برکس میں خواتین کی قیادت والی تجارت کو فروغ دینے پر زور قرض و عالمی منڈی تک آسان رسائی کا مطالبہ
Awaz E Bihar••19 ویوز•6 منٹ پڑھیں
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے برکس ممالک سے خواتین صنعتکاروں اور خواتین کی قیادت والے کاروبار کے لیے عالمی تجارت میں مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تجارت میں قدم رکھنے والے صنعتکاروں کو بنیادی طور پر تین بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں قرض تک رسائی، خریداروں اور منڈیوں تک رسائی اور تجارت کے واضح و قابلِ پیش گوئی قوانین شامل ہیں۔قومی دارالحکومت میں منعقدہ ’برکس ڈبلیو بی اے ویمن لیڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان خواتین صنعتکاروں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے اپنے تجربات کو برکس ویمن بزنس الائنس اور برکس کی وسیع تر تجارتی سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خواتین کو اقتصادی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے ساتھ تعلیم، ہنرمندی اور بہتر معیارِ زندگی پر بھی توجہ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 12 سال قبل بڑی تعداد میں خواتین، خصوصاً دیہی خواتین، بینک کھاتوں، اپنے نام پر جائیداد اور قرض لینے کے مناسب ریکارڈ سے محروم تھیں، جس کی وجہ سے انہیں قرض حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ اس کے بعد ہندوستان میں خواتین کے نام پر مکانات فراہم کیے گئے، تقریباً 30 کروڑ بینک کھاتے کھولے گئے اور کاروبار شروع کرنے کی خواہش مند خواتین کو بغیر ضمانت قرض فراہم کیے گئے۔پیوش گوئل کے مطابق آج تقریباً 10 کروڑ دیہی خواتین، 90 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس، چھوٹے کوآپریٹو اداروں اور خواتین کے مختلف گروپوں سے وابستہ ہیں۔ اپنی ذاتی آمدنی سے ایک لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ کمانے والی خواتین کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، جنہیں ’لکھپتی دیدی‘ کہا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے چھوٹے صنعتکاروں کو تقریباً 56 کروڑ قرض فراہم کیے ہیں، جن میں 68 فیصد سے زیادہ قرض خواتین صنعتکاروں کو ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو اقتصادی طور پر خود کفیل بنانا حکومت کی ترجیح ہے، کیونکہ جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں تو وہ ملک کی اقتصادی ترقی کی مضبوط محرک بن جاتی ہیں۔وزیر تجارت نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل ہندوستان میں خواتین کی ورک فورس میں شرکت تقریباً 19 فیصد تھی، لیکن آنے والے برسوں میں تعلیم، ہنرمندی اور آمدنی میں اضافے کے ساتھ اسے 50 فیصد یا اس سے زیادہ تک پہنچانے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کے رسمی روزگار سے وابستہ ہونے سے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو مزید رفتار مل سکتی ہے۔پیوش گوئل نے کہا کہ خواتین کو صرف سرکاری اسکیموں کی مستفید نہیں بلکہ ’نئے ہندوستان کی معمار‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایک خاتون کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنے کا فائدہ پورے خاندان کو پہنچتا ہے اور بچوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔خواتین صنعتکاروں کے لیے عالمی منڈیوں کے دروازے کھولنے پر زورعالمی منڈیوں تک رسائی کے سلسلے میں انہوں نے برکس ممالک کے درمیان ایک مشترکہ تجارتی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک رکن ملک میں کسی پروڈکٹ کی طلب کی اطلاع دوسرے رکن ممالک تک پہنچائی جاسکتی ہے اور مالیاتی اداروں کو بھی اس نظام سے جوڑا جاسکتا ہے، جس سے خواتین اور چھوٹے صنعتکاروں کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے برکس ممالک سے شعبہ وار خواتین کی قیادت والے تجارتی وفود تشکیل دینے کی بھی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی قیادت والے وفود برکس کے رکن ممالک کا دورہ کرکے کاروباری روابط اور عالمی ویلیو چین کو مضبوط کرسکتے ہیں۔پیوش گوئل نے کہا کہ تجارت کے لیے قوانین میں پیش گوئی اور یقین دہانی، کھلی سرحدیں اور آزادانہ تجارت کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔ انہوں نے برکس ممالک سے الیکٹرانک تجارتی دستاویزات، ای-انوائس، الیکٹرانک بل آف لیڈنگ اور ای-کسٹمز ڈیکلریشن کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم بنانے پر بھی زور دیا۔انہوں نے حکومتوں سے خواتین کی ملکیت والے اداروں کو بین الاقوامی نمائشوں، کانفرنسوں، سیمیناروں، بزنس فورمز اور خریدار و فروخت کنندہ ملاقاتوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی ترغیب دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال پیش رفت کی رپورٹ بھی جاری کی جانی چاہیے، جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ کون سے کاروبار کامیاب رہے اور کن شعبوں پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔’ پیوش گوئل نے ہندوستان کی ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ پہل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تقریباً 780 اضلاع میں مختلف مصنوعات کی شناخت کی گئی ہے، جنہیں عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اب سروسز کے شعبے تک بھی پھیل رہی ہے اور مختلف اضلاع کو برآمدی مراکز کے طور پر فروغ دینے کی کوشش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پھلوں اور سبزیوں کی عالمی منڈی میں بڑھتی مانگ، خصوصاً خلیجی ممالک میں، چھوٹے کسانوں اور خواتین صنعتکاروں کے لیے پیکیجنگ، ڈیزائننگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں بڑے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ وزیر تجارت نے کہا کہ عالمی تجارت میں مشکلات اور غیر یقینی حالات کے باوجود رواں مالی سال اپریل سے اگست کے دوران ہندوستان کی اشیا کی برآمدات میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل سے جون کی پہلی سہ ماہی میں مستحکم قیمتوں پر ہندوستانی معیشت کی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح نمو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی تجارت اور گلوبلائزیشن سے پیچھے ہٹنے کے بجائے دنیا کے ساتھ اپنے تجارتی روابط مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان نے 2047 تک موجودہ تقریباً 4 لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت کو 30 لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے حصول میں خواتین کی قیادت والی ترقی کو اہم کردار حاصل ہوگا۔پیوش گوئل نے وزیراعظم نریندر مودی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’جب خواتین ترقی کرتی ہیں تو دنیا ترقی کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نوجوان خواتین عالمی سطح پر زیادہ خوشحالی اور بہتر مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔