آشا بھونسلے: طویل کریئر، ہزاروں نغمے، خاندانی ورثہ اور مسلم سوشل فلموں میں مستند خدمات
Awaz E Bihar••10 ویوز•4 منٹ پڑھیں
برصغیر کی نامور پلے بیک سنگر آشا بھونسلے کا شمار عالمی سطح پر اُن ممتاز گلوکاراؤں میں ہوتا ہے ،جنہوں نے نصف صدی سے زائد طویل کریئر میں ہزاروں نغمے گا کر ایک منفرد اور باوقار مقام حاصل کیا۔ مختلف مستند اندازوں کے مطابق انہوں نے بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جب کہ بعض غیر رسمی دعوؤں میں یہ تعداد بیس ہزار سے بھی زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ 1940 کی دہائی کے اواخر میں اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والی آشا بھونسلے آج بھی موسیقی کی دنیا میں ایک معتبر اور زندہ روایت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آشا بھونسلے نے ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، پنجابی، گجراتی اور دیگر کئی زبانوں میں گائیکی کے جوہر دکھائے اور فلمی صنعت کے تقریباً ہر بڑے موسیقار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی آواز کی لچک، ادائیگی کی نزاکت اور جذباتی گہرائی نے انہیں کلاسیکل، پاپ، غزل، نیم کلاسیکل اور قوالی سمیت ہر صنف میں نمایاں مقام عطا کیا۔ خاص طور پر "مسلم سوشل" فلموں میں ان کی گائیکی نے اردو تہذیب، لکھنوی ثقافت اور نوابی ماحول کی عکاسی میں اہم کردار ادا کیا، جسے ناقدین نے ہمیشہ سراہا ہے۔ خاندانی پس منظر کے اعتبار سے آشا بھونسلے ایک مضبوط موسیقی روایت کی امین ہیں۔ وہ معروف کلاسیکل گلوکار دیناناتھ منگیشکر کی بیٹی اور شہرۂ آفاق گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن ہیں۔ ان کے دیگر بہن بھائیوں میں اوُشا منگیشکر اور مینا کھاڈیکر شامل ہیں، جنہوں نے موسیقی کے میدان میں اپنی خدمات انجام دیں۔ آشا بھونسلے کی ذاتی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے، تاہم انہوں نے ہر مرحلے پر اپنی فنی وابستگی کو برقرار رکھا۔ ان کی شادی معروف موسیقار آر ڈی برمن سے ہوئی، جن کے ساتھ ان کی فنی شراکت نے فلمی موسیقی کو کئی لازوال شاہکار دیے۔ فلمی تاریخ میں آشا بھونسلے کی خدمات ہمہ جہت اور قابلِ قدر ہیں۔ 1960 کی معروف فلم برسات کی رات میں پیش کی گئی قوالیوں میں ان کی آواز نے اس صنف کو نئی مقبولیت بخشی۔ "نہ تو کارواں کی تلاش ہے" اور "نگاہیں ملانے کو جی چاہتا ہے" جیسے نغمات کے خالق ممتاز شاعر ساحر لدھیانوی اور موسیقار روشن تھے۔ ان قوالیوں میں آشا بھونسلے کی شمولیت نے اجتماعی گائیکی کو ایک منفرد رنگ دیا، جو آج بھی موسیقی کے سنجیدہ حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح فلم بہو بیگم میں ان کی آواز نے اردو تہذیب کی عکاسی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فلم کے نغمات میں ساحر لدھیانوی کی شاعری اور روشن کی موسیقی کے ساتھ آشا بھونسلے کی گائیکی ایک دلکش امتزاج کے طور پر سامنے آئی، جس نے کلاسیکی ذوق رکھنے والے سامعین کو متاثر کیا۔ اردو تہذیب کی نمائندہ فلم امراؤ جان آشا بھونسلے کے کریئر کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس فلم کے نغمات "ان آنکھوں کی مستی"، "دل چیز کیا ہے" اور "یہ کیا جگہ ہے دوستو" کو معروف شاعر شہریار نے تحریر کیا جبکہ موسیقی خیام نے ترتیب دی۔ ان گانوں میں آشا بھونسلے نے نہایت مہارت سے جذبات، درد اور تہذیبی نزاکت کو پیش کیا، جس کے باعث یہ نغمات آج بھی اردو موسیقی کے کلاسیکی سرمائے میں شامل ہیں۔ مزید برآں، آشا بھونسلے نے مجروح سلطانپوری، شکیل بدایونی اور دیگر نامور نغمہ نگاروں کے ساتھ کام کیا، جبکہ موسیقاروں میں او پی نیئر، نوشاد اور دیگر شامل ہیں۔ ان تخلیقی اشتراکات نے فلمی موسیقی کو فنی اعتبار سے مزید تقویت بخشی اور آشا بھونسلے کی حیثیت کو ایک ہمہ جہت گلوکارہ کے طور پر مستحکم کیا۔ موسیقی کے ناقدین کے مطابق آشا بھونسلے کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی آواز کی لچک، درست اردو تلفظ، جذباتی ادائیگی اور ہر صنف میں خود کو ڈھال لینے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ یہی اوصاف انہیں قوالی اور مسلم سوشل فلموں کے نغمات میں بھی ایک معتبر اور مستند مقام عطا کرتے ہیں۔ اپنے طویل فنی سفر کے دوران آشا بھونسلے نے نہ صرف ماضی کے سنہرے دور میں بلکہ جدید موسیقی کے زمانے میں بھی اپنی موجودگی کو برقرار رکھا۔ نئی نسل کے موسیقاروں کے ساتھ ان کی ہم آہنگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان کا فن وقت کی قید سے آزاد ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ آشا بھونسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب، زبان اور موسیقی کی ایک جیتی جاگتی علامت ہیں۔ ان کی آواز میں ماضی کی مٹھاس، حال کی تازگی اور مستقبل کی امید سمٹی ہوئی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہے گی۔