مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
بہار

کھاد کی کمپنیوں کی من مانی برداشت نہیں کی جائے گی: وجے کمار سنہا

Awaz E Bihar3 منٹ کی پڑھائی

فارم جاری کرنے اور کھاد کی فراہمی میں امتیازی رویہ اپنانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ، شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے فروخت کنندہ کو کھاد فراہم کرنے کی یقین دہانی

پٹنہ: بہار میں کھاد کی تقسیم کے نظام میں بعض کمپنیوں کی مبینہ من مانی اور امتیازی پالیسی پر ریاستی حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ریاست کے وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے متعلقہ افسران کو معاملے کی جانچ کرکے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسانوں اور کھاد فروخت کرنے والے تاجروں کے مفادات کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آج بعض کھاد فروخت کنندگان نے وزیر زراعت سے ملاقات کرکے شکایت کی کہ کچھ کھاد کمپنیاں ان تاجروں کو کھاد فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہیں جو کھاد کے ساتھ دیگر مصنوعات کی لازمی ٹیگنگ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنیاں منتخب فروخت کنندگان کو ہی فارم-او جاری کر رہی ہیں اور انہی کو ترجیحی بنیاد پر کھاد فراہم کی جا رہی ہے۔

اس امتیازی طرزِ عمل کے نتیجے میں مختلف اضلاع میں کھاد کی تقسیم کا نظام غیر متوازن ہوگیا ہے۔ بعض فروخت کنندگان کے پاس ضرورت سے زیادہ کھاد موجود ہے، جبکہ دیگر تاجروں کو مطلوبہ مقدار میں کھاد نہیں مل پا رہی ہے۔ اس کا خمیازہ کسانوں کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے اور انہیں کھاد کے حصول کے لیے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شکایت کرنے والے تاجروں نے کمپنیوں کے اس رویے سے ناراض ہوکر اپنے کھاد فروخت کرنے کے لائسنس تک واپس کرنے کی بات کہی۔

وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے زراعت کے ڈائریکٹر مکیش کمار لال کو پورے معاملے کی مناسب جانچ کرکے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر کی ہدایت پر متعلقہ کمپنی کے علاقائی منیجر کو محکمہ میں طلب کیا گیا اور وزیر کی موجودگی میں اس معاملے پر میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد متعلقہ کمپنی سے فوری رابطہ کرکے ضروری ہدایات دی گئیں۔

محکمہ کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں متعلقہ کمپنی نے شکایت کرنے والے کھاد فروخت کنندہ کو فوری طور پر فارم-او جاری کردیا اور کھگڑیا ریک پوائنٹ سے کھاد فراہم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔ اس طرح شکایت کنندہ کی پریشانی کا فوری حل نکالا گیا۔

وزیر زراعت نے کہا کہ ریاستی حکومت اور محکمہ زراعت کھاد کمپنیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے بدلے کمپنیوں سے بھی توقع ہے کہ وہ بہار کے کسانوں اور کھاد فروخت کنندگان کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ریاست کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے بتایا کہ چھٹھ تہوار کے بعد کھاد کمپنیوں کے کام کاج، فارم-او کے اجرا، کھاد کی الاٹمنٹ اور ضلعی سطح پر تقسیم کے نظام کا وسیع پیمانے پر جائزہ لیا جائے گا۔

وجے کمار سنہا نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی کمپنی جان بوجھ کر بہار کے کسانوں یا کھاد فروخت کنندگان کو پریشان کرتی ہے یا کھاد کی تقسیم میں امتیازی پالیسی اختیار کرتی ہے تو اس کے خلاف کھاد کنٹرول آرڈر (Fertiliser Control Order) کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر متعلقہ کمپنی کی سرکاری سبسڈی روکنے سمیت دیگر اقدامات کے لیے مرکزی حکومت کو بھی مطلع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں کھاد کی دستیابی اور تقسیم کے نظام کو شفاف، متوازن اور کسان دوست بنانا محکمہ کی اولین ترجیح ہے۔ بہار میں کھاد کا کاروبار ضابطوں، شفافیت اور یکساں مواقع کی بنیاد پر چلے گا، نہ کہ کسی کمپنی کی من مانی سے۔ کسانوں کو بروقت اور مناسب مقدار میں کھاد فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

بہار کی مزید خبریں

سب دیکھیں