جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بنگال انتخابات: دوسرے مرحلے میں 22 نشستوں پر 95 فیصد سے زائد پولنگ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

بنگال انتخابات: دوسرے مرحلے میں 22 نشستوں پر 95 فیصد سے زائد پولنگ

Awaz E Bihar•30 اپریل، 2026 کو 04:53 PM•17 ویوز•3 منٹ پڑھیں

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کا ایک غیر معمولی رجحان دیکھا گیا، جہاں 22 انتخابی حلقوں میں 95 فیصد سے زائد پولنگ درج کی گئی۔ اس میں شمالی 24 پرگنہ کا 'میناخاں ' حلقہ 97.77 فیصد کے نمایاں اعداد و شمار کے ساتھ سرفہرست رہا۔
ریاست میں دوسرے مرحلے کے تحت آنے والے تمام 142 حلقوں میں مجموعی طور پر 92.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جس سے دونوں مرحلوں کی مشترکہ پولنگ کی شرح 92.93 فیصد ہو گئی ہے۔ آزادی کے بعد سے ریاست میں اب تک کی یہ سب سے زیادہ ووٹنگ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں انہی حلقوں میں 80.4 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، جو موجودہ شرح سے تقریباً 13 فیصد کم تھی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی 24 پرگنہ کے 11 حلقوں میں 95 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی۔ جنوبی 24 پرگنہ کے 9 حلقوں میں یہ ہندسہ عبور ہوا۔ جبکہ ہاوڑہ اور مشرقی بردھوان کے ایک ایک حلقے میں ریکارڈ پولنگ ہوئی۔ اگر مختلف اسمبلی حلقوں کی بات کریں تو میناکھاں 97.77 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد جنوبی 24 پرگنہ کا کیننگ ایسٹ 97.70 فیصد کے ساتھ دوسرے اور شمالی 24 پرگنہ کا ہروآ 97.34 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
اس کے علاوہ شمالی 24 پرگنہ کے دیگر اہم علاقوں میں دیگانگا (96.85 فیصد)، آمدانگا (96.03 فیصد)، اشوک نگر (95.01 فیصد)، بادوریا (95.66 فیصد)، باراسات ساؤتھ (95.44 فیصد)، باراسات نارتھ (96.62 فیصد)، ہنگل گنج (95.41 فیصد)، سندیش کھالی (95.89 فیصد) اور سروپ نگر (95 فیصد) شامل ہیں۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حلقۂ انتخاب میں ووٹنگ بڑھنے کے نتیجے میں اوسطاً تقریباً 10,000 ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔
جہاں پہلے مرحلے میں فی نشست اوسطاً 14,237 ووٹروں کا اضافہ دیکھا گیا تھا، وہیں دوسرے مرحلے میں فی حلقہ 6,615 ووٹروں کا نسبتاً معتدل مگر اہم اضافہ درج کیا گیا۔ تاریخی طور پر، اس انتخاب سے پہلے مغربی بنگال میں سب سے زیادہ ووٹنگ فیصد 2011 میں 84.33 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، جس نے بائیں محاذ کی 34 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار نے نہ صرف اس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ ہندوستان میں اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کے لحاظ سے ایک نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ سیاسی ماہر وشوناتھ چکرورتی نے کہا، "اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹنگ میں اضافہ صرف چھوٹے ووٹر بیس کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی، سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم میں تیزی، اور ممکنہ طور پر زیادہ مسابقتی انتخابی ماحول کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک آنے پر آمادہ کیا۔"
دونوں مراحل میں غیر معمولی طور پر زیادہ شرکت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ووٹنگ کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ 92 فیصد کی حد عبور کر کے مغربی بنگال نے انتخابی شرکت کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے، جس سے ملک کی سب سے زیادہ سیاسی طور پر باشعور ریاستوں میں اس کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026