جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی : اردو غزل کا باوقار لہجہ
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی : اردو غزل کا باوقار لہجہ

Awaz E Bihar•26 دسمبر، 2025 کو 01:00 PM•0 ویوز•7 منٹ پڑھیں

(اختر جمال عثمانی۔ بارہ بنکی Mb.9450191754, )
اودھ کی سرزمین ایک مدت سے زبان و بیان اور شعر و ادب کا گہوارہ رہی ہے ۔ اسی خطہء اودھ کا تاریخی شہر بارہ بنکی اردو شاعری کی روایت میں نمایاں مقام رکھتا ہے اس شہر سے اردو شاعری کے کئی ایسے نام وابستہ ہیں جن پر اردو دنیا فخر کرتی رہی ہے ۔خمار بارہ بنکوی ، شمسی مینائی ، ساغر اعظمی ،سرور بارہ بنکوی اور استادالشعریٰ عزیز بارہ بنکوی جن شعری روایات کے امین رہے ہیں اسی سلسلے کی ایک توانا کڑی ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی بھی ہیں ۔ وہ ایک ایسے شاعر، محقق اور ادیب ہیں جس نے نہ صرف اپنے اجداد کا نام روشن کیا ہے بلکہ اردو غزل کو وقار اور تہذیبی شعور بخشا ہے۔ ان کا آبائی وطن بارہ بنکی ضلع کا قصبہ میلا رائے گنج ہے جہاں یکم جولائی 1964 کو ان کی ولادت ہوئی ۔ ان کا اصل نام سید کلیم کرار ہے لیکن آج ان کو اردو دنیا ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے نام سے جانتی ہے۔ گھر کی علمی فضا اور تربیت نے انہیں اقدار کی پاسداری سکھلائی اور ان کی شخصیت کو توازن اور سنجیدگی عطا کی۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے حقیقی ماموں سرور بارہ بنکوی جو کہ تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے تھے خود بھی ایک نامور شاعر تھے ۔ اس طرح شاعری انھیں ورثے میں ملی اور ایسے شاعرانہ ماحول میں ان کی تربیت ہوئی۔روایت کے مطابق دینیات اور بنیادی اخلاقی تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا ۔ابتدا سے لے کر ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ تک کی تعلیم اپنے وطن بار ہ بنکی میں حاصل کی ۔ یہ وہ دور تھا جب بارہ بنکی میں کئی بزمیں فعال تھیں جن کی ماہانہ نشستیں پابندی سے ہوا کرتی تھیں ۔ وہ عزیز بارہ بنکوی کی زیر تربیت بزمَ افقر کی نشستوں میں شریک ہونے لگے۔ بزم کے روح رواں اختر موہانی صاحب نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ ان کی شاعری کا آغاز تھا۔ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انہوں نے لکھنئو یونی ورسٹی میںداخلہ لیا ۔ یہاں سے بی اے پھر اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ لکھنئو اردو زبان اور ادب کا ایک بڑا مرکز تھا ۔ یہاں آکر وہ زبان کی لطافت اور تہذیبی علامات کی باریکیوں سے آشنا ہوئے ۔
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے اولین استاد عزیز بارہ بنکوی تھے۔ انہوں نے عروض کے ساتھ ساتھ مضمون آفرینی کے رموز بھی سکھائے۔ بعد میں انہوں نے آذر بارہ بنکوی سے بھی اصلاح لی ۔ اساتذہ کی یہ تربیت محض رسمی نہ تھی ۔ ان کی شاعری میں جو توازن ، شائستگی اور وقار ہے اسی کا فیضان ہے ۔ تلاش معاش انہیں 1991 میں شہر غزل بھوپال لے آئی یہ وہ شہر تھا جہاں اردو غزل ایک نئی شناخت حاصل کر رہی تھی۔
پناہ مجھ کو ملی ایسے شہر میں انجمؔ
جہاں پہ آج بھی تہذیب کے اجالے ہیں
بھوپال میں مشاعروں کی روایت آب و تاب کے ساتھ موجود تھی اور سب سے خاص بات کہ ڈاکٹر بشیر بدر جیسے عظیم شاعر کی صحبت میسر تھی۔ یہاں انھیں ڈاکٹر بشیر بدر کی قربت حاصل ہوئی اور ان کی فکر اور شاعری پر اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ یہاں انہوں نے تحقیق کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے ’’ شہنشاہِ غزل ڈاکٹر بشیر بدر شخصیت اور فن‘‘ کے عنوان سے مقالہ تحریر کیا۔ اس پر انھیں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل ہوئی۔ یہ مقالہ محض ایک عام سی تحقیقی دستاویز نہ تھا بلکہ بشیر بدر کی شاعری ان کی فکری جہت اور عصری معنویت کا آئینہ تھا۔ بشیر بدر کی قربت انھیں طویل عرصے تک حاصل رہی دونوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی مشاعرے پڑھے۔ اس رفاقت نے ان کے شعری شعور کو وسعت دی ۔ بشیر بدر نہ صرف ان کے فکری رہنما بنے بلکہ ان کی شاعری کے مزاج پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ آج انجم بارہ بنکوی کی آواز ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہے ۔ بیرونی ممالک میں اردو سامعین میں ان کا کلام اسی طرح مقبول ہے جس طرح اپنے وطن میں ،۔ ان کی شرکت کے ذریعے اردو زبان کی نمائندگی خلیجی ممالک سے لے کر مغربی دنیا تک کے مشاعروں میں ہوتی رہتی ہے اور اودھ اور بھوپال کی تہذیب یکجا ہو کر سارے عالم میں پہونچتی ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر بشیر بدر کے شعری مجموعوں کی ترتیب میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی شخصیت اور فن پر کتابیں تحریر کیں جو انکے اخلاص کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے محض تخلیق پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ترتیب، تدوین اور تنقید کے ذریعے اردو ادب کی بیش بہا خدمت انجام دی ۔
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جو ان کی مسلسل تخلیقی فعالیت کا ثبوت ہیں ۔ ان کے اہم مجموعوں میں’ خاموشیوں کا نغمہ ‘ اور اور’ زمانہ کچھ اور ہے ‘ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ان مجموعوں کی شاعری عصری شعور کی مثال ہے بدلتا ہوا سماج، قدروں کا زوال اور انسان کے سکھ دکھ کو موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی شحصیت کا اہم پہلو ان کی فکری وسعت اور ہندی زبان پر گرفت ہے ۔ ہندی میں ان کے مجموعے ’ اعتبار‘، سوغات‘، اور ’لہجے کی چاندنی ‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ممتاز شاعر نور امروہوی کے کلام کو ’ سگنیچر‘ کے عنوان سے مرتب کر کے اہم ادبی خدمت انجام دی ہے ۔ اپنے ہم وطن ڈاکٹر ساغر اعظمی مرحو م کے لئے انجم صاحب کی محبت اور ا خلاص کا ثبوت ان کی کتاب ’’ ڈاکٹر ساغر اعظمی : الفاظ سے آواز تک ‘‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی شاعری تہذیبی شعور رکھتی ہے ، سچائی سے آنکھ ملاتی ہے اور الفاظ کو وقار بخشتی ہے۔ان کے کچھ اشعار پر نظر ڈالتے ہیں ، ان کا ایک مشہور زمانہ شعر ہے جو اس عہد کی مصروفت اور انسان کی بے حسی کا مظہر ہے ۔
ہمیں آنا ہے حالِ دل سنانے
تمہیں کس روز آسانی رہے گی
یہ شعر طاقت اور سچ کے تصدم کی تصویر پیش کرتا ہے
سورج کو روشنی سے عداوت ضرور ہے
اس نے کسی چراغ کو جلنے نہیں دیا
اس شعر میں سادہ الفاظ میں تلخ سماجی حقیقت کا بیان ہے جہاں ایک آزمائش کا نام بن چکا ہے ۔
جھوٹی باتیں جھوٹے لوگ
سہتے رہیں گے سچے لوگ
اس غزل کے اشعار میں انسانی عظمت کومادی چیزوں سے بلند بتایا گیا ہے
مجھے سونے کی قیمت مت بتائو
میں مٹی ہوں مری عظمت بہت ہے
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی اردو غزل کے اس باوقار لہجے کے نمائندے ہیں جو لفظ کو ذ مہ داری مانتا ہے۔ ملک اور بیرونَ ملک کی مختلف ادبی انجمنوں اور اداروں کی طرف سے انہیں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے ۔ مقام مسرت ہے کہ آئندہ 27 دسمبر کو ان کے آبائی وطن بارہ بنکی میں سماجی تنظیم ’’ کاروانِ انسانیت بارہ بنکی ‘‘ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ’’ جشن ڈاکٹرِ انجم بارہ بنکوی ‘‘ کے نام سے ایک تقریب منعقد کی جارہی ہے ۔ اردو ادب کو ان سے بہت سی توقعات ہیں ، یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کا نام اردو کی ادبی تاریخ میں اور زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئیگا۔
َ ٭٭ ٭
ّ ( اختر جمال عثمانی، دیوہ روڈ، رفیع نگر۔ بارہ بنکی 9450191754 Mb akhtar.jamal.usmani@gmail.com



E




















ٓٓ


شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026