اتوار، 4 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ہندوستانی ہونے کے لیے کسی مخصوص مذہب، زبان یا نعرے کی شرط نہیں: پروفیسر اپوروانند
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

ہندوستانی ہونے کے لیے کسی مخصوص مذہب، زبان یا نعرے کی شرط نہیں: پروفیسر اپوروانند

Awaz E Bihar
•4 اکتوبر، 2026 کو 07:14 PM•1 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ: سابق وزیر اور معروف سماجی کارکن پروین امان اللہ کی تیسری برسی کے موقع پر ہوٹل ری پبلک، ایکزبی شن روڈ، پٹنہ میں ’’ہندوستانی ہونے کی مشکل: جمہوریت میں سیکولرازم کا کیا مفہوم ہے؟‘‘ کے موضوع پر معروف دانشور و پروفیسر اپوروانند نے ایک پرمغز اور فکر انگیز لکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستانی ہونے کی تعریف کو مختلف پیمانوں سے پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ملک کے جمہوری اور سیکولر مزاج کے لیے تشویش ناک ہے۔پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ 2019ء ہندوستان کی سیاسی و سماجی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اسی سال بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ 1949ء میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا غیر قانونی تھا اور دسمبر 1992ء میں مسجد کا انہدام بھی قانون کی خلاف ورزی تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ کسی مندر کو توڑ کر وہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے باوجود رام مندر کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسی دور میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے ذریعے شہریت کے معاملے میں مذہب کو شامل کیا گیا۔ یہ ہندوستانی آئین کی بنیادی روح اور سیکولر جمہوریت کے تصور کے حوالے سے ایک اہم سوال ہے کہ کیا کسی شہری کی شہریت کا تعین اس کے مذہب کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے سلسلے میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ہندوستانی شہری ہونے کے باوجود انہیں حراستی مراکز میں بھیجنے یا بنگلہ دیش بھیجنے کی کوشش کی گئی، جبکہ بنگلہ دیش بھی بعض ایسے افراد کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ صورتحال انسانی حقوق اور شہریت کے بنیادی تصور پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد وہاں زمین خریدنے اور شادی سے متعلق جو باتیں سامنے آئیں، انہیں بھی ہندوستانی قومیت کے بدلتے ہوئے تصور کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب بعض جگہوں پر وندے ماترم پڑھنے یا مخصوص قومی اظہار کو حب الوطنی کے پیمانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستانی ہونے کے لیے کسی خاص مذہب، زبان، لباس، نعرے یا گیت کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ ہندوستانی ہونے کی اصل بنیاد آئین، مساوات، آزادی، انصاف اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شناخت اس کے تنوع میں ہے اور جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوگی جب ہر شہری کو بلاامتیاز برابر کا ہندوستانی تسلیم کیا جائے۔ پروین امان اللہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی انصاف، جمہوری اقدار، خواتین کے حقوق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے وقف کی۔ ان کی برسی کے موقع پر ایسے موضوع پر گفتگو دراصل ان کے نظریات اور جدوجہد کو خراج عقیدت بھی ہے۔لکچر کے آغاز سے پہلے پروین امان اللہ کے خالو جان ۹۰ سالہ سابق ایم ایل سی وصی احمد نے انکی سماجی زندگی پر مدلل روشنی ڈالی ۔ اس کے پہلے انکے شوہر سابق آئی اے ایس افضل امان اللہ مہمانوں اور اسپیکر کا استقبال کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز کیا ۔ وہیں آخر میں رحمت امان اللہ نے شاندار انداز میں شکریہ کی تجویز پیش کی۔ اس لکچر میں پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جناب ختیم رضا، جسٹس میہر جھا ، معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبد الحئی، فرحت حسن ، احسان احمد سابق آئی اے ایس ، نئیر حسنین خاں، اے ڈی جے، سابق ممبران اسمبلی گجندر شاہی عرف منا شاہی ، ڈاکٹر آظہار احمد ، بی پی ایس سی کے سابق ممبر شہنواز خاں، امیر آفاق احمد فیضی، ایس ایم پرویز عالم ، بہار اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین نوشاد احمد،ڈاکٹر غیاث الدین راعی، ڈاکٹر انوارالہدیٰ ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، فہیم احمد ، تنویر رضوی، شہاب رضوی، اسعد اللہ خاں، راشد رضا خاں، اسفر احمد وارڈ کونسلر، قیس احمد، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، شہز اد انور انصاری،شمیم انصاری، مبین الہدیٰ، افتخار احمد ، آفاق احمد ،ریاض احمد ،شارق بلال، محمد آزاد، فخرالدین، پروفیسر اقبال شیرازی، ارشد اجمل، روپیش ، افضل حسین ، اقبال امام ، کے علاوہ سید منور اشرف ، عظمت امان اللہ، اریب یوسف امان اللہ، وغیرہ موجود تھےْ

شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

More from بہار

بیماری سے لڑنے کا سب سے بڑا ہتھیار بیداری ہے: گورنر
بہار

بیماری سے لڑنے کا سب سے بڑا ہتھیار بیداری ہے: گورنر

4 اکتوبر، 2026
بیلٹرون کے 20 ہزار سے زائد ملازمین ریاستی ملازم کا درجہ پانے کیلئے جدوجہد جاری
بہار

بیلٹرون کے 20 ہزار سے زائد ملازمین ریاستی ملازم کا درجہ پانے کیلئے جدوجہد جاری

4 اکتوبر، 2026
اننت سنگھ نیرج تنازع جے ڈی یو کے گلے کی ہڈی، صدر کا سخت پیغام ٹیم نتیش کمارکیسے سلجھائے گی بگڑتے معاملہ کو؟
بہار

اننت سنگھ نیرج تنازع جے ڈی یو کے گلے کی ہڈی، صدر کا سخت پیغام ٹیم نتیش کمارکیسے سلجھائے گی بگڑتے معاملہ کو؟

4 اکتوبر، 2026
شمس الہدیٰ کو صرف تاریخی ورثہ نہیں، زندہ تعلیمی ادارہ بنانا ہوگا: ابو الکلام قاسمی
بہار

شمس الہدیٰ کو صرف تاریخی ورثہ نہیں، زندہ تعلیمی ادارہ بنانا ہوگا: ابو الکلام قاسمی

4 اکتوبر، 2026
گنڈک ندی میں سیلاب کی شدت کو ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا نے بھی ریکارڈ کیا: وجے چودھری
بہار

گنڈک ندی میں سیلاب کی شدت کو ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا نے بھی ریکارڈ کیا: وجے چودھری

3 اکتوبر، 2026
بہار کو صنعت و ہنرمندی کا مرکز بنانا حکومت کی ترجیح : وزیر اعلیٰ
بہار

بہار کو صنعت و ہنرمندی کا مرکز بنانا حکومت کی ترجیح : وزیر اعلیٰ

3 اکتوبر، 2026