بیجنگ : (ایجنسی) چین کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کی ایک مسودہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کسی کے ساتھ جوہری اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔یہ ردعمل پینٹاگان کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے مختلف لانچ سائٹس پر 100 بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل نصب کر رکھے ہیں اور وہ واشنگٹن کی جوہری تخفیف اسلحہ کی کوششوں میں دلچسپی نہیں رکھتا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کو ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں جن کے تحت جوہری ہتھیار رکھنے والے دیگر ممالک تخفیف اسلحہ کے عمل میں شامل ہو سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ چین کسی بھی ملک کے ساتھ جوہری اسلحہ کی دوڑ میں شریک نہیں ہے۔پینٹاگان کی رپورٹ میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں کرتے کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے ممکنہ طور پر اپنی حالیہ تین نئی لانچ سائٹس میں 100 سے زائد بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل نصب کیے ہیں اور وہ اسلحہ کی حد بندی سے متعلق بات چیت کے لیے آمادہ نہیں۔چین کا مؤقف ہے کہ وہ دفاعی نوعیت کی جوہری حکمت عملی پر کاربند ہے اور جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم اس حوالے سے عملی شکل اب تک واضح نہیں ہو سکی۔چین اس وقت اپنی عسکری صلاحیتوں کو جدید بنانے اور ان کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے عمل میں مصروف ہے جو دیگر جوہری طاقتوں کے مقابلے میں کہیں تیز رفتار ہے۔ بیجنگ نے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق رپورٹس کو اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور عالمی برادری کو جان بوجھ کر گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چین اور روس کے ساتھ جوہری اسلحہ کے خاتمے کے منصوبے پر کام کر سکتے ہیں۔ تاہم پینٹاگان کی وہ مسودہ رپورٹ جس تک خبر رساں ادارے رائٹرز کی رسائی ہوئی، اس میں کہا گیا کہ بیجنگ اس معاملے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے ممکنہ طور پر ’ڈی ایف‘ 31 قسم کے ٹھوس ایندھن سے چلنے والے 100 سے زائد بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل منگولیا سے متصل سرحد کے قریب میزائل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات میں تعینات کیے ہیں۔ یہ تنصیبات ان متعدد مراکز کا حصہ ہیں جو چین میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کر رہا ہے۔پینٹاگان ماضی میں بھی ان تنصیبات کی نشاندہی کر چکا ہے تاہم اس وقت میزائلوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ پینٹاگان نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جبکہ واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے بھی رائٹرز کی جانب سے مؤقف طلب کرنے پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔رپورٹ میں ان میزائلوں کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی نہیں کی گئی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ قانون سازوں کو پیش کیے جانے سے قبل ترمیم سے گزر سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے اس قسم کے اقدامات یا اسلحہ کی حد بندی پر جامع بات چیت میں شامل ہونے کی کوئی خواہش اب تک نظر نہیں آتی۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2024ء میں چین کے جوہری وارہیڈز کا ذخیرہ تقریباً 600 رہا جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پیداوار کی سست رفتار کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کی جوہری توسیع کا عمل جاری ہے اور وہ سنہ 2030ء تک ایک ہزار سے زائد جوہری وارہیڈز رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔