آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
Awaz E Bihar••9 ویوز•6 منٹ پڑھیں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔سی بی ایس نیوز کے پروگرام 'فیس دی نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز قبول کرتا ہے تو ایران اپنے ہر وعدے کی پابندی کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور وسیع تر جوہری معاہدے کی جانب ابتدائی قدم کے طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات مشکل ہوگی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی ''بداعتمادی کی فضا'' موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ''جب تک وہ ہمارے خلاف روزانہ عائد کیے جانے والے اقدامات بند نہیں کرتے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وہ ہر روز ہم پر پابندیاں بڑھاتے ہیں، ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، ہر روز ہم پر حملے کرتے ہیں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرتے۔ تو اگر وہ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں تو کیا وہ واقعی اپنے وعدے پورے کریں گے؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بجائے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے ہوئے۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے چین کی جانب سے اس معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ''ایران بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس مفاہمت کی طرف واپس جانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم بدھ کو عالمی ادارے سے خطاب میں پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ایک روز بعد انہوں نے فاکس نیوز سے کہا کہ ایران جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتا، تاہم اسے ختم کرنا واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ ادھر عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی، تاہم ان مذاکرات سے فوری طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے تباہ کرنے کے حوالے سے انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی تجویز پر واشنگٹن کے جواب کے متوقع وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز قبول کیے جانے کے فوراً بعد مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، اگر یہ پیغام امریکی صدر، ان کے انٹرویو لینے والوں یا مذاکرات میں شامل افراد تک پہنچتا ہے تو جیسے ہی وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہو جائے گا۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آبی راستوں، بشمول عمانی حدود سے گزرنے والے راستوں، پر کنٹرول نہ رکھے اور بحری جہازوں سے ٹیکس یا فیس وصول نہ کرے۔ دوسری جانب ایران کا مطالبہ ہے کہ جہاز اس کی اجازت حاصل کریں اور ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال کریں۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران دونوں ملکوں کے درمیان پہلے طے پانے والے فریم ورک کی پابندی کرے گا۔ انہوں نے کہا، ''اگر وہ اسی فریم ورک کے مطابق عمل کرتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہم سب بھی اس کی پابندی کریں گے۔ یہ تجویز جولائی میں 60 روزہ جنگ بندی یا مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا تھا۔ ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران یورینیم افزودگی کے اپنے پروگرام میں نمایاں توسیع کی ہے، جس میں ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی خالصیت کے قریب افزودگی بھی شامل ہے۔ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کرتا ہے، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ ٹرمپ نے ایران سے یورینیم افزودگی مکمل طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ میں طے پانے والے 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ سخت ہے، جس کے تحت محدود افزودگی کی اجازت بین الاقوامی پابندیوں اور نگرانی کے ساتھ دی گئی تھی۔ تاہم پزشکیان نے کہا کہ ایران اب اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جوہری معائنہ کی اجازت دے گا تو انہوں نے کہا، ''یہ بالکل درست ہے۔ ان سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ کیا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ایران میں رسائی دی جائے گی، جس پر پزشکیان نے پھر کہا، ''یہ بالکل درست ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئی اے ای اے رسائی چاہتی ہے تو مذاکرات کے دوران ایران معائنوں سے متعلق معاہدے اور مفاہمت طے کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پزشکیان نے ایک بار پھر کہا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے بقولجوہری ہتھیار تیار کرنا حرام ہے اور اسلام میں اس کی ممانعت ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق خدشات کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے ان خدشات کو مسترد کر دیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس سال کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں اپنے والد اور سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے زیادہ تر منظرعام سے دور رہے ہیں۔ پزشکیان نے بتایا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای سے دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں، جن میں ایک ملاقات سات گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صحت سے متعلق کوئی خاص جاری مسئلہ یا دشواری'' درپیش نہیں ہے۔ پزشکیان نے کہا، طبی نقطۂ نظر سے وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا کہ ان کے چہرے اور ٹانگوں کے زخم بھی ٹھیک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، 'یہ بات ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میری طرف سے سنیں اور اسے تسلیم کریں۔