جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کینیڈا امریکہ کی ریاست بنے بغیر اس کے فوائد چاہتا ہے: ٹرمپ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

کینیڈا امریکہ کی ریاست بنے بغیر اس کے فوائد چاہتا ہے: ٹرمپ

Awaz E Bihar•23 اگست، 2026 کو 03:30 PM•18 ویوز•4 منٹ پڑھیں

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی '51ویں ریاست بنانے کا اپنا مطالبہ دہرایا اور الزام لگایا کہ کینیڈا امریکی ریاست بنے بغیر اس کے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔مسٹر ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں ہفتہ کو 'ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’کینیڈا ایک ریاست ہونے کے فوائد چاہتا ہے، لیکن ریاست بننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کئی برسوں تک ہمارے عظیم کسانوں پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں۔
اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘مذاکرات ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے کینیڈا کی کئی مصنوعات پر 50 فیصد نیا محصول نافذ کر دیا ہے۔
مسٹر ٹرمپ کا یہ تبصرہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات ملتوی کیے جانے کے بعد آیا۔ کارنی نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے تازہ مطالبات ’’معاشی طور پر ناقابل عمل‘‘ اور ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور ان سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے فوائد متاثر ہوتے ہیں۔مسٹر کارنی نے کہا، ’’انہوں نے بہت زیادہ مانگا اور بہت کم پیشکش کی۔‘‘ انہوں نے امریکی اقدامات کو کینیڈا پر حملہ قرار دیتے ہوئے نئے محصولات کو ’’غلط اندازہ’’قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد ‘‘ہمیں نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا‘‘ ہے۔
امریکہ نے 22 اگست سے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد محصول نافذ کیا ہے۔ ان محصولات کے دائرے میں کینیڈا کی امریکہ کو ہونے والی کل برآمدات کا تقریباً 5.5 فیصد حصہ آتا ہے۔ متاثرہ مصنوعات میں ہاکی اسٹک اور سیمنٹ سمیت کئی دیگر اشیا شامل ہیں۔مسٹر کارنی نے کہا کہ کینیڈا اپنے مزدوروں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباروں کے تحفظ کے لیے 8 ستمبر سے امریکی محصولات کا ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ جواب دے گا۔ تاہم، جوابی محصولات کی تفصیلی صورت ابھی اعلان نہیں کی گئی ہے۔مسٹر کارنی کے مطابق، کینیڈا فولاد، ایلومینیم اور آٹوموبائل جیسے اسٹریٹجک شعبوں پر عائد اپنے باقی جوابی محصولات ہٹانے کے لیے تیار تھا، بشرطیکہ امریکہ اپنے محصولات میں خاطر خواہ کمی کرے۔ کینیڈا دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ طور پر تجارتی معاہدے کرنے کی اپنی صلاحیت پر کسی طرح کی پابندی قبول نہیں کرے گا۔امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ کینیڈا نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ نئے محصولات 22 اگست سے نافذ ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی سے شمالی امریکہ کے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے اور دونوں حکومتیں مزید جوابی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین اشیا پر عائد 50 فیصد ٹیرف کے خلاف ڈیموکریٹس نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے محصولات سے امریکی خاندانوں، کسانوں اور کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور اس کا بوجھ بالآخر امریکی صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔نئے محصولات کے نافذ ہونے کے بعد ہفتہ کو ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا اثر امریکی صارفین اور کاروباروں تک منتقل ہوسکتا ہے۔سینیٹ میں اپوزیشن رہنما چک شومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ٹرمپ کی ’’افراتفری پر مبنی تجارتی جنگیں‘‘ امریکی عوام کو معاشی نقصان پہنچا رہی ہیں اور اب مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی نے محنت کش امریکی خاندانوں پر ’’ایک اور بل‘‘ ڈال دیا ہے اور کینیڈا کے ساتھ یہ تنازع کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ان کے مطابق اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔سابق امریکی وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹیجیگ نے بھی ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے صدر کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑیں یا ایران کے ساتھ حقیقی جنگ، دونوں صورتوں میں امریکی عوام کو ہی ان فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026