مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
بہار

صنعتی سرمایہ کاری کو نئی رفتار دینے کے لیےحکومت تیار

Awaz E Bihar6 منٹ کی پڑھائی

بہار کے صنعت کاروں کو 50 کروڑ روپے تک کے سرکاری ٹینڈر میں ترجیح دینے کا انتظام کیا گیا ۔ بہار خریداری ترجیحی پالیسی کے تحت ریاستی حکومت بہار میں تیار ہونے والی معیاری مصنوعات کی 25 سے 40 فیصد خریداری کرے گی‘ہر ماہ صنعت کے وزیر اور سکریٹری صنعت کاروں کے ساتھ میٹنگ کریں گے: سمراٹ

پٹنہ، 5 نومبر: (اے بی این ) بہار کو صنعتی اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کے لیے ریاستی حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعت کاروں کے مسائل کے فوری حل کی سمت میں اہم پہل کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا ہے کہ اب ہر ماہ وزیر صنعت کی سطح پر بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن (بی آئی اے) اور دیگر صنعتی تنظیموں کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ ان اجلاسوں میں صنعت کاروں کے مسائل، سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور صنعتی پالیسیوں میں ضروری تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ متعلقہ اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کی شرکت بھی یقینی بنائی جائے گی، تاکہ مسائل کا حل صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات ہوں۔وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کی 82ویں سالانہ تقریب کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صنعت ان میٹنگوں کی نگرانی کرے گا اور ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ کی سطح سے بھی ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز اور مسائل کے حل کے لیے حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرے گی۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ 1943 میں قائم ہونے والی بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن گزشتہ 82 برسوں سے ریاست کی صنعتی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار کو خوشحال بنانے کے لیے جو بنیاد رکھی، حکومت اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے ترقی یافتہ ہندوستان اور خوشحال بہار کے عزم کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں ریاست میں ایک ہزار سے زائد بڑی صنعتی اکائیوں کے قیام کی سمت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو زمین اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ صنعتی منصوبوں کی راہ میں حائل انتظامی اور قانونی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں۔ سرمایہ کاری کو نئی رفتار دینے کے لیے سیمی کنڈکٹر، گلوبل کیپبیلٹی سینٹر (جی سی سی)، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پالیسیاں تیار کی گئی ہیں، جبکہ فارماسیوٹیکل پالیسی بھی مکمل ہو چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت صنعتوں کے قیام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ سرکاری کارروائیوں کو بھی آسان بنا رہی ہے۔ ’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘ کے تحت 30 دنوں میں صنعتوں کو این او سی دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں منظوری نہ ملنے کی صورت میں خودکار منظوری کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’سہیوگ پروگرام‘ کے تحت گزشتہ پانچ ماہ میں عام لوگوں سے موصول ہونے والی 13 لاکھ درخواستوں میں سے 96 فیصد کا نمٹارہ کیا جا چکا ہے۔صنعتی توسیع کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گیا میں انڈسٹریل مینوفیکچرنگ کلسٹر تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ ریاست میں 12 نئے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان ٹاؤن شپ میں رہائشی سہولیات کے ساتھ صنعتی کوریڈور، اسکول، کالج اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ پاٹلی پترا ٹاؤن شپ کے لیے تقریباً 80 ہزار ایکڑ زمین پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس میں زمین دینے والے مالکان کو ترقی یافتہ زمین کا 55 فیصد حصہ واپس کرنے کی تجویز ہے۔ رضامندی سے زمین دینے والوں کو چار گنا معاوضے کے علاوہ 10 فیصد اضافی رقم بھی دی جائے گی۔بجلی کے شعبے میں بڑے ہدف کا اعلان کرتے ہوئے سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں بجلی کی دستیابی اور کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے بجلی کی کھپت تقریباً 300 سے 350 میگاواٹ تھی، جو اب بڑھ کر 10 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ حکومت نے 2030 تک 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے شمسی توانائی، پمپڈ اسٹوریج، تھرمل اور بیٹری اسٹوریج پلانٹ قائم کرنے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور پانی کی وافر دستیابی ریاست میں بڑے صنعتی منصوبوں کے قیام کے لیے بنیادی شرط ہے۔سیلاب اور دریاؤں میں گاد جمع ہونے کے مسئلے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے گاد کے انتظام سے متعلق پالیسی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال گنگا، گنڈک اور سون ندیوں میں پانی کی سطح کافی بلند رہی۔ سون میں تقریباً 11.5 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گنگا کی آبی سطح گزشتہ 100 برسوں میں سب سے زیادہ رہی۔ دریاؤں کے بہتر انتظام اور گنگا کی صفائی کے لیے بھی کام جاری ہے۔ گاد کے استعمال کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے آنے والے برسوں میں مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کی اقتصادی خوشحالی کے لیے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ ریاست میں بڑی یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں اور اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کے ذریعے طلبہ کو انجینئرنگ، میڈیکل اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ہر سال تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ ضلع اور سب ڈویژنل اسپتالوں میں سہولیات بہتر بنائی جائیں گی، تاکہ مریضوں کو معمولی علاج کے لیے بڑے اسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

مقامی صنعتوں کو تحفظ اور بازار فراہم کرنے کے لیے حکومت نے سرکاری خریداری میں بھی ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 50 کروڑ روپے تک کے سرکاری ٹینڈروں میں بہار سے وابستہ صنعت کاروں کو ترجیح دی جائے گی۔ بہار خریداری ترجیحی پالیسی کے تحت ریاست میں تیار ہونے والی معیاری مصنوعات کی 25 سے 40 فیصد خریداری ریاستی حکومت کرے گی۔ اس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ریاست کی دولت کا فائدہ مقامی معیشت کو پہنچے گا۔انہوں نے ضلعی معیشت کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ضلع میں دستیاب زمین اور وسائل کا بہتر استعمال کرکے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف اضلاع کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار اپنی تقدیر بدلنے کے لیے تیار ہے اور 14 کروڑ لوگوں کی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت، صنعت کاروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

بہار کی مزید خبریں

سب دیکھیں