مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
بہار

جے ڈی یو کی شکست کے بعد پارٹی میں اندرونی اختلافات گہرایا

Awaz E Bihar3 منٹ کی پڑھائی

دوسری جانب پٹنہ گریجویٹ حلقے سے کامیاب ہونے والے جے ڈی یو کے رکن قانون ساز کونسل نیرج کمار نے بھی جائزہ میٹنگ میں انتخابی مہم کے دوران اندرونی مخالفت اور مبینہ طور پر پارٹی کے اندر سے تعاون نہ ملنے کا معاملہ اٹھایا۔

پٹنہ: (اے بی این )بہار قانون ساز کونسل کی چار نشستوں میں سے تین پر شکست کے بعد سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں اندرونی اختلافات اور ناراضگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ انتخابی نتائج کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ جمعرات کو پٹنہ میں منعقدہ پارٹی کی اہم میٹنگ میں سمراٹ چودھری حکومت کے ایک وزیر کا کردار بھی زیر بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ وزیر پر پٹنہ گریجویٹ حلقے سے جے ڈی یو امیدوار نیرج کمار کے خلاف ماحول بنانے اور پرشانت کشور کی جماعت جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کو مالی مدد پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، متعلقہ وزیر کا نام ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ انوج سنگھ کی کھل کر حمایت کرنے کے معاملے میں جے ڈی یو نے گزشتہ ماہ موکاما کے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا تھا۔

اب سمراٹ چودھری حکومت کے ایک وزیر پر بھی پارٹی اور اتحاد کے موقف سے الگ ہوکر جن سوراج امیدوار کی مدد کرنے کے الزامات کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔جے ڈی یو کے ریاستی دفتر میں منعقدہ جائزہ میٹنگ میں چاروں نشستوں کے امیدواروں، انتخابی انچارجوں، متعلقہ علاقوں کے ارکان اسمبلی اور ضلعی صدور نے شرکت کی۔ پارٹی کے کارگزار قومی صدر سنجے جھا اور ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے الگ الگ نشستوں کے انتخابی نتائج اور امیدواروں سے حاصل ہونے والی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ میٹنگ میں ہر نشست سے متعلق گفتگو الگ رکھی گئی، تاکہ ایک حلقے کی اندرونی بات دوسرے حلقے کے رہنماؤں تک نہ پہنچے۔ انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی ناراضگی کو دور کرنا اب قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

دوسری جانب پٹنہ گریجویٹ حلقے سے کامیاب ہونے والے جے ڈی یو کے رکن قانون ساز کونسل نیرج کمار نے بھی جائزہ میٹنگ میں انتخابی مہم کے دوران اندرونی مخالفت اور مبینہ طور پر پارٹی کے اندر سے تعاون نہ ملنے کا معاملہ اٹھایا۔ ابتدا میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ نیرج کمار نے مرکزی وزیر اور جے ڈی یو کے سینئر رہنما لالن سنگھ کے خلاف تحریری شکایت پیش کی ہے اور ان پر جن سوراج امیدوار انوج سنگھ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، جمعہ کو پارٹی نے ان خبروں کی تردید کردی۔جے ڈی یو کے قومی ترجمان راجیو رنجن نے واضح کیا کہ جائزہ میٹنگ میں لالن سنگھ کے خلاف نہ تو کوئی تحریری شکایت کی گئی اور نہ ہی زبانی طور پر کوئی الزام لگایا گیا۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں میٹنگ کے دوران کوئی بیان بھی نہیں دیا گیا۔ذرائع کے مطابق نیرج کمار نے صرف یہ بات کہی تھی کہ لالن سنگھ مونگیر سے لوک سبھا کے رکن ہونے کے ساتھ پٹنہ گریجویٹ انتخابی حلقے سے بھی متعلق ہیں، لیکن وہ ایم ایل سی انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں شامل نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ ایم ایل سی انتخابات میں نیرج کمار کی مخالفت کرتے ہوئے موکاما کے رکن اسمبلی اننت سنگھ نے جن سوراج امیدوار انوج سنگھ کی کھل کر حمایت کی تھی۔ اس کے بعد جے ڈی یو نے اننت سنگھ کو چھ سال کے لیے پارٹی سے خارج کردیا تھا۔ نیرج کمار نے پٹنہ گریجویٹ حلقے سے کامیابی حاصل کرکے چوتھی مرتبہ قانون ساز کونسل میں جگہ بنائی، جبکہ انوج سنگھ تیسرے مقام پر رہے۔

تین نشستوں پر شکست کے بعد جے ڈی یو کے اندر امیدواروں کی کارکردگی سے زیادہ انتخابی مہم میں مبینہ عدم تعاون، اندرونی مخالفت اور اتحادی جماعتوں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، سمراٹ حکومت کے کسی وزیر کی جانب سے جن سوراج امیدوار کو مالی مدد دینے کا الزام فی الحال ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے، اس کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ وزیر کا موقف سامنے آنا باقی ہے۔

بہار کی مزید خبریں

سب دیکھیں