سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 7-7 ہزار روپے، آج ڈی بی ٹی سے کھاتوں میں منتقل ہوگی رقم
••5 views•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 14 ستمبر: (اے بی این )بہار میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو بڑی راحت ملنے والی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری منگل کو ہر متاثرہ خاندان کے بینک کھاتے میں سات ہزار روپے کی انُگرہ امداد ڈی بی ٹی کے ذریعے منتقل کریں گے۔ ریاستی حکومت نے سیلاب متاثرین کو فوری مالی مدد پہنچانے کے لیے ادائیگی کی تیاری مکمل کرلی ہے۔آپدا انتظام محکمہ کے مطابق پیر کی شام تک ریاست کے مختلف اضلاع سے 8 لاکھ 27 ہزار 472 سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مکمل تفصیل حاصل کرلی گئی تھی۔ ان خاندانوں کو فی خاندان سات ہزار روپے کی شرح سے مجموعی طور پر تقریباً 579.23 کروڑ روپے کی انُگرہ امداد دی جائے گی۔ تاہم متاثرہ خاندانوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ کئی علاقوں میں متاثرین کی شناخت اور تفصیلات کی جانچ کا عمل جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی یہ امدادی رقم ڈی بی ٹی کے ذریعے براہِ راست مستحق خاندانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ اس سے متاثرہ خاندانوں کو سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت کا زور اس بات پر ہے کہ امدادی رقم کی ادائیگی میں تاخیر نہ ہو اور مستحق خاندانوں تک براہِ راست مالی مدد پہنچے۔ آپدا انتظام محکمہ کی جانب سے اضلاع سے موصول ہونے والی تفصیلات کی بنیاد پر امدادی رقم کی ادائیگی کی تیاری کی گئی ہے۔ افسران کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خاندانوں کی شناخت اور تفصیلات مرتب کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں سیلاب متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کے مطابق امدادی رقم بھی بڑھ سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے پیر کو یومِ ہندی کی تقریب میں بھی بہار کے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف فوری راحت تک محدود نہیں رہنا چاہتی، بلکہ سیلاب کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ندیاں زندگی اور معیشت کی بنیاد ہیں، اس لیے دریائی نظام کے تحفظ، بہتر آبی انتظام اور ضرورت کے مطابق دریاؤں کو آپس میں جوڑنے پر توجہ دی جارہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ مرکزی وزیر شیو راج سنگھ چوہان کی قیادت میں مرکزی ٹیم بہار آکر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور موجودہ صورت حال کا جائزہ لے گی۔ حکومت کا مقصد سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے کے ساتھ اس قدرتی آفت کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔