ڈنمارک و گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ کے امریکی حکام سے مذاکرات ناکام ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس کا مقصد بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنا تھا تاہم بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارش لوکے راسموسن نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکومت کو اپنا مؤقف بدلنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکا اور صدر ٹرمپ اب بھی گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب گرین لینڈ کی وزیرِ خارجہ ویوین موٹسفیلڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون ممکن ہے لیکن گرین لینڈ امریکہ کی ملکیت نہیں بننا چاہتا۔ گرین لینڈ کی حکومت کے امریکی نمائندہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ جزیرے کے مقامی باشندوں کی رائے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ایک سروے کے مطابق صرف 6 فیصد گرین لینڈرز امریکہ کا حصہ بننے کے حق میں ہیں۔ ملاقات کے دوران فریقین نے صرف ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا جو آرکٹک خطے میں سلامتی کے خدشات پر بات کرے گا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بار پھر کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور ڈنمارک ممکنہ طور پر روس یا چین کے حملے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں ایک فوجی اڈہ رکھتا ہے جہاں تقریباً 150 اہلکار تعینات ہیں اور معاہدے کے تحت اس موجودگی میں اضافہ ممکن ہے تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ صرف فوجی توسیع نہیں بلکہ مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔ گرین لینڈ کے رہائشی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کے بیان پر شدید تشویش اور پریشانی کا شکار ہیں۔ گرین لینڈ کے مغربی ساحلی شہر الیولِسات سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر جوئل ہینسن نے 'الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'وہ امریکہ کے زیرِ اقتدار آنے کے تصور سے خوفزدہ ہیں۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ 'میں امریکی بننے سے ڈرتا ہوں، میں نے الاسکا کے انوئٹس (برفانی علاقوں کے رہائشی) کی مشکلات دیکھی ہیں، مجھے ڈنمارک کے ساتھ رہنا بہتر لگتا ہے، مجھے گرین لینڈ میں آزادانہ کام کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ماہی گیر ہینسن نے کہا کہ 'ہمارے پاس اتنی معدنیات ہیں کہ ہم خود ایک قوم بن سکتے ہیں، ہمیں ٹرمپ کے پیسے کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب غیر ملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی دلچسپی صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ گرین لینڈ کے وسیع معدنی ذخائر بھی ہیں جن میں نایاب عناصر شامل ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور فوجی سازوسامان کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ گرین لینڈ میں اس وقت صرف دو کانیں فعال ہیں تاہم مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے وسائل خود سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گرین لینڈ کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اِنہیں امید ہے امریکی قیادت انسانیت کا مظاہرہ کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہم انوئٹ ہیں، ہزاروں سال سے یہاں رہ رہے ہیں۔ یہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہے، وسائل کے پیچھے آنے والوں کا نہیں۔ واضح رہے کہ گرین لینڈ کو 2009ء میں وسیع خودمختاری ملی تھی لیکن یہ اب بھی ڈنمارک کا حصہ ہے۔