بنگلہ دیش: فلک شگاف نعروں کے درمیان عثمان ہادی سپردِ خاک
Awaz E Bihar••1 ویوز•5 منٹ پڑھیں
ڈھاکہ(ایجنسی) :’انقلاب منچ‘ کے کنوینر اور مشہور طلبا لیڈر شریف عثمان ہادی کو آج فلک شگاف نعروں کے درمیان ڈھاکہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی شرکت ہوئی جو کہ عثمان ہادی کو انصاف دلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے بلند آواز میں نعرے بلند کر رہے تھے۔ ہفتہ کے روز ان کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے بنگلہ دیش کے مختلف حصوں سے لوگوں کی بھیڑ پارلیمنٹ ہاؤس احاطہ کی طرف پہنچتی نظر آئی۔ نمازِ جنازہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی شرکت کی۔ انھوں نے عثمان ہادی کو ’بہادر‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’آج پورا بنگلہ دیش ہادی کو یاد کر رہا ہے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے لیے جو کچھ کیا، وہ یاد رکھا جائے گا۔‘‘ آج شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی بھیڑ یقینی تھی، جس کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نظامِ قانون کو بنائے رکھنے والی ایجنسیوں نے پورے علاقے میں سخت نگرانی اور ضروری انتظامات کیے تھے۔ نمازِ جنازہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے صبح سے ہی نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے آس پاس لوگوں کی آمد و رفت تیز ہو گئی تھی۔ شریف عثمان ہادی کا آخری دیدار کرنے اور نمازِ جنازہ میں شامل ہونے کے لیے حامیوں اور عام لوگوں میں ایک الگ طرح کا جوش دکھائی دے رہا تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مانک میاں ایونیو پر ٹریفک پوری طرح بند کر دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے جاری نوٹس کے مطابق شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ہفتہ کی دوپہر تقریباً 2 بجے نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی گئی۔ اس کے بعد ان کا جسد خاکی ڈھاکہ یونیورسٹی لے جایا گیا۔ یونیورسٹی کی سنٹرل مسجد میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور وہیں تدفین سے متعلق دیگر رسومات ادا کی گئیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق آخری رسومات کے بعد شریف عثمان ہادی کو قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کی قبر کے پاس دفن کیا گیا ہے، کیونکہ ایسی ہی ان کے اہل خانہ کی خواہش تھی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس موقع پر خصوصی تیاریاں کی تھیں۔ جمعہ کی شب ہوئی سنڈیکیٹ کی آن لائن میٹنگ میں کیمپس کی سیکورٹی، خصوصاً نذرالاسلام کے مقبرہ کے آس پاس سیکورٹی کے انتظامات پر وسیع تبادلہ خیال ہوا تھا اور پھر سبھی انتظامات کیے گئے۔اس سے قبل چیف ایڈوائزر کے پریس ڈپارٹمنٹ نے جنازہ میں شامل ہونے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کسی بھی طرح کے بیگ یا بھاری سامان لے کر نہ پہنچیں۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ ہاؤس اور آس پاس کے علاقوں میں ڈرون اڑانے پر بھی پوری طرح سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ ڈھاکہ میٹرو پولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) نے سیکورٹی کو پیش نظر رکھتے ہوئے راجدھانی میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعینات کی۔ خاص بات یہ ہے کہ تقریباً 1000 باڈی وارن کیمروں کا استعمال کیا گیا۔ ڈی ایم پی کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف اضافی سیکورٹی دینا ہے، بلکہ فیلڈ سطح پر کیمروں کے اثرات کی جانچ اور سنٹرل نگرانی کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ لاکھوں نم آنکھوں کے درمیان آج مشہور طلبا لیڈر شریف عثمان ہادی کی تدفین ہو گئی۔ نمازِ جنازہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس بھی شامل ہوئے اور اپنے خطاب میں عثمان ہادی کی خوبیاں بیان کرتے نہیں تھکے۔ محمد یونس نے عثمان ہادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہادکی گم نہیں ہو جائیں گے، ان کے چھوڑے ہوئے منتر ہمارے کانوں میں گونجتے رہیں گے۔ آج لاکھوں لوگ آئے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ اس وقت لاکھوں لوگوں کی نظریں یہیں ہیں۔ وہ ہادی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ محمد یونس نے ہادی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’پیارے عثمان ہادی! ہم آپ کو وداع کرنے نہیں آئے ہیں۔ آپ ہمارے دلوں میں ہیں۔ جب تک بنگلہ دیش رہے گا، آپ سبھی بنگلہ دیشیوں کے دلوں میں رہیں گے۔ اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔‘‘ انھوں نے ہادی کی رسومات میں جمع بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ہادی سے ایک وعدہ کرنے آیا ہوں، جو آپ (عثمان ہادی) نے جو کہا ہے، اسے ہم پورا کریں گے۔ ہم سب مل کر یہ وعدہ کرنے آئے ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں، بلکہ ملک کے سبھی لوگ نسل در نسل اس وعدے کو پورا کریں گے۔ ہر کوئی انسانیت کے لیے لیے، آپ کے پیار، آپ کے طور طریقے، آپ کے نشیب و فراز اور آپ کے سیاسی نظریات کی تعریف کر رہا ہے۔ یہ ہمیشہ ہمارے دماغ میں تازہ رہے گا۔‘‘ یہ یاد دلاتے ہوئے کہ شہید عثمان ہادی نے ہمیں ایک ایسا منتر دیا ہے جسے بنگلہ دیش میں کوئی کبھی نہیں بھولے گا، محمد یونس نے کہا کہ ’’آپ کا منتر ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتا رہے گا۔ یہ ایک عظیم منتر بن جائے گا اور ہمارے ملک سے جڑ جائے گا۔ ہم دنیا میں سر اونچا کر کے چلیں گے، ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ آپ نے ہمیں وہ منتر دیا ہے، ہم اسے پورا کریں گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہادی، آپ انتخاب میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ آپ نے انتخاب کیسے کرائے جائیں، اس بارے میں ایک طریقۂ کار بھی بتایا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس طریقۂ کار کو اپنائیں۔ آپ نے ہمیں سب کچھ سکھایا ہے، کیسے تشہیر کرنی ہے، کیسے لوگوں تک پہنچنا ہے۔ ہم نے یہ سبق مان لیا ہے۔‘‘ آخر میں محمد یونس جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ ’’ہادی کہیں گم نہیں ہونے والے۔ آپ کو کبھی کوئی نہیں بھولے گا۔ ہم سب کی طرف سے ہم آپ کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ آپ کی بات مانیں گے اور ملک کی ترقی کے راستے پر چلتے رہیں گے۔‘‘