جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی حکومت، ترنمول کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی حکومت، ترنمول کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ

Awaz E Bihar•4 مئی، 2026 کو 04:32 PM•6 ویوز•3 منٹ پڑھیں

کولکاتا، 4 مئی مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے۔ ریاست کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مکمل اکثریت کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ اس شاندار جیت کے ساتھ ہی بنگال کے اقتدار پر ترنمول کے 15 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
بی جے پی نے 294 نشستوں والی ریاستی اسمبلی میں اب تک 130 نشستوں پر جیت حاصل کر لی ہے اور 77 نشستوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس طرح اس کی جیت کا اعداد و شمار 207 تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ترنمول کانگریس نے صرف 48 نشستوں پر جیت حاصل کی اور 32 نشستوں پر برتری کے ساتھ اس کی جھولی میں زیادہ سے زیادہ 80 نشستیں ہی آ سکیں گی۔ کانگریس نے دو نشستیں جیتیں اور عام جنتا اونین پارٹی (اے جے یو پی) نے بھی دو ہی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
اگر گزشتہ انتخابات کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کو 43.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ 22 نشستیں ملی تھیں، جبکہ بی جے پی 40.25 فیصد ووٹ حاصل کر کے 18 نشستوں تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی، جہاں ترنمول نے 47.94 فیصد ووٹوں کے ساتھ 213 نشستیں جیت کر اپنی گرفت مضبوط کی تھی، جبکہ بی جے پی 38.13 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 77 نشستوں پر سمٹ گئی تھی۔
انتخابی سفر کے حالیہ اعداد و شمار کو دیکھیں تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول نے 46.16 فیصد ووٹ حاصل کر کے 29 نشستیں جیتیں، جبکہ بی جے پی 39.08 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 12 نشستوں پر رہی۔
بی جے پی کے انتخابی سفر میں یہ تسلسل دیکھنے کو ملا ہے کہ اس نے 2016 میں محض تین نشستوں سے شروعات کی تھی، جس کے بعد 2021 میں 77 اور اب 2026 میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے دہانے پر ہے۔
اس انتخابی میدان میں ایک طرف محنتی ممتا بنرجی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی، لیکن اقتدار مخالف لہر اور ترقی کے وعدوں کے سامنے ان کی گھیرا بندی ناکام رہی۔ آخر کار، کولکاتا کے ہیڈ کوارٹر سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک بھگوا لہر دوڑ گئی ہے اور بنگال کی سرزمین پر پہلی بار کمل کھلا ہے۔
اس الیکشن میں ممتا حکومت کے بڑے بڑے نام ناکام رہے۔ ان کے کئی وزراء کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026