے ہیں، جنہیں انتہائی ضرورت کے وقت فوری طور پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران مسافروں کی آمد و رفت سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے گئے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈل کے ذریعے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ اس سے یہ معلوم کیا گیا کہ تہواروں کے دوران کن اسٹیشنوں پر مسافروں کی تعداد سب سے زیادہ رہتی ہے اور کون سے اسٹیشن مسافروں کی آمد و رفت کے اہم مراکز ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کووڈ کے دور کو چھوڑ کر گزشتہ 10 برسوں کے اعداد و شمار کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ اسی تجزیے کی بنیاد پر خصوصی ٹرینوں کی تعداد اور ان کے چلانے کے اوقات طے کیے گئے ہیں۔ریلوے کے وزیر نے بتایا کہ زیادہ بھیڑ والے دنوں میں کارخانوں اور دفاتر میں کام کرنے والے لوگ عموماً شام پانچ بجے کے بعد اپنی تنخواہ اور بونس لے کر گاؤں کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ اس لیے شام پانچ بجے کے بعد مسافروں کی بھیڑ بڑھنے اور پوری رات جاری رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریلوے بورڈ، شمالی ریلوے زون، ڈویژنل ریلوے منیجر (ڈی آر ایم) کے دفتر اور ریلوے اسٹیشنوں پر 24 گھنٹے کام کرنے والے کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ ممبئی اور دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کا چار سطحی نظام بنایا گیا ہے۔

مسٹر ویشنو نے بتایا کہ اس مدت کے دوران ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے جوانوں، خاص طور پر خاتون آر پی ایف اہلکاروں کی خصوصی تعیناتی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پورا ملک تہوار منا رہا ہوتا ہے، اس وقت ریلوے کے ملازمین اپنی ڈیوٹی کے تئیں پوری طرح وقف رہتے ہیں اور ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام ریلوے ملازمین کی خدمات اور تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں