مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
بہار

بہار ودھان پریشد میں 18 نومبر کو حلف برداری تقریب کا امکان

Awaz E Bihar1 منٹ کی پڑھائی

آزاد امیدوار بنشی دھر برجواسی اور راہل راج پر بی جے پی کی مبینہ رکنیت لینے کے الزامات لگے۔

بہار ودھان پریشد میں 18 نومبر کو نئے اور پرانے ارکان کی حلف برداری کا امکان ہے، لیکن اس سے پہلے سیاسی رسہ کشی تیز ہوگئی ہے۔ اساتذہ اور گریجویٹ کوٹے کی آٹھ نشستوں پر کامیاب امیدواروں کی رکنیت کو لے کر تنازعہ بھی سامنے آیا ہے۔

آزاد امیدوار بنشی دھر برجواسی اور راہل راج پر بی جے پی کی مبینہ رکنیت لینے کے الزامات لگے۔ آر جے ڈی اور جن سوراج نے ان کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، لیکن تکنیکی قانونی پیچیدگیوں کے سبب یہ مطالبہ فی الحال آگے نہیں بڑھ سکا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوئے تھے تو کیا ان کی جیت کے بعد سیاسی وفاداری بدلنے پر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ اور کیا قانون کی تکنیکی خامیوں کی آڑ میں ایسے معاملات سے بچا جاسکتا ہے؟

نئی حلف برداری کے بعد ودھان پریشد کی تصویر بھی بدل جائے گی۔ گزشتہ 30 برس سے رکن رہنے والے نول کشور یادو سمیت کئی پرانے چہرے ایوان میں نظر نہیں آئیں گے، جبکہ آر جے ڈی، بی جے پی، جے ڈی یو اور جن سوراج کے نئے ارکان اپنی جگہ بنائیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ 18 نومبر کی حلف برداری صرف نئے ارکان کی آمد ہوگی یا بہار کی سیاست میں ایک نئی صف بندی کا آغاز بھی ثابت ہوگی؟

بہار کی مزید خبریں

سب دیکھیں