جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

Awaz E Bihar•23 ستمبر، 2026 کو 07:19 PM•19 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نئی دہلی : الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے دو ارکان کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران درج کیے گئے 14 اعتراضات سے متعلق رپورٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں مختلف آرا، تبصرے اور تکنیکی تجاویز معمول کی فیصلہ سازی کا حصہ ہیں۔ کمیشن نے تمام حتمی فیصلے اتفاقِ رائے سے ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم ان اعتراضات میں اٹھائے گئے کئی مخصوص سوالات کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔یہ وضاحت ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے مختلف اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف یا بحال کرنے، انتخابی ڈیٹا تک رسائی اور مغربی بنگال میں اپیلوں سمیت اہم معاملات سے متعلق تھے۔
کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی ادارے میں غور و خوض کے دوران مختلف آرا سامنے آنا فطری ہے اور حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے تحریری نوٹس، تبصرے، تکنیکی تجاویز اور داخلی نگرانی کا نظام معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق ارکان کی جانب سے دی گئی تجاویز کا مقصد انتخابی عمل کو مزید بہتر بنانا اور ووٹروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایس آئی آر سمیت انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، تقریباً 40 نئی پہل اور دیگر انتخابی اصلاحات سے متعلق فیصلے مکمل کمیشن کی رضامندی سے کیے گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف چند داخلی نوٹس اور تبصروں کو سامنے رکھ کر ادارے کے کام کا جائزہ لینا ’تصویر کا صرف ایک پہلو‘ پیش کرتا ہے۔
تاہم، رپورٹ میں جن مخصوص معاملات پر سوال اٹھائے گئے تھے، کمیشن کے بیان میں ان کی تفصیلی وضاحت نہیں ملتی۔ ان میں فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک افسران کی رسائی اور مغربی بنگال میں ووٹروں کے خلاف دائر اپیلوں کی منظوری جیسے معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں وویک جوشی نے فارم 6 میں مجوزہ تبدیلی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی قواعد میں ترمیم کے بغیر فارم میں اس نوعیت کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ایس ایس سندھو نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا تھا۔ بعد میں اگست میں سندھو نے اس تبدیلی کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی بات کہی تھی۔
انتخابی ڈیٹا کے معاملے میں بھی دونوں کمشنروں نے خدشات ظاہر کیے تھے۔ سندھو نے اگست میں کہا تھا کہ بعض ریاستی انتخابی افسران کو ای آر او نیٹ تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہو رہی، جبکہ جوشی نے انتخابی ڈیٹا بیس کے ممکنہ مرکزی کنٹرول اور اس کے آڈٹ کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا۔
الیکشن کمیشن نے دوسری جانب کہا ہے کہ اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سخت ڈیٹا سکیورٹی اور آڈٹ نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور انتخابی افسران اپنے قانونی اختیارات کے مطابق ووٹروں کے اندراج اور نام حذف کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
قومی

معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن

22 ستمبر، 2026