چین نے گزشتہ سال ہندوستان کی شمالی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے جبکہ ہندوستانی فوج کی حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) کے تمام سیکٹروں میں ابھی بھی مضبوط تعیناتی ہے، وہیں پاکستان جموں و کشمیر میں دہشت گردی، دراندزی اورجنگ بندی کی خلاف ورزی کے ذریعے بڑا سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔وزارتِ دفاع کی سالانہ رپورٹ 26-2025 میں یہ بات کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی سرحد سے لگتے علاقوں میں چین کی فوج (پی ایل اے) کی تعیناتی میں کافی کمی آئی ہے۔ ایل اے سی اور روایتی تربیتی علاقوں میں تقریباً 10 کمبائنڈ آرمز بریگیڈ کے برابر چینی فوجی تعینات ہیں۔ چینی فوجیوں کی تعدادکم ہونے کے باوجود ہندوستانی فوج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران چین کے ساتھ مسلسل سیاسی، سفارتی اور فوجی بات چیت سے شمالی سرحد پر مثبت تبدیلیاں آئیں اور استحکام کی صورتحال بنی۔ 'ورکنگ میکانزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن' کی 33ویں اور 34ویں میٹنگ گزشتہ سال مارچ اور جولائی میں ہوئی۔ سرحدی تنازع پر خصوصی نمائندوں کے درمیان بات چیت بھی دوبارہ شروع ہوئی اور دسمبر 2024ء اور اگست 2025ء میں یہ میٹنگز ہوئیں۔ کشیدگی میں کمی کا اثر وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ سال اگست میں تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے چین کے دورے اور 25-26 اکتوبر کو مشرقی لداخ میں ہونے والی 23ویں کور کمانڈر سطح کی میٹنگ میں بھی دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، پی ایل اے کے ساتھ ملٹری اہلکاروں کی میٹنگز بھی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہو رہی ہیں۔سال 2020ء میں مشرقی لداخ میں فوجی تعطل کے بعد سے شمالی سرحد ملک کے سب سے حساس سکیورٹی علاقوں میں شامل رہی ہے۔ اس دوران دونوں طرف فوجیوں کی مسلسل تعیناتی اور فوجی بنیادی ڈھانچے کی بڑی توسیع ہوئی۔ تازہ اندازے کے مطابق، فوری فوجی کشیدگی کم ہوئی ہے، لیکن ایل اے سی پر کسی بھی نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری مضبوط بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں مغربی محاذ پر واضح اندازے میں پاکستان کو جموں و کشمیر میں سکیورٹی چیلنج کی اہم وجہ بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جموں و کشمیر میں دہشت گردی مخالف آپریشنز میں 19 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں آٹھ پاکستانی دہشت گرد بھی شامل تھے، جو کل تعداد کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر میں درپردہ جنگ چلانے میں پاکستان کے کردار کو صاف طور پر دکھاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھی پاکستان کا کردار سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سال فوج نے جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے 12 پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایا۔ گزشتہ سالوں کے مقابلے دراندازی کی کوششیں کم ہوئیں، لیکن خطرے کی نوعیت بدل رہی ہے۔ دہشت گردانہ سرگرمیاں اب بین الاقوامی سرحد کی طرف بڑھ رہی ہیں اور ان میں منشیات نیز ہتھیاروں اور دیگر جنگی سامان کی اسمگلنگ شامل ہے۔ سال 2025ء میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے واقعات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی فوج نے 163 خلاف ورزیاں درج کیں، جبکہ 2024ء میں ایسے صرف دو معاملے ہوئے تھے۔ ان میں سے 124 خلاف ورزیاں آپریشن سندور کے دوران ہوئیں۔ یہ مہم 22 اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع کی گئی تھی، جس میں پاکستان میں مقیم دہشت گردوں نے سیاحوں کا قتل کیا تھا۔ گزشتہ سال 10 اور 12 مئی کو ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت کے بعد لائن آف کنٹرول پر صورتحال میں کافی استحکام آیا، تاہم سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس امن کو خطرے کا خاتمہ نہیں سمجھا جانا چاہیے اور صورتحال اب بھی غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ فوج کے اندازے کے مطابق، جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے لیے مقامی حمایت حاصل کرنے کی پاکستان کی صلاحیت میں کافی کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال صرف ایک مقامی نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ دیا ہے اور وہ سرکاری اسکیموں اور پالیسیوں کا بڑھتا ہوا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کے مقامی دہشت گردی کے دعوے کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام لوگوں نے ترقی کا راستہ چنا ہے اور سرکاری نیز فوج کی پہل قدمیوں میں بڑی تعداد میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ فوج کے مطابق، اس کا اثر تشدد میں کمی، مظاہروں میں کمی اور پتھراؤ کے واقعات صفر ہونے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطرہ اب صرف دراندازی اور چھوٹے ہتھیاروں تک محدود نہیں ہے۔ جموں و کشمیر، پنجاب اور راجستھان میں بین الاقوامی سرحد پر فوج نے گزشتہ سال ڈرون کی دراندازی کے 863 واقعات درج کیے۔ ان کے ذریعے منشیات، ہتھیاروں اور دیگر جنگی سامان کی اسمگلنگ کی کوششوں کی نئی شکل سامنے آئی۔ سکیورٹی فورسز نے اس دوران 237 ڈرون مار گرائے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سندور کے دوران کشیدگی کے باوجود فوج نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی صورتحال میں سدھار کا اثر عام لوگوں کی سرگرمیوں میں بھی دیکھا گیا۔ سال 2025ء میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں 2.3 کروڑ سیاح پہنچے، جبکہ شری امرناتھ یاترا میں 4.13 لاکھ عقیدت مند شامل ہوئے۔ فوج کے مطابق، یہ سکیورٹی صورتحال کو لے کر لوگوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔