قطر کے ساتھ 6 ارب ڈالر منجمد اثاثوں کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے:ایرانی صدر
Awaz E Bihar••10 ویوز•4 منٹ پڑھیں
تہران : ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کا قطر کے ساتھ دوحہ میں موجود ایران کے 12 ارب ڈالر کے کل منجمد اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بزشکیان نے کہا کہ "طے پانے والے معاہدوں کے تحت قطر میں موجود ایران کے 12 ارب ڈالر کے کل فنڈز میں سے 6 ارب ڈالر پر سے پابندی ہٹا کر انہیں ملک واپس لایا جائے گا"۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کام "ان فنڈز کے بقیہ حصے کی واپسی پر مرکوز ہے"۔ مطلع ذرائع نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ امریکہ قطر کے تعاون سے ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنے پر کام کر رہا ہے جس سے تہران کو اپنے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ انسانی بنیادوں پر اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت مل سکے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رائیٹرز کے مطابق مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے والی ایرانی اور امریکی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند دنوں میں دوحہ میں ملاقات کرنے والی ہیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ ثالثوں نے کسی بھی حادثے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کے چینلز قائم کر لیے ہیں اور تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔توقع ہے کہ مذاکرات کا یہ سیشن آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی بات چیت کرے گا، جس کی وجہ سے گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان باہمی حملے ہوئے اور یہ معاملہ جنگ بندی کے معاہدے اور دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے متوقع مذاکرات کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ عرصے کے دوران بارہا اشارہ دیا تھا کہ ان کا ملک تہران کو ایک پیسہ بھی نہیں دے گا۔ یہ کہ ایران کے منجمد فنڈز امریکی مصنوعات خریدنے کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ "وہ اپنے پیسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے میں آزاد ہیں"۔ رپورٹ میں بتایا گیا تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پیر کو سوئٹزرلینڈ میں شیڈول ٹیکنیکل کمیٹیوں کے مذاکرات معطل کر دیے گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی افواج پر حملے کیے ہیں اور مزید حملوں کی صورت میں ’’تباہ کن جواب‘‘ دینے کی وارننگ دی ہے۔ پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ بحرین اور کویت میں 8 امریکی تنصیبات پر ایران نے میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا، ایرانی نیوی اور ایئرو اسپیس فورس نے مشترکہ طور پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ حملہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی امریکہ نے کی اور یہ مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کے منافی ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی مزید سخت ہوگی اور اس کے نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں 10 اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔ جنگ بندی کو ابھی صرف 11 دن ہوئے ہیں، مگر یہ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی ہے۔ دونوں جانب سے دوبارہ حملے کیے گئے، جب کہ صدر ٹرمپ نے جنگ دوبارہ شروع کرنے اور ’’کام مکمل کرنے‘‘کی دھمکی بھی دی۔ دوبارہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں، کی دونوں ممالک نے مختلف تشریحات کیں۔