واشنگٹن،24اپریل(ایجنسی)۔اگرچہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ فی الوقت ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع نہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم یہ راستہ زیر غور آ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے ٹرمپ کی میز پر ایک ایسا اختیار رکھا ہے جس میں ایرانی نظام کے اندر موجود ان فوجی کمانڈروں اور دیگر حکام کو نشانہ بنانا شامل ہے جنہیں "مذاکرات میں رکاوٹ" قرار دیا گیا ہے۔ سی این این کو ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ امریکی حکام نے حال ہی میں ان افراد پر مذاکرات کو فعال طریقے سے سبوتاڑ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ذریعے نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ممکنہ اہداف کی فہرست میں احمد وحیدی بھی شامل ہیں جو سعودی عرب کے پڑوسی ملک ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہل کار نے ان منصوبوں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سکیورٹی تقاضوں کے پیش نظر ہم کسی بھی مستقبل کی یا فرضی کارروائی پر بحث نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج صدر کو مختلف راستے فراہم کرتی رہتی ہے اور یہ تمام اختیارات اب بھی میز پر موجود ہیں۔ٹرمپ ماضی میں کئی بار دہرا چکے ہیں کہ ایرانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور وہاں کوئی ایسا واحد اعلیٰ عہدے دار موجود نہیں جس سے بات کی جا سکے۔ انہوں نے گذشتہ روز اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں پاسدارانِ انقلاب کی صفوں اور حکومت کے ان ارکان کے درمیان تقسیم کی طرف اشارہ کیا جو امریکہ کے ساتھ بات چیت میں شامل تھے۔ ان کا خیال ہے کہ یہی تقسیم کسی سفارتی معاہدے تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی اپنی دھمکیوں کو دہرایا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے گذشتہ روز "خامنہ ای خاندان" کو ختم کرنے کی طرف اشارہ کیا، جو کہ سابق سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ایران پر اگلا اسرائیلی حملہ زیادہ مہلک اور مختلف ہو گا۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ اگر عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو "مجتبیٰ خامنہ ای کا خاتمہ پہلا قدم ہوگا"۔کاتز نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل نے اپنے اہداف واضح طور پر طے کر لیے ہیں اور وہ اس وقت نئے مرحلے کے آغاز کے لیے امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا منتظر ہے، جسے "شیر کی دھاڑ" کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایرانی قائدین اس وقت سرنگوں میں موجود ہیں اور انہیں رابطوں اور فیصلے سازی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے ٹرمپ کی میز پر ایک ایسا اختیار رکھا ہے جس میں ایرانی نظام کے اندر موجود ان فوجی کمانڈروں اور دیگر حکام کو نشانہ بنانا شامل ہے جنہیں "مذاکرات میں رکاوٹ" قرار دیا گیا ہے۔ سی این این کو ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ امریکی حکام نے حال ہی میں ان افراد پر مذاکرات کو فعال طریقے سے سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ذرایع نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ممکنہ اہداف کی فہرست میں احمد وحیدی بھی شامل ہیں جو سعودی عرب کے پڑوسی ملک ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہل کار نے ان منصوبوں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سکیورٹی تقاضوں کے پیش نظر ہم کسی بھی مستقبل کی یا فرضی کارروائی پر بحث نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج صدر کو مختلف راستے فراہم کرتی رہتی ہے اور یہ تمام اختیارات اب بھی میز پر موجود ہیں۔ ٹرمپ ماضی میں کئی بار دہرا چکے ہیں کہ ایرانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور وہاں کوئی ایسا واحد اعلیٰ عہدے دار موجود نہیں جس سے بات کی جا سکے۔ انہوں نے گذشتہ روز اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں پاسدارانِ انقلاب کی صفوں اور حکومت کے ان ارکان کے درمیان تقسیم کی طرف اشارہ کیا جو امریکہ کے ساتھ بات چیت میں شامل تھے۔ ان کا خیال ہے کہ یہی تقسیم کسی سفارتی معاہدے تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی اپنی دھمکیوں کو دہرایا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز نے گذشتہ روز "خامنہ ای خاندان" کو ختم کرنے کی طرف اشارہ کیا، جو کہ سابق سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ایران پر اگلا اسرائیلی حملہ زیادہ مہلک اور مختلف ہو گا۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ اگر عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو "مجتبیٰ خامنہ ای کا خاتمہ پہلا قدم ہوگا"۔ کاتز نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل نے اپنے اہداف واضح طور پر طے کر لیے ہیں اور وہ اس وقت نئے مرحلے کے آغاز کے لیے امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا منتظر ہے، جسے "شیر کی دھاڑ" کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایرانی قائدین اس وقت سرنگوں میں موجود ہیں اور انہیں رابطوں اور فیصلے سازی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی ذرائع نے گذشتہ روز انکشاف کیا تھا کہ موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ٹانگ کے تین آپریشن ہو چکے ہیں اور ان کا چہرہ بگڑ چکا ہے جس کی وجہ سے انہیں بولنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان کے ساتھ رابطہ بہت محدود ہے اور صرف ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغامات تک ہی رسائی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان سے ملنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ اسرائیلی انٹیلی جنس ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انہیں نشانہ نہ بنا سکے۔مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے ہی روز زخمی ہو گئے تھے، جبکہ ان کے والد علی خامنہ ای اور سابق کمانڈر انچیف محمد پاکپور سمیت کئی اعلیٰ فوجی حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔قبل ازیں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے جمعے کو ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں امن کے لیے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایرانی ہم منصب کی فون کال موصول ہوئی، جس کے دوران ’فریقین نے علاقائی پیش رفت، جنگ بندی اور امریکہ-ایران روابط کے تناظر میں اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔‘
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے بقیہ مسائل کے حل کے لیے ’مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت‘ پر زور دیا تاکہ جلد از جلد ’علاقائی امن اور استحکام‘ کو فروغ دیا جا سکے۔