جنگ سے تباہ حال غزہ میں تقریباً تین سال بعد بچوں کی اسکول واپسی
Awaz E Bihar••11 ویوز•2 منٹ پڑھیں
فلسطین کی غزہ پٹی میں بچوں نے تقریباً تین سال کی جنگ کے بعد ہفتے کے روز نئے تعلیمی سیشن کا آغاز کیا۔ بچے تباہ شدہ اسکولوں، عارضی تعلیمی مراکز اور خیموں میں پڑھائی کے لیے پہنچے۔ اس دوران اسکولوں میں ڈیسک، کتابوں اور اسٹیشنری کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی تصویر بھی سامنے آئی۔وسطی غزہ کے نصيرات پناہ گزین کیمپ میں والدین اپنے بچوں کو اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے زیرِ انتظام ایک اسکول میں لے کر پہنچے۔ یہاں بچے صبح کی اسمبلی کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے۔ کافی تعداد میں ڈیسک نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بچوں کو کلاس کے فرش پر بیٹھ کر پڑھنا پڑا۔یو این آر ڈبلیو اے کی ایک ٹیچر نے کہا کہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے باوجود بنیادی تعلیمی سامان کی کمی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جنگ کے بعد آج ہمارے پاس کئی ایسی چیزیں موجود نہیں ہیں، جو ہونی چاہیے تھیں۔ ہمارے پاس ڈیسک، اسٹیشنری اور کتابیں ہونی چاہئیں۔ جنگ کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی کا جو نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ کرنے کے لیے ان اشیاء کی فوری ضرورت ہے۔" نصيرات میں اپنے بچے کو اسکول لے کر پہنچنے والی ام علی حمیدہ نے کہا، "ہمارے بچے آج صبح بہت جلدی اٹھ گئے۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ اسکول کیا ہوتا ہے، صبح کی اسمبلی کیا ہوتی ہے یا عام زندگی کیسی ہوتی ہے۔ انہوں نے صرف بمباری اور جنگ دیکھی ہے۔" انہوں نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے وقت ان کا بیٹا تین سال کا تھا اور اب چھ سال کا ہو کر پہلی جماعت میں جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم اسے پڑھائی کے لیے پرائیویٹ ٹیوٹر کے پاس بھیجتے تھے، لیکن اسکول کی تعلیم کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی۔" غزہ شہر میں بچے یونیسیف کی مدد سے خیموں میں قائم کیے گئے تعلیمی مراکز میں پہنچے۔ ان مراکز میں بچے صبح کی اسمبلی کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے اور پھر خیموں میں بنائی گئی عارضی کلاسوں میں پڑھائی کی۔