نوجوان نسل کو نشے سے بچانا ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت، ’نشہ چھوڑیں، زندگی جوڑیں‘ مہم کو مؤثر بنانے پر زور


سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو نئی رفتار دینے کی تیاری، 49,751 کروڑ کے چار بڑے منصوبوں کی منظوری کا مطالبہ‘ سمراٹ چودھری نے نتن گڈکری سے کی ملاقات
پٹنہ، 2 نومبر: (اے بی این )بہار میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور زیر التوا اہم منصوبوں کو جلد عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے پیر کو اپنے دورۂ دہلی کے دوران مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری سے ملاقات کی۔ مرکزی وزیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں بہار میں قومی شاہراہوں، ایکسپریس وے، پلوں کی تعمیر اور بہتر آمد و رفت کے نظام سے متعلق متعدد اہم منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مسلسل تعاون پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے بہار کے رابطہ سڑکوں کے نظام کو نئی وسعت دینے والے اہم منصوبوں کو جلد حتمی منظوری دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 49,751 کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً 330 کلومیٹر طویل چار بڑے سڑک منصوبوں کو مرکزی حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اپریزل کمیٹی (پی پی پی اے سی) سے منظوری مل چکی ہے، لیکن ان کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور (سی سی ای اے) سے ہونا باقی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ان منصوبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے نفاذ سے نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ مال برداری اور نقل و حمل کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ان چار اہم منصوبوں میں 1,976.77 کروڑ روپے کی لاگت سے این ایچ-727 اے اے پر گنڈک ندی کے اوپر دو لین پل اور بہار کے منوا پل (بتیا) کو اتر پردیش کے تیواری پٹی (سیوراہی) سے جوڑنے والے پل و رابطہ سڑک کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ 8,455.86 کروڑ روپے کی لاگت سے سریست آباد-دیدار گنج اور انیس آباد-دیدار گنج سیکشن میں چھ لین ایلیویٹڈ سڑک اور سروس روڈ کی تعمیر ہائبرڈ اینیوٹی موڈ پر کی جائے گی۔ 31,987.11 کروڑ روپے کی لاگت سے پٹنہ-پورنیہ چار لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے اور 7,331.40 کروڑ روپے کی لاگت سے وارانسی-رانچی-کولکاتا چھ لین گرین فیلڈ ہائی وے کے کونکی گاؤں سے لیرووا گاؤں تک کے حصے کی تعمیر بھی ان منصوبوں میں شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ نے گورکھپور-سلی گڑی ایکسپریس وے کے بہار والے حصے کو قومی ایکسپریس وے کے طور پر جلد از جلد نوٹیفائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ ریاستی حکومت اس منصوبے کے لیے ابتدائی تیاریوں میں قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور متعلقہ اضلاع میں زمین کے حصول سے متعلق دفعہ 3 اے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپریس وے کی تعمیر سے شمالی بہار میں آمد و رفت کا نظام بہتر ہوگا اور مختلف ندیوں پر نئے پل تعمیر ہونے سے علاقائی رابطے کو بھی تقویت ملے گی۔اسی طرح وزیر اعلیٰ نے رکسول-ہلدیہ ایکسپریس وے کے ترمیم شدہ روٹ کی منظوری کے بعد زمین کے حصول کی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے اس منصوبے کو جلد نوٹیفائی کرنے اور حتمی منظوری دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپریس وے نیپال کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے علاوہ بہار کو ہلدیہ بندرگاہ سے براہ راست جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس کی اسٹریٹجک اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔میٹنگ میں مظفرپور-برونی (این ایچ-122) کو چار لین میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس سلسلے میں قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کر چکی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر سے درخواست کی کہ اس منصوبے کے نفاذ کی رفتار تیز کی جائے، تاکہ شمالی اور وسطی بہار کے درمیان سڑک رابطہ مزید بہتر ہو سکے۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ بہار میں تقریباً 2,329 کلومیٹر قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی ذمہ داری ریاست کے محکمہ تعمیراتِ سڑک کو سونپی گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے 323 کلومیٹر طویل چھ قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرکے مرکزی حکومت کو بھیجی گئی ہے، جن پر مجموعی طور پر 13,015 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ ان منصوبوں میں وکرم شیلا پل کی رابطہ سڑک اور مشرکھ-چکیا-بھٹھا موڑ سڑک کو چار لین میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ان منصوبوں کو جلد تکنیکی اور مالی منظوری دینے کی اپیل کی۔ملاقات کے دوران بہار میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی توسیع، پلوں اور ایکسپریس وے کی تعمیر، بہتر بین الاضلاعی رابطے اور سیلاب سے تحفظ کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے جیسے امور پر بھی مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کو بروقت منظوری اور تعاون ملنے سے بہار میں آمد و رفت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی اور اقتصادی و صنعتی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار حاصل ہوگی۔
ایڈیٹر ان چیف







