جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 انصاف مانگنا بھی جرم ٹھہرا
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

انصاف مانگنا بھی جرم ٹھہرا

Awaz E Bihar•22 دسمبر، 2025 کو 01:04 PM•0 ویوز•6 منٹ پڑھیں

محمد عارف انصاری
رابطہ : 9572908382
سُمیہ رانا ہندُستان کے معروف اردو شاعر منوّر رانا کی صاحبزادی ہیں۔ ادبی اور فکری گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے وہ شاعری، ادب اور سماجی شعور کی فضا سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ منوّر رانا کی طرح، سُمیہ رانا بھی خواتین کے مسائل، سماجی انصاف اور انسانی حقوق پر بے باک اور صاف گو مؤقف رکھتی ہیں، جس کے باعث وہ عوامی اور میڈیا مباحث میں اکثر زیرِ بحث رہتی ہیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سُمیہ رانا نے نوجوان نسل کی شعور اور آگاہی کے لیے متعدد ادبی محافل اور ورکشاپس کا انعقاد کیاجہاں انہوں نے ادب، ثقافت اور انسانی حقوق کے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی، جو فکری تربیت کا ذریعہ بنیں۔29 دسمبر 2020 کو سُمیہ رانا نے سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی صدر اکھیلیش یادو کی موجودگی میں انہیں رکنیت دی گئی اور بعد ازاں قومی ترجمان مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر اکھیلیش یادو نے اعلان کیا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آئی تو شہری آزادیوں اور عوامی مظاہروں کے خلاف درج مقدمات پر نظرِ ثانی کی جائے گی، جو ایک پرامن سیاسی وعدہ تھا اور سمیہ رانا کے فعال سیاسی کردار کی بنیاد بنا۔یہ شمولیت نہ صرف سُمیہ رانا کی سیاسی شناخت کو مستحکم کرنے کا سبب بنی بلکہ انہیں خواتین اور سماجی حلقوں میں اپنی آواز بلند کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔سُمیہ رانا نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاجات میں نمایاں کردار ادا کیا، خاص طور پر لکھنو کے گھنٹہ گھر کے آس پاس۔ ان احتجاجات کا مقصد شہری اور مذہبی حقوق کا تحفظ تھا، اور سمیہ رانا ایک جرات مندانہ آواز کے طور پر سامنے آئیں۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کیے، جس پر انہوں نے انتظامیہ کے رویے پر سوالات اٹھائے اور یہی جدوجہد ریاستی طاقت اور شہری حقوق کے درمیان جاری کشمکش کی علامت بن گئی، جس نے عوامی شعور و بیداری کو بڑھانے میں، خاص طور پر نوجوان اور خواتین کے بیچ، ایک نمایاں تحریک کی صورت اختیار کر لی۔
دسمبر 2025 میں سمیہ رانا نے بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور اتر پردیش کے ایک وزیر کے خلاف حجاب تنازعہ میں پولیس میں شکایت درج کروائی۔ ان کا الزام ہے کہ ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر حجاب ہٹانے کا واقعہ پیش آیا جس سے مسلم خواتین کی عزت مجروح ہوا۔ یہ اقدام ان کی سماجی و سیاسی جدوجہد کا حصہ تھا۔ بعد ازاں پولیس نے سمیہ رانا کو پریونٹیو نوٹس جاری کیا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ احتجاجی سرگرمیاں امنِ عامہ متاثر کر سکتی ہیںاور ان سے پانچ لاکھ روپے کا مچلکا طلب کیا ۔ سمیہ رانا نے الزام لگایا کہ انہیں غیر اعلانیہ گھر میں نظر بند رکھا گیا جبکہ پولیس نے اسے قانونی دائرہ تک محدود سمجھا۔یہ نوٹس تعزیراتِ ہند (دوسرا) بھارتیہ نیائے سنہتا (BNSS) کے تحت جاری ہوا، جو امنِ عامہ کے خدشات کی صورت میں پولیس کو احتیاطی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ آئینِ ہندُستان کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے، جسے صرف قانونی طریق? کار کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے بھی واضح کرتے ہیں کہ احتیاطی اختیارات کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا یا تنقید کو خاموش کرنا نہیں ہو سکتا، اور نوٹس کی بنیاد شفاف، متناسب اور معقول ہونی چاہیے، تاکہ شہری آزادی، جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی ہر حال میں محفوظ رہ سکے۔اگر کسی شہری کو عملاً گھر سے نکلنے سے روکا جائے یا تھانے بلا کر غیر معمولی تاخیر کی جائے تو عدالتیں اسے تعمیری حراست تصور کر سکتی ہیں۔ پانچ لاکھ روپے کا مچلکا اور دو بھاری ضمانتیں یہ سوال کھڑا کرتی ہیں کہ آیا یہ واقعی امنِ عامہ کے تحفظ کے لیے تھیں یا دباؤ اور عبرت کا ذریعہ۔ یہ طرزِ عمل ریاستی طاقت کے غیر متناسب استعمال اور خواتین کے حقوق کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے اور سماجی و سیاسی حلقوں کی غیر فعال موجودگی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، جو جمہوری اقدار، شہری اعتماد اور اجتماعی ضمیر کی کمزوری کو بھی نمایاں کرتی ہے اور مستقبل میں قانون کے منصفانہ اطلاق پر خدشات کو جنم دیتی ہے۔اظہارِ رائے اور احتجاج جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ اگر اختلاف یا شکایت کو قانون شکنی بنا دیا جائے تو جمہوریت محض رسمی ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ طاقت کے زور پر خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے، مگر اعتماد اور انصاف نہیں۔ خواتین کے حقوق کے معاملے میں ریاستی اداروں کی خاموشی، سماجی حلقوں کی سرد مہری اور سیاسی اپوزیشن کی غیر فعالیت جمہوری نظام کی کمزوری ظاہر کرتی ہے جس کے نتیجے میں عوام کا آئینی اداروں پر یقین متزلزل ہوتا ہے اور جمہوری قدروں کا اخلاقی جواز کمزور پڑتاہے۔ یہی بے حسی مستقبل میں ریاست اور شہری کے رشتے کو مزید کمزور، غیر متوازن اور شکوک و خدشات سے بھر دیتی ہے۔اتر پردیش میں پیش آنے والایہ واقعہ ریاست کے رویے، قانون کے نام پر طاقت کے بے لگام استعمال اور خواتین کے حقوق پر سوالیہ نشان ہے۔سُمیہ رانا شکایت درج کرانے گئی تھیں، مگر خود انہیں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ پانچ لاکھ روپے کا مچلکا اور دو بھاری ضمانتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مقصد انصاف نہیں بلکہ دباؤ اور عبرت تھا۔ ریاست جسے خواتین کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اگر وہی ادارے خواتین کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا باعث بنیں تو یہ پورے نظامِ انصاف پر عدم اعتماد پیدا کرتا ہے جو جمہوری اقدار، آئینی روح اور سماجی انصاف کے تصور کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک فرد یا سیاسی نام سے وابستہ نہیں بلکہ اس سوال سے جڑا ہے کہ ہندُستانی جمہوریت میں انصاف مانگنے کی قیمت کیا ہونی چاہیے۔ اگر شکایت درج کرانا یا آئینی حقوق کا مطالبہ جرم بن جائے تو قانون کمزور کے لیے ڈھال نہیں بلکہ طاقتور کے لیے ہتھیار بن جاتا ہے۔سُ
میہ رانا کا معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ریاستی اختیار اور شہری آزادی کے درمیان توازن کہاں بگڑ رہا ہے۔ عدلیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی تنظیموں کی خاموشی اس بگاڑ کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کو خوف نہیں بلکہ انصاف کا ذریعہ بنایا جائے اور یہ واضح پیغام دیا جائے کہ اس ملک میں انصاف مانگنا جرم نہیں، شہری حق ہے۔ اگر آج اس اصول کا دفاع نہ ہوا تو کل کوئی بھی شہری محفوظ نہیں رہے گا۔

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026