فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ روکنے کیلیے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیاں بسانے کی منظوری
Awaz E Bihar••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ روکنے کیلیے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید 19 یہودی بستیاں بسانے کی تیاری کرلی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق فیصلے کے بعد گزشتہ تین سالوں کے دوران منظور شدہ یہودی بستیوں کی کُل تعداد 69 ہوگئی۔ واضح رہے کہ حالیہ منظوری اقوام متحدہ کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی یہودی بستیوں کی توسیع کم از کم 2017 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے Judea اور Samaria (مقبوضہ مغربی کنارے) میں 19 نئی بستیوں کے اعلان اور انہیں باقاعدہ شکل دینے کی تجویز کو کابینہ نے منظور کر لیا۔ بیزلیل سموٹریچ بستیوں کی توسیع کے حامی ہیں اور وہ خود بھی ایک آباد کار ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم عملی طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روک رہے ہیں، ہم اپنی آبائی میراث کی سرزمین کو آباد کرنے اور اسے ترقی دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ ہمیں اپنے راستے کی سچائی پر کامل یقین ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے حال ہی میں مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی توسیع کی مذمت کی ہے۔ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبات میں شدت آئی۔ حال ہی میں کئی یورپی ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا نے ایسی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کی جانب قدم بڑھائے ہیں جس پر اسرائیل نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔