سفارت کاری سے ملک کی خوشحالی میں اضافہ ہونا چاہیے: مرمو
Awaz E Bihar••24 ویوز•4 منٹ پڑھیں
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) کے زیرِ تربیت افسران سے کہا ہے کہ ملک کی عالمی شمولیت ہمیشہ اہل وطن کی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے اور سفارت کاری سے ہندوستان کی خوشحالی میں براہ راست تعاون ملنا چاہیے۔ فارن سروس کے زیرِ تربیت افسران کے 2025 بیچ کے اور بھوٹان کے دو سفارت کاروں نے جمعرات کے روز راشٹرپتی بھون میں محترمہ مرمو سے ملاقات کی۔ صدرِ جمہوریہ نے افسران سے کہا کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی سے دنیا کے ساتھ ملک کے لگاؤ کے لیے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سفارت کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور اختراع جیسے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کے تئیں بیدار رہیں، اور ایسی شراکت داریاں قائم کریں جن سے ہندوستان کے قومی مفادات کی تکمیل ہوتی ہو۔محترمہ مرمو نے کہا کہ ہندوستان کی عالمی شمولیت ہمیشہ اہل وطن کی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے، یعنی قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔ یہ افسران کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک دائمی اصول بنا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ملک سال 2047 تک ترقی یافتہ بننے کے ہدف کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، سفارت کاری کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سفارت کاروں کو اپنی شمولیت صرف سرکاری دفاتر اور سرکاری میٹنگوں تک محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ انہیں یونیورسٹیوں، کاروباری دنیا، محققین، اختراع کار ، ثقافتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں سے بھی لگاؤ بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ تارکینِ وطن ہندوستانی برادری کے ساتھ معنی خیز انداز میں جڑیں اور خاص طور پر، نوجوان اراکین کو ملک سے جڑے رہنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے ایسے مواقع کی تلاش کریں جن کے ذریعے وہ ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں تعاون پیش کر سکیں۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ سفارت کاری کی نوعیت میں بھی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے اقوام کے درمیان بات چیت، کاروبار کے اور شہریوں تک عوامی خدمات کی رسائی کے طور طریقوں کو بدل دیا ہے۔ بیرون ملک ہندوستان کے مشنوں کو بھی اس تبدیلی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف مواصلات کے ذریعہ کے طور پر ہی نہیں، بلکہ گڈ گورننس اور زیادہ گہری شرکت کے ذریعہ کے طور پر بھی کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لیکن ٹیکنالوجی کبھی بھی انسانی حساسیت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے سفارت کاروں سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی کہ ضرورت کے وقت ہندوستانی مشنوں کے دروازے اہل وطن کے لیے ہمیشہ کھلے اور دستیاب رہیں۔ انہیں حالیہ برسوں میں ملک کی طرف سے بڑے پیمانے پر چلائے گئے بچاؤ اور انسانی امدادی مہمات کے ذریعے ظاہر کی گئی روایت کو مسلسل آگے بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو، جسے مدد کی ضرورت ہے، یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا مشن آسان، حساس اور قابلِ اعتماد ہے۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ انڈین فارن سروس کے افسران نہ صرف ایسے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کی تہذیبی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، بلکہ وہ ایک نوجوان، متحرک اور پرامید ہندوستان کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن، تکثیرت پسندی، بات چیت، بقائے باہم اور تنوع کے احترام کی روایت 'وسودھیو کٹمبکم کے ہندوستان کے تہذیبی ماحول میں گہرائی سے سمائی ہوئی ہے۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ مسلسل غیر یقینی اور پیچیدہ ہوتی دنیا میں سفارت کاروں کو بیدار، متجسس اور مسلسل سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر، انہیں ہمیشہ منکسرالمزاج رہنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان زیرِ تربیت افسران سے اپیل کی کہ بیرون ملک سفر کے دوران وہ ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ وہ صرف حکومتِ ہند ہی نہیں، بلکہ 140 کروڑ ہندوستانیوں اور ان کی امیدوں اور امنگوں کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے انہیں ایمانداری، سچائی اور پیشہ ورانہ اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔