بنگلہ دیش میں بی این پی کی تاریخی کامیابی، دو تہائی اکثریت حاصل
Awaz E Bihar••0 ویوز•7 منٹ پڑھیں
ڈھاکہ، 13 فروری (ایجنسی) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 191 نشستیں جیت چکی، جبکہ ان کے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی چیئرمین طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی 70 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن گئی جبکہ 30 نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے والی جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی نے 5 نشستیں جیتی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم میں 73 فیصد نے حمایت کی ہے۔ بی این پی نے اپنے کارکنوں کو جشن سے گریز اور ملک کی بہتری کے لیے دعاؤں کی ہدایت کی ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق طارق رحمان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائی ہے ان کے ساتھ مل کر ملک چلاؤں گا۔ دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا۔ خیال رہے کہ بنگلادیش میں قومی انتخابات کیلئے 299 نشستوں اور ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی، ریٹرننگ افسران کو 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوگئے۔ پوسٹل ووٹز ایپ کے ذریعے لیے گئے، بیرون ملک موجود 4 لاکھ 95ہزار 551 اور بنگلہ دیش میں موجود 6 لاکھ 48 ہزار 294 ووٹرز کے ووٹ موصول ہوئے، پوسٹل ووٹنگ کیلئے بنگلہ دیش میں اور بیرون ملک موجود ووٹرز کی رجسٹرڈ تعداد 15 لاکھ سے زائد ہے۔ بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ اب تک موصولہ نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ بی این پی اکیلے 151 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں حاصل کیں۔ جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی، جو جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے، پانچ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور 13ویں قومی اسمبلی میں 300 میں سے 210 نشستیں جیتیں۔اس نتیجے کو جنوبی ایشیائی ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جمعرات کو ہونے والا یہ انتخاب بنگلہ دیش کا 2024 کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد پہلا قومی انتخاب تھا جس نے طویل عرصے سے وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔ بنگلہ دیش حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بی این پی نے 210 نشستیں حاصل کی ہیں، جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 73 نشستیں حاصل کی ہیں، اور 300 رکنی پارلیمنٹ میں آزاد امیدواروں کے پاس 8 نشستیں ہیں۔ کسی جماعت یا اتحاد کو 300 رکنی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ راتوں رات ووٹوں کی گنتی میں اکثریت حاصل کرنے کے فوراً بعد، بی این پی نے عوام کا شکریہ ادا کیا ۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا، "قومی پارلیمانی انتخابات میں بڑے فرق سے جیتنے کے باوجود، بی این پی کی طرف سے کوئی جشن یا ریلی کا انعقاد نہیں کیا جائے گا،" پارٹی نے ایک بیان میں لوگوں سے مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور پگوڈا میں عبادت کرنے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کی قیادت وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔ اپنی مہم کے دوران، بی این پی نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی مدد، وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے 10 سال کی حد، معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اور مضبوط انسداد بدعنوانی پالیسیوں کا وعدہ کیا۔ انتخابات میں بی این پی اور اس کی سابق اتحادی جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ دیکھا گیا، کیونکہ شیخ حسینہ کی قیادت میں اب تحلیل ہونے والی عوامی لیگ کو مقابلہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ 18 ماہ سے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری انتظامیہ کی حکومت ہے۔ بی این پی کی قیادت، وزیر اعظم کے عہدے کے سر فہرست امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔ ادھر بی این پی کی اہم حریف، جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی محض مخالفت برائے مخالفت کی ’اپوزیشن کی سیاست‘ میں شامل نہیں ہو گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم مثبت سیاست کریں گے۔‘ جمعرات ہونے والا پارلیمانی الیکشن بنگلہ دیش میں 2024 کی ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلا ووٹ تھا۔ عوامی تحریک نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ساڑھے 17 کروڑ آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں کئی مہینوں کے شیخ حسینہ مخالف خونریز ہنگاموں کے بعد استحکام کے لیے ایک واضح انتخابی نتیجہ اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ان ہنگاموں نے روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کیا اور بڑی صنعتوں کو متاثر کیا جن میں دنیا کے دوسرے بڑے برآمد کنندہ بنگلہ دیش کا گارمنٹس سیکٹر بھی شامل ہے۔ یہ خطے میں 30 سال سے کم عمر افراد کی قیادت میں حالیہ تحریکوں کے بعد پہلا قومی الیکشن بھی تھا۔ بنگلہ دیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں، جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی پولنگ کا ٹرن آؤٹ 2024 کے گذشتہ الیکشن میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے تجاوز کرتا دکھائی دیا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کے ووٹ ڈالنے کی توقع تھی۔دو ہزار سے زیادہ امیدوارجن میں بہت سے آزاد امیدوار بھی شامل تھے پولنگ کے وقت موجود رہے جب کہ کم از کم 50 پارٹیوں نے نشستوں کے لیے الیکشن لڑا، جو ایک قومی ریکارڈ ہے۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے بعد ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔ دوسری جانب عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے موصولہ نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرنڈم میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کے تعین کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن میں جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات شامل ہیں۔ ریفرنڈم کے نتیجے پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔ سرکردہ مقامی اخبار پرتھوم آلو نے رپورٹ کیا کہ ’ہاں‘ یا مثبت ووٹ گنتی میں آگے تھا۔