بہار میں رشوت خور انجینئر پر ویجلنس کا بڑا شکنجہ


وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جو لوگ مفت بجلی نہیں لیں گے، انہیں ’داتا‘ کہا جائے گا اور بچنے والی رقم بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کی گیس سبسڈی چھوڑنے کی اپیل کی مثال بھی دی۔
بہار میں ہر خاندان کو ملنے والی 125 یونٹ مفت بجلی کی سہولت پر اب نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا ہے کہ یکم دسمبر سے خصوصی مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت خوشحال خاندان اپنی مرضی سے مفت بجلی کی سہولت چھوڑ سکیں گے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جو لوگ مفت بجلی نہیں لیں گے، انہیں ’داتا‘ کہا جائے گا اور بچنے والی رقم بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کی گیس سبسڈی چھوڑنے کی اپیل کی مثال بھی دی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب حکومت تمام خاندانوں کو مفت بجلی دے رہی ہے تو پھر اہل اور خوشحال خاندانوں سے یہ سہولت چھوڑنے کی اپیل کیوں؟ کیا یہ عوامی رضاکارانہ تعاون ہے یا حکومت اپنے مالی بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے؟
ادھر سمراٹ چودھری نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی 21 نومبر کو ویشالی کے جعفر پٹی صنعتی علاقے میں جلسہ کریں گے اور بہار کو کئی اہم تحفے دیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مفت بجلی چھوڑنے کی مہم کو عوام کتنی پذیرائی دیتے ہیں اور وزیراعظم کے دورے پر بہار کو کون سے نئے تحفے ملتے ہیں۔
admin