بنگال انتخابات: دوسرے مرحلے میں 22 نشستوں پر 95 فیصد سے زائد پولنگ
Awaz E Bihar••17 ویوز•3 منٹ پڑھیں
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کا ایک غیر معمولی رجحان دیکھا گیا، جہاں 22 انتخابی حلقوں میں 95 فیصد سے زائد پولنگ درج کی گئی۔ اس میں شمالی 24 پرگنہ کا 'میناخاں ' حلقہ 97.77 فیصد کے نمایاں اعداد و شمار کے ساتھ سرفہرست رہا۔ ریاست میں دوسرے مرحلے کے تحت آنے والے تمام 142 حلقوں میں مجموعی طور پر 92.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جس سے دونوں مرحلوں کی مشترکہ پولنگ کی شرح 92.93 فیصد ہو گئی ہے۔ آزادی کے بعد سے ریاست میں اب تک کی یہ سب سے زیادہ ووٹنگ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں انہی حلقوں میں 80.4 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، جو موجودہ شرح سے تقریباً 13 فیصد کم تھی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی 24 پرگنہ کے 11 حلقوں میں 95 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی۔ جنوبی 24 پرگنہ کے 9 حلقوں میں یہ ہندسہ عبور ہوا۔ جبکہ ہاوڑہ اور مشرقی بردھوان کے ایک ایک حلقے میں ریکارڈ پولنگ ہوئی۔ اگر مختلف اسمبلی حلقوں کی بات کریں تو میناکھاں 97.77 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد جنوبی 24 پرگنہ کا کیننگ ایسٹ 97.70 فیصد کے ساتھ دوسرے اور شمالی 24 پرگنہ کا ہروآ 97.34 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ شمالی 24 پرگنہ کے دیگر اہم علاقوں میں دیگانگا (96.85 فیصد)، آمدانگا (96.03 فیصد)، اشوک نگر (95.01 فیصد)، بادوریا (95.66 فیصد)، باراسات ساؤتھ (95.44 فیصد)، باراسات نارتھ (96.62 فیصد)، ہنگل گنج (95.41 فیصد)، سندیش کھالی (95.89 فیصد) اور سروپ نگر (95 فیصد) شامل ہیں۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حلقۂ انتخاب میں ووٹنگ بڑھنے کے نتیجے میں اوسطاً تقریباً 10,000 ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ جہاں پہلے مرحلے میں فی نشست اوسطاً 14,237 ووٹروں کا اضافہ دیکھا گیا تھا، وہیں دوسرے مرحلے میں فی حلقہ 6,615 ووٹروں کا نسبتاً معتدل مگر اہم اضافہ درج کیا گیا۔ تاریخی طور پر، اس انتخاب سے پہلے مغربی بنگال میں سب سے زیادہ ووٹنگ فیصد 2011 میں 84.33 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، جس نے بائیں محاذ کی 34 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار نے نہ صرف اس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ ہندوستان میں اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کے لحاظ سے ایک نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ سیاسی ماہر وشوناتھ چکرورتی نے کہا، "اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹنگ میں اضافہ صرف چھوٹے ووٹر بیس کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی، سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم میں تیزی، اور ممکنہ طور پر زیادہ مسابقتی انتخابی ماحول کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک آنے پر آمادہ کیا۔" دونوں مراحل میں غیر معمولی طور پر زیادہ شرکت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ووٹنگ کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ 92 فیصد کی حد عبور کر کے مغربی بنگال نے انتخابی شرکت کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے، جس سے ملک کی سب سے زیادہ سیاسی طور پر باشعور ریاستوں میں اس کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔