جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران میں اگلے سپریم لیڈر کے نام پر اتفاق، اسرائیل نے جانشیں کو جان سے مارنے کی دی دھمکی
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران میں اگلے سپریم لیڈر کے نام پر اتفاق، اسرائیل نے جانشیں کو جان سے مارنے کی دی دھمکی

Awaz E Bihar•8 مارچ، 2026 کو 02:30 PM•6 ویوز•8 منٹ پڑھیں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد خالی ہوئے عہدے کو پُر کرنے کے لیے 'اسمبلی آف ایکسپرٹس' (ماہرین کی کونسل) نے نئے جانشین کے نام پر تقریباً اتفاقِ رائے کرلیا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی 'فارس' کے مطابق، کونسل کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میر باقری نے تصدیق کی ہے کہ قیادت کے تعین کے لیے 'بڑی کوششیں' کی گئی ہیں اور ایک 'فیصلہ کن اور متفقہ رائے' قائم ہو چکی ہے۔
تاہم، سکیورٹی وجوہات اور مشکل حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ابھی تک نئے لیڈر کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ کونسل کے ایک اور رکن حجت الاسلام جعفری نے کہا کہ تیسرے سپریم لیڈر کے انتخاب میں تاخیر سب کے لیے غیر متوقع ہے، لیکن جلد ہی نتائج سامنے آ جائیں گے۔ واضح رہے کہ 88 ارکان پر مشتمل یہ کونسل ہی آئینی طور پر ایران کے سپریم لیڈر کو منتخب کرنے کی مجاز ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، جنہوں نے 37 سال تک حکمرانی کی، 28 فروری کو تہران میں امریکی-اسرائیلی حملے میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کے انتقال کے ایک ہفتے بعد بھی ایران ان کی جگہ کسی کو لیڈر منتخب نہیں کر سکا تھا اور اس کے بجائے ملک کی کمان ایک تین رکنی کمیٹی کے سپرد کر دی گئی تھی۔ اس تاخیر کی وجہ سے ایران کے کچھ گروہوں میں عدم اطمینان بھی پیدا ہو رہا تھا۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ قیادت کے نام پر ایک چہرہ ضرور ہونا چاہیے، خاص طور پر جنگ کے حالات میں فوج کے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل نے ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر اور ان کے انتخاب میں شامل افراد کو براہِ راست فوجی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے 'طویل ہاتھ' خامنہ ای کے جانشین اور اسے مقرر کرنے والے کسی بھی شخص کا پیچھا جاری رکھیں گے۔ آئی ڈی ایف نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "ہم آپ کو نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ اسے اپنے لیے وارننگ سمجھیں۔"باضابطہ نام کا اعلان ابھی بھلے نہ ہوا ہو لیکن ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طاقتور عہدے کے لیے کئی نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں پہلا نام آیت اللہ محمد مہدی میر باقری کا ہے۔ وہ 'اسمبلی آف ایکسپرٹس کے بااثر رکن اور ملک کے اہم رہنما ہیں۔ حال ہی میں ویڈیو پیغامات میں ان کے فعال موقف اور 'متفقہ رائے کے ان کے اعلان نے انہیں اس دوڑ میں سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر قائم کیا ہے۔ انہیں خامنہ ای کے نظریات کا سخت حامی مانا جاتا ہے۔اس فہرست میں دوسرا نام مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔ وہ مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ اگرچہ ایران میں قیادت موروثی نہیں ہے، لیکن مذہبی اور فوجی حلقوں بالخصوص پاسدارانِ انقلاب (رولوشنری گارڈز) میں ان کا گہرا اثر ہے۔ پردے کے پیچھے سے اقتدار چلانے میں ان کا رول طویل عرصے سے اہم رہا ہے۔
تیسرا نام علی رضا عارفی کا ہے۔ وہ ایران کے مدارس کے سربراہ اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن ہیں۔ ان کی شناخت ایک سنجیدہ عالم اور انتظامی تجربہ رکھنے والے رہنما کی ہے، جو مختلف دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ حجت الاسلام جعفری کا نام بھی سامنے آ رہا ہے، جو اس کونسل کے رکن ہیں اور انہوں نے حال ہی میں عوام سے 'صبر' کی اپیل کی ہے۔ ان کا نام ایک 'متفقہ' امیدوار کے طور پر زیرِ بحث ہے، جو موجودہ مشکل وقت میں ملک کو استحکام دے سکیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتخاب کے عمل کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ نئے سپریم لیڈر کی تقرری نہ صرف ایران کی اندرونی سیاست بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کی سمت کا بھی تعین کرے گی۔
مسٹر ٹرمپ کے جواب کے بعد، ایران نے دیر شام وضاحت جاری کی، جس میں کہا گیا کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "ایران کی دفاعی کارروائی خاص طور پر ان اڈوں اور تنصیبات کے خلاف ہے جو ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا ذریعہ ہیں اور ہم انہیں اپنے جائز اہداف سمجھتے ہیں۔ ہم نے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔" عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس اتوار کے روز ہوگا جس میں خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور کئی عرب ممالک پر مبینہ ایرانی حملوں پر غور کیا جائے گا۔ عرب لیگ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل حسام ذکی نے ہفتے کے روز یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اہم اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ مسٹر ذکی کے مطابق، ہنگامی اجلاس کی درخواست کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر جیسے اہم رکن ممالک نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے مشترکہ عرب موقف قائم کرنا ہے۔
اس سے قبل ایرانی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے بحرین اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون داغے تھے۔ تاہم اس نے آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے حکام نے واضح کیا کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کھلی ہے، لیکن خبردار کیا کہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔ آئی آر جی سی نے ہفتے کے روز "پریما" نامی آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی، جس نے مبینہ طور پر ایرانی انتباہات کو نظر انداز کیا تھا۔
ایرانی حملوں سے مغربی ایشیا میں فضائی حدود متاثر ہوئی ہيں اور دبئی جیسے مصروف ہوائی اڈوں پر آپریشن متاثر ہے۔ ہفتے کے روز دبئی ایئرپورٹ پر کئی ڈرون حملوں سے کئی گھنٹوں تک فلائٹ آپریشن روک دیا گیا۔ اس کی وجہ سے خطے کی معروف ایئر لائن ایمریٹس نے فلائٹ آپریشن معطل کر دیا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع نے بھی بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنانے کی تصدیق کی، دوحہ میں سکیورٹی الرٹ جاری کرکے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے، قطر ایئرویز نے اعلان کیا کہ وہ کل لندن، پیرس، میڈرڈ، روم، فرینکفرٹ، اور بنکاک سے دوحہ کے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک پروازیں چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ قطر ایوی ایشن اتھارٹی سے عارضی اجازت ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔ بحرینی فوج نے اطلاع دی ہے کہ حملے شروع ہونے کے بعد سے اس نے کئی میزائل اور ڈرون مار گرائے ہیں۔ سعودی عرب نے بھی ہفتے کی صبح اپنے وسیع شیبہ آئل فیلڈ کی طرف بڑھنے والے 16 ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ہفتے کے روز علی الصبح ایرانی دارالحکومت تہران اور وسطی ایران میں کئی اہم فوجی اہداف پر شدید فضائی حملے شروع کیے۔ ان اہداف میں ایک زیر زمین بیلسٹک میزائل فیکٹری اور ایک بڑی ملٹری اکیڈمی شامل تھی۔ آئی ڈی ایف کے مطابق، 80 سے زائد جنگی طیاروں نے آپریشن میں حصہ لیا اور مقررہ اہداف پر تقریباً 230 بم گرائے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حملوں کے اہم اہداف میں بڑی زیر زمین تنصیب شامل تھی جو بیلسٹک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے اور بنانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ ایرانی مسلح افواج کے سینکڑوں اہلکار اس سہولت مین کام کر رہے تھے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ کے اندر حکومت کے کئی بنکر اور اہم فوجی ہیڈکوارٹر موجود تھے۔
آئی ڈی ایف نے ایک اور میزائل ذخیرہ کرنے کی سہولت کو بھی تباہ کر دیا، جس میں بنکر اور لانچنگ ڈھانچے شامل تھے۔ ان حملوں کے سلسلے میں پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی ملٹری اکیڈمی، امام حسین یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے مطابق اس یونیورسٹی کو جنگ کے دوران آئی آر جی سی کے ہنگامی اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسرائیلی حملے سے وہاں واقع مہران ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا۔
جنگ نئے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ اسرائیلی فوج نے ایران بھر میں ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز پر حملے تیز کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ خاص طور پر ان مراکز کو نشانہ بناتے ہیں جہاں میزائل اور لانچر تیار کیے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے کہا ہے کہ امریکی اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 1,332 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر امیر سعید ایرانی نے ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے سے کہا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 180 سے زائد بچے جاں بحق اور 20 سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026