دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
Awaz E Bihar••9 ویوز•6 منٹ پڑھیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا پرجوش استقبال کیا اور بدھ کو میری لینڈ میں ایک فوجی اڈے پر ذاتی طور پر ان کا خیرمقدم کیا۔ تین روزہ سربراہ اجلاس ایسے وقت شروع ہوا ہے جب تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران میں جنگ کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بدھ کی شام جوائنٹ بیس اینڈریوز میں شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا غیر معمولی طور پر شاندار استقبال کیا۔ تقریب میں 100 فٹ (30 میٹر) طویل سرخ قالین، فوجی طیاروں کی پرواز، 21 توپوں کی سلامی اور امریکی فضائیہ کے بینڈ نے شرکت کی۔شی کا ایئر چائنا طیارہ مقامی وقت کے مطابق شام 5:39 بجے اترا، جس کے بعد سرخ قالین کے دونوں جانب فوجی اعزاز اور گارڈ آف آنر تعینات ہوگئے۔ ٹرمپ اور میلانیا صدارتی لیموزین ''دی بیسٹ میں پہنچے اور طیارے کی جانب چل کر چینی صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔دونوں جوڑوں نے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کے بعد ایک ساتھ سرخ قالین پر چلتے ہوئے تصاویر بنوائیں۔امریکی فوج کے ایئر فورس بینڈ کی جانب سے قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران دو بی-1 بمبار طیاروں نے اوپر سے پرواز کی۔ اس کے علاوہ استقبال کے سلسلے میں چھ ایف-16 اور چھ ایف-22 طیارے بھی رن وے پر موجود تھے۔ٹرمپ کا خود فوجی اڈے پر پہنچ کر شی کا استقبال کرنا اس دورے کی واشنگٹن کے لیے اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 1962 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی صدر نے فوجی اڈے پر کسی غیر ملکی رہنما کا ذاتی طور پر استقبال کیا ہے۔ اس وقت کے صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میکملن کا یہاں استقبال کیا تھا۔ شی کا واشنگٹن کا دورہ، جو 2015 کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے، ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں کئی برس کی تجارتی کشیدگی کے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے لیے ان کے درمیان مسابقت بھی جاری ہے۔ دونوں رہنماؤںکی وائٹ ہاؤس میں بند کمرے میں ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد سرکاری عشائیہ ہوگا۔ بات چیت کے ایجنڈے میں محصولات، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران جنگ کے وسیع تر اثرات شامل ہونے کی توقع ہے، جبکہ دونوں فریق ایک نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی بھی کوشش کریں گے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ نے محصولات پر جنگ بندی کو جنوری تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ انتظام، جو اصل میں 10 نومبر کو ختم ہونا تھا، بعض اشیا پر محصولات میں کمی اور چین کی جانب سے نایاب ارضی عناصر کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر روکنے کا باعث بنا۔بیسنٹ نے چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ آیا یہ عارضی انتظام بالآخر کسی وسیع تر تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔انہوں نے کہاہم صرف بوسان انتظام کو جاری رکھنے یا بڑے معاہدے پر غور کرنے کے دونوں امکانات کے لیے تیار ہیں۔تجارتی جنگ بندی 2025 میں کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد ہوئی تھی، جب دونوں ملکوں کی جانب سے عائد کردہ محصولات ایک موقع پر 100 فیصد سے بھی تجاوز کرگئے تھے، جس کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر مذاکرات شروع کیے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق شی نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر زور دیا۔انہوں نے کہادونوں ملکوں کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ اور چین کو عظیم ممالک اور ان کے عوام کوعظیم عوام قرار دیا۔شی نے کہاچینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کو حقیقت میں بدلنا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا مکمل طور پر ایک ساتھ وجود میں آسکتے ہیں، ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں اور دنیا کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کا دورہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ شی کے ہمراہ اعلیٰ سطحی چینی حکام بھی واشنگٹن پہنچے ہیں، جن میں کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن کائی چی، نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ اور وزیر خارجہ وانگ یی شامل ہیں۔مصنوعی ذہانت بھی بات چیت کا اہم موضوع متوقع ہے، کیونکہ واشنگٹن اور بیجنگ جدید چپس اور اے آئی ٹیکنالوجی کے میدان میں مسابقت کر رہے ہیں۔ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایسا نوٹیفکیشن نظام تجویز کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے واقعات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرسکیں گے۔وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ جدید کمپیوٹر چپس پر تجارتی پابندیاں اہم مسئلہ رہیں گی، اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے اینویڈیا کو بعض منظور شدہ چینی صارفین کو کچھ چپس فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔وائٹ ہاؤس نے شی کے لیے مکمل فوجی استقبال کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں فوجی بینڈ، مسلح افواج کا مکمل اعزازی دستہ اور بی-2 اسپرٹ بمبار اور چار ایف-22 ریپٹر طیاروں پر مشتمل فضائی مظاہرہ شامل ہوگا۔ٹرمپ اور شی کی اوول آفس میں دو طرفہ ملاقاتیں طے ہیں، جس کے بعد چینی صدر اور پینگ لی یوان صدر اور خاتون اول کی میزبانی میں سرکاری عشائیے میں شرکت کریں گے۔دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے دوران میلانیا ٹرمپ کے پینگ لی یوان کے ساتھ اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ کے دورے پر جانے کی بھی توقع ہے۔سرکردہ امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری اداروں کے کئی اعلیٰ عہدیدار بھی سرکاری عشائیے میں شرکت کریں گے، جن میں اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ، کوالکوم کے سی ای او کرسٹیانو آمون، اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین اور جے پی مورگن کے سی ای او جیمی ڈائمن شامل ہیں۔دورہ جمعہ کو اختتام پذیر ہوگا۔ توقع ہے کہ ٹرمپ اور میلانیا چینی صدر شی اور پینگ کے ساتھ چائے کی نشست کریں گے، جس کے بعد چینی جوڑا نیشنل آرکائیوز کا دورہ کرے گا اور پھر چین روانہ ہوجائے گا۔