مدیر “گل بوٹے” فاروق سید سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک،
Awaz E Bihar••46 ویوز•6 منٹ پڑھیں
معروف صحافی، بچوں کے مقبول اردو رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر و ناشر، اور اُردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سرگرم سکریٹری فاروق سید کو بدھ کے روز جنوبی ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں بعد نمازِ ظہر سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ تدفین کے موقع پر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ممبئی کی پوری اردو دنیا اپنے ہر دلعزیز رفیق کو الوداع کہنے کے لیے اُمڈ آئی ہو۔ ہر سمت غم و اندوہ کی کیفیت طاری تھی، متعدد افراد ضبط نہ کرسکے اور آبدیدہ ہوگئے۔ مرحوم فاروق سید منگل کی شام طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔ وہ 58 برس کے تھے اور گزشتہ کئی ہفتوں سے سانتا کروز کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی اردو صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ممبئی سمیت ریاست کے مختلف علاقوں اور ان کے آبائی شہر شولاپور سے بھی بڑی تعداد میں عزیز و اقارب، دوست احباب اور چاہنے والے ممبئی پہنچے۔ تدفین کے موقع پر ان کے صاحبزادے عاصم، برادر نسبتی سلیم شیخ اور دیرینہ رفیق قاسم امام کو تعزیت پیش کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ ہر شخص مرحوم کی خدمات، خوش اخلاقی اور اردو زبان سے ان کی بے لوث وابستگی کو یاد کررہا تھا۔ فاروق سید کے قریبی ساتھی قاسم امام نے رنجیدہ لہجے میں بتایا کہ مرحوم گزشتہ دو ماہ سے مسلسل علیل تھے۔ رمضان المبارک میں وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گئے تھے، جہاں قیام کے دوران اچانک انہیں برین ہیمریج ہوگیا۔ فوری طور پر انہیں وہاں کے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ علاج کے بعد طبیعت میں کچھ بہتری آئی تو وہ ممبئی واپس آگئے، تاہم واپسی کے بعد سینے میں شدید تکلیف کی شکایت پیدا ہوئی، جس کے بعد ان کے دل کا آپریشن کیا گیا۔ اگرچہ ڈاکٹروں نے بھرپور کوشش کی، مگر وہ مکمل صحت یاب نہ ہوسکے اور آخرکار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ان کے انتقال سے ممبئی کی اردو دنیا سوگوار ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ فاروق سید کا انتقال اردو صحافت، بچوں کے ادب اور اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک ممتاز صحافی، بہترین منتظم، باصلاحیت ادیب اور بچوں کے بے لوث محسن تھے۔ ان کی پوری زندگی نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور ادبی تربیت کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاروق سید سے ان کے دیرینہ تعلقات تھے اور ان کی شخصیت، خلوص، علمی مزاج اور اردو زبان کے تئیں والہانہ محبت ہمیشہ متاثر کرتی رہی۔ ان کے مطابق مرحوم اردو صحافت اور بچوں کے ادب کا ایک روشن چراغ تھے، جنہوں نے خاموشی کے ساتھ بڑی خدمات انجام دیں۔ معروف شاعر و مفکرعبید اعظم اعظمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بچوں کے مقبول ماہنامہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کے انتقال سے اردو ادب، خصوصاً بچوں کے ادب کا ایک اہم ستون منہدم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق سید نے اپنی پوری زندگی اردو زبان اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے وقف کردی تھی۔ عبید اعظم اعظمی کے مطابق مرحوم ادبی سیمیناروں، مشاعروں اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور نئی نسل کو ادب سے جوڑنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل تھے۔ انہوں نے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اور سماجی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا انتخاب لڑ کر انہوں نے عوامی خدمت کے جذبے کا بھی اظہار کیا تھا۔ میمن فیڈریشن کے صدر اقبال میمن نے کہا کہ فاروق سید نے اردو اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ وہ ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کو زبان و ادب سے جوڑنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔ اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر فاروق انصاری، ، سکریٹری سرفراز آرزو اور نائب صدر جاوید جمال الدین نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید کی رحلت اردو صحافت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحوم کی یاد میں سنیچر 23 مئی کو ایک تعزیتی نشست الفیض عمارت مدنپورہ سانکلی اسٹریٹ کی ساتویں منزل پر جماعت اسلامی کے دفتر کے ہال میں منعقد کی جائے گی، جس میں صحافتی، ادبی اور سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔ کانگریس کے ترجمان نظام الدین راعین نے فاروق سید کی وفات کو اردو دنیا کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور تہذیب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور مستقبل میں ہونے والے اردو پروگراموں میں انہیں خصوصی طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید اور فرحان حنیف نے کہا کہ فاروق سید نہ صرف ادبی میدان کی ایک معتبر شخصیت تھے بلکہ انسان دوستی، بھائی چارے اور محبت کے جذبے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تدفین میں شریک ہزاروں افراد کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مرحوم عوام و خواص میں کتنے مقبول تھے۔ سوشل ہائی اسکول کے پرنسپل آصف اقبال نے آبدیدہ انداز میں کہا کہ انہوں نے ایک مخلص دوست کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق سید شولاپور اور ممبئی کی اردو برادری کا سرمایہ تھے اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ معروف سماجی و تعلیمی شخصیت مصطفیٰ پنجابی نے کہا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر فاروق سید کے ساتھ کام کیا اور انہیں ہمیشہ ثابت قدم، مخلص اور باکردار انسان پایا۔ مشہور شاعر اور کوئز ماہر حامد اقبال صدیقی نے کہا کہ اردو ادب، خصوصاً بچوں کے ادب کے میدان میں فاروق سید کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی رحلت ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔ یونیورسٹی آف ممبئی شعبہ اُردوکے اسسٹنٹ پروفیسر اور “اردو چینل” کے مدیر قمر صدیقی نے کہا کہ فاروق سید نے دہائیوں تک اردو زبان کے فروغ اور بچوں کے ادب کی ترویج کے لیے جو جدوجہد کی، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے جمعرات کو بعد نمازِ عشاء ان کی رہائش گاہ رنگ والا کمپاؤنڈ، سات راستہ مسجد میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اہلِ خانہ، دوست احباب، صحافیوں، ادیبوں اور مرحوم کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔آج قبرستان میں شہرکی صحافت، ادب، سماجی، تعلیمی اور سیاسی میدانوں کی نمایاں شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،ان میں سابق ایم ایل اے سہیل لوکھنڈوالا،اسلام جمخانہ والا کے صدر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی ،ڈاکٹر علاؤ الدین ،انقلاب کے ایڈیٹر شاہد لطیف،مدیر ممبئی اُردو نیوز شکیل رشید،سنئیر صحافی جاوید جمال الدین ،ندیم صدیقی،پونے سےسید سعید احمد، سیفی بک کے جوہر سیفی، شولاپور کے آصف اقبال ،سلطان مالدار،ظہیرانصاری،بال بھارتی کے سی سی او نوید الحق،عبید خان،اردو اکیڈمی ایکزیکٹیو افسر شعیب ہاشمی ،شاعر عرفان جعفری،صحافی رفیع خان،سلیم خان،قطب الدین شاہد،سلیم الوار،کمال مانڈلیکر ،ندیم انصاری اقبال انصاری ،تنویر انصاری،شمیم انصاری بھیونڈی ،سابق اکیڈمی سکریٹری خورشید صدیقی ،جاوید غزالی،ایڈوکیٹ قاضی مہتاب،عمر لکڑاوالا،شعیب صدیقی اور دیگر شامل رہے۔