فرانس میں تعلیمی معیار کے خلاف احتجاج، 700 سے زائد اسکول متاثر، 1747 افراد گرفتار
Awaz E Bihar
••2 ویوز•4 منٹ پڑھیں
فرانس میں تعلیمی معیار کے خلاف ہزاروں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور 700 سے زائد اسکول متاثر ہوئے۔ ہائی اسکول کے طلبہ اور دیگر مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں حد سے زیادہ بھیڑ اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ لوراں نُنیز نے جمعہ کو بتایا کہ 1747 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ احتجاج گزشتہ ہفتے دارالحکومت پیرس سے شروع ہوا تھا اور اب ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گیا ہے۔ مون پلیے، نانت اور مارسیلے سمیت کئی شہر متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اانصاف جیرالڈ درماناں نے کہا کہ صورتحال ہائی اسکول طلبہ کے مظاہروں سے امن و امان کے مسئلے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق فرانس کے 3700 اسکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح ان پرتشدد احتجاج سے متاثر ہوئے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نُنیز نے جمعہ کی رات فرانس کے ٹی ایف 1 ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے کہاہم فسادات اور شہری تشدد کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اسے ختم کرنے کے لیے تمام درمیانی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ ادھر وزیر تعلیم ایڈوارڈ گیفری نے کہا کہ اس تحریک کو غیر طلبہ عناصر نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی سے کہا کہ اساتذہ نے بتایا ہے کہ میرے سامنے موجود لوگ میرے طلبہ نہیں تھے۔ جمعہ کو شمال مشرقی فرانس کے شہر بیلفور میں احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بنائے جانے کے معاملے میں 17 سالہ نوجوان کو اقدامِ قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔ بی بی سی نے دو ویڈیوز کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک شخص کو، جس کی بعد میں ایک وزیر نے پولیس اہلکار کے طور پر شناخت کی، تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں نوجوانوں کا ایک گروپ اس کا پیچھا کرتا، اسے زمین پر گراتا اور سر پر کئی مرتبہ گھونسے اور لاتیں مارتا دکھائی دیتا ہے۔ وزارت تعلیم کے مطابق بدامنی کے دوران کم از کم 65 عملے کے ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ پیرس کے مضافاتی علاقے پینتین میں پولیس نے مظاہرین پر کارروائی کی اور اہلکاروں پر اشیا پھینکے جانے کے بعد کئی افراد کو گرفتار کیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسٹراسبرگ میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ رین اور پیرس میں کچرے کے ڈبوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ 16 سالہ مظاہرہ کار لولا نے جمعہ کو اے ایف پی سے کہاجہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم جیت گئے ہیں، ہمارا اسکول آج صبح بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائیوں سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ان کے بقولاس سے ہم مزید ناراض ہوتے ہیں، پولیس کو ہم پر حملہ کرنے یا آنسو گیس استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پولیس نے مظاہرین سے ضبط کی گئی بعض اشیا کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں پٹرول بم، ایک کلہاڑی اور نام نہاد مارٹر آتش بازی شامل ہے۔ وزارت تعلیم کے مطابق اسکولوں کے دروازوں، داخلی راستوں اور باڑوں پر حملوں کے بعد تعلیمی اداروں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ علاقائی حکومت کے مطابق نانت میں نیلسن منڈیلا ہائی اسکول کو 20 لاکھ یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا، جہاں آگ لگنے سے شیشے کا داخلی دروازہ اور عمارت کے کچھ اندرونی حصے تباہ ہوگئے۔ اسکولوں میں ناکہ بندی اور احتجاج گزشتہ ہفتے شروع ہوئے تھے، جو بعد میں ملک بھر کے سینکڑوں اسکولوں تک پھیل گئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے اوقات بہت طویل ہیں، کلاس رومز بہت گرم ہیں اور عملے کے بہت سے ارکان کام سے غیر حاضر رہتے ہیں۔یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے لیے سیاسی طور پر اہم مرحلہ ہے اور اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں تقریباً چھ ماہ باقی ہیں۔