جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 امریکہ عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل جنگ بندی پر فیصلہ کرے : ایران
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکہ عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل جنگ بندی پر فیصلہ کرے : ایران

Awaz E Bihar•19 اگست، 2026 کو 03:57 PM•18 ویوز•4 منٹ پڑھیں

ایرانی حکام کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک اور عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جنگ کے ’’مستقل خاتمے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ 60 روزہ عبوری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔ یہ بات گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 17 جون کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کرکے حتمی تصفیے کی کوشش کی جانی تھی۔
اس معاہدے کی مدت 17 اگست کو کسی پیش رفت یا توسیع کے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کو ’’جنگ کا خاتمہ، جنگ بندی نہیں‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تیل پر عائد پابندیاں نہیں ہٹاتا، منجمد ایرانی اثاثے جاری نہیں کرتا اور فوجی دھمکیاں ختم نہیں کرتا۔انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد کردیا کہ امریکہ کا بڑھتا ہوا دباؤ تہران کو ان شرائط کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جو مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں تھیں۔قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ ’’ایران پر مزید دباؤ ڈالنے سے ایسی رعایتیں حاصل کی جاسکتی ہیں جو کبھی معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔‘‘انہوں نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی اس نوعیت کا نتیجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں عہدیدار ’’اپنی صلاحیت سے کہیں باہر‘‘ کام کر رہے ہیں۔قالیباف نے مزید کہا، اس مسخرہ ٹیم کے کسی کرتب کے ذریعے آپ کے پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کا انتظار کرنا بند کریں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں، نہ ہی طے شدہ ہے۔ انہوں نے مؤقف برقرار رکھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے اور آبنائے ہرمز ’’کھلی‘‘ہے، جو تہران کے مؤقف سے براہ راست متصادم ہے۔
عبوری معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی تھیں۔ ٹرمپ نے جولائی کے اوائل میں عمان کے راستے سفر کرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد معاہدے کو ''ختم'' قرار دے دیا تھا۔ واشنگٹن نے ان حملوں کا الزام ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) پر عائد کیا تھا، جبکہ تہران نے چند روز بعد معاہدے کو معطل کردیا۔
اس کے بعد سے لڑائی نسبتاً کم شدت کے ساتھ جاری ہے، تاہم آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور بڑے ٹینکر آپریٹرز نے ان دونوں آبی راستوں سے گریز شروع کردیا ہے۔
دونوں ممالک کے موجودہ مؤقف نے سفارت کاری کے لیے گنجائش انتہائی محدود کردی ہے۔ تہران ایک اور عارضی وقفہ قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوبارہ منظم ہونے کا وقت مل سکتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن مستقل تصفیے کی جانب بڑھنے سے قبل سخت تر معاشی دباؤ اور مسلسل ناکہ بندی کے ذریعے اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ بیانات میں تہران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی پر مسلسل زور دیا گیا ہے، جبکہ ایران پر مالی اور تزویراتی دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیاں اب بھی ایک مرکزی ذریعہ ہیں۔
یہ تعطل عالمی توانائی کے شعبے پر بھی سنگین اثرات مرتب کررہا ہے۔ بدھ کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 91.02 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026