مہاراشٹر جانےوالے 167 مسلم طلباء کو کٹنی اسٹیشن پر اتارا گیا
Awaz E Bihar••157 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ/ کٹںی، 12 اپریل (ایجنسی/ اے بی این)۔ مہاراشٹر جا رہی پٹنہ-پونے ایکسپریس سے ہفتہ کی دیر رات 167 مسلم بچوں کو مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر ریسکیو کیا گیا۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی کے بعد انسانی اسمگلنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور ریلوے پولیس نے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں ٹھہرایا ہے اور معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔دراصل، ہفتہ کی دیر رات محکمہ خواتین و اطفال ترقیات اورآر پی ایف کو ایک سماجی تنظیم سے اطلاع ملی کہ پٹنہ-پونے ٹرین سے بڑی تعداد میں 7 سے 15 سال کے بچوں کو مہاراشٹر لے جایا جا رہا ہے اور انسانی اسمگلنگ کا خدشہ ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف)، جی آر پی ایف، محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کے افسران و ملازمین اور چائلڈ پروٹیکشن آفیسر موقع پر پہنچ گئے۔ ٹرین کے کٹنی اسٹیشن پہنچتے ہی تمام بچوں کو ٹرین سے نیچے اتار کر اپنی نگرانی میں لے لیا گیا۔ ٹرین سے 167 بچے اتارے گئے اور ان کی کونسلنگ کی گئی۔کٹنی آر پی ایف تھانہ انچارج ویریندر سنگھ نے اتوار کو بتایا کہ اطلاع ملی تھی کہ پٹنہ-پونے ایکسپریس میں بڑی تعداد میں بچوں کو مشکوک حالات میں لے جایا جا رہا ہے۔ ٹرین کے کٹنی اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر تین پر پہنچتے ہی آر پی ایف، جی آر پی، محکمہ ترقی نسواں و اطفال اور چائلڈ پروٹیکشن افسران کی مشترکہ ٹیم نے اسے گھیرے میں لے لیا۔ اس کے بعد ٹیم نے بوگیوں سے تمام 167 بچوں کو بحفاظت نیچے اتارا۔ ریسکیو کیے گئے بچے ٹرین کے ایس-1، ایس-2، ایس-3، ایس-4 اور ایس-7 کوچز میں سوار تھے۔ پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر بچے بہار کے رہنے والے ہیں۔ آر پی ایف تھانہ انچارج نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ موجود صدام نامی شخص نے بتایا کہ وہ ان بچوں کو بہار کے ارریہ سے مہاراشٹر کے لاتور میں واقع مدرسے لے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ 100 بچوں کا گروپ ہے، جبکہ باقی بچوں کو دوسرے لوگ لے کر جا رہے تھے۔ خود کو لاتور مدرسے کا استاد بتانے والے صدام کا دعویٰ ہے کہ وہ 10 سال سے بچوں کو وہاں لے جا رہا ہے۔ ان کے مدرسے میں ہر مضمون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انتظامیہ معاملے کی سچائی اور قانونی دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 80 بچوں کو جبل پور کے چائلڈ ہوم اور باقی کو کٹنی کے چائلڈ ہوم میں رکھا گیا ہے۔ بچوں کی سیکورٹی ہماری ترجیح ہے۔ جب تک ہر بچے کے سرپرست سے رابطہ نہیں ہو جاتا اور بچوں کی منتقلی کی ٹھوس وجہ واضح نہیں ہوتی، تب تک انہیں انتظامیہ کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پائے جانے پر کارروائی کی جائے گی۔ چائلڈ پروٹیکشن ٓفیسر منیش تیواری نے بتایا کہ ٹرین سے اتارے گئے اکثر بچیمسلم ہیں۔محکمے کو ان بچوں سے مہاراشٹر لے جا کر مزدوری یا دیگر غیر قانونی کام کرائے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام بچوں کو ا?ر پی ایف تھانے لے جایا گیا ہے، جہاں ان کی کونسلنگ کی جا رہی ہے۔ محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کی ٹیم بچوں کے اہل خانہ اور ان کی رہائش گاہ کے دستاویزات کی تصدیق کر رہی ہے۔ ضلع انتظامیہ ہر پہلو، خاص طور پر انسانی اسمگلنگ کے خدشے کو مدنظر رکھ کر جانچ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے انتظامیہ اور فرقہ پرست سوچ رکھنے والے افراد مدارس جانے والے طلبا کے ساتھ ناروا سلوک کرتے آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید پیجیدہ ہوتا جارہا ہے ۔ آئندہ سال بھی اسی طرح کئی ٹرینوں سے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو ٹرین سے اتار لیا گیا تھا جس کے بعد مسلم تنظیموں کی سخت کوشش کے بعد ان بچوں کو چائلڈ ہوم سےنکالاگیا تھا ۔ مدارس میںجانے والے یہ غریب بچے ہوتے ہیں جو اپنے علاقے کے اساتذہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرون ریاست کا سفر کرتے ہیں اور وہاں تعلیم حاصل کرتے ہیںلیکن جی آر پی ایف اور آر پی ایف کے لوگ ہمیشہ طلبا کو پریشان کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ شوال کے ماہ میں مدرسہ کھل جاتا ہے جہاں بچے حصول تعلیم کیلئے جاتے ہیں ۔افسران کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے بچے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کارروائی کرنی پڑتی ہے ۔