تمل ناڈو کی پانچ اسمبلی نشستوں پر فی الحال ضمنی انتخابات نہیں ہوں گے
Awaz E Bihar••74 ویوز•3 منٹ پڑھیں
الیکشن کمیشن (ای سی آئی) نے پیر کو مدراس ہائی کورٹ کو بتایا کہ زیر التوا انتخابی عرضیوں کا فیصلہ ہونے تک تمل ناڈو کی پانچ اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے پروگرام کا اعلان کرنے کا اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس دوران تمل ناڈو حکومت کی جانب سے اسمبلی میں ان نشستوں کی نمائندگی نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت میں تیزی لانے کی درخواست کے بعد عدالت نے عرضی گزاروں کو نوٹس جاری کیے۔ چیف جسٹس جسٹس ایس اے دھرمادھیکاری اور جسٹس جی ارول مروگن پر مشتمل بنچ نے جنوبی ترو نیل ویلی ضلع کے پالایم کوٹئی کے رہائشی وینکٹاچل پتی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 8 ستمبر تک ضمنی انتخابات کرانے سے روکنے والی عبوری پابندی میں بھی توسیع کردی۔ عدالت نے 10 جولائی کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں الیکشن کمیشن، مرکزی حکومت، اسمبلی سکریٹری اور وزیراعلیٰ وجے کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا اور ضمنی انتخابات پر عائد پابندی کو 24 اگست تک بڑھا دیا تھا۔ اس کے بعد کرور کے سابق رکن اسمبلی ایم آر وجے بھاسکر اور کرور کے سابق رکن اسمبلی سی وجے بھاسکر نے پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضیاں دائر کی تھیں۔ تریچی ایسٹ، کرور، امباسمدرم، ویرالیملائی اور پیروندورئی اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے اعلان پر روک لگائی گئی تھی، حالاں کہ مدورانتکم اور دھارا پورم سمیت کل سات نشستیں خالی ہوئی تھیں۔ آج جب اس معاملے کی سماعت ہوئی تو الیکشن کمیشن نے اپنا جوابی حلف نامہ داخل کیا۔ اس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق جب تک انتخابی عرضیوں کا فیصلہ نہیں ہوجاتا، وہ ان پانچ نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا اعلان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس دوران تمل ناڈو حکومت نے عدالت سے سماعت میں تیزی لانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان پانچوں اسمبلی حلقوں میں کوئی منتخب نمائندہ موجود نہیں ہے۔ بنچ نے تریچی ایسٹ سے مسٹر سی جوزف وجے کے خلاف انتخاب لڑنے والے ڈی ایم کے کے شکست خوردہ امیدوار انیگو اریودھیا راج اور دیگر فریقین کو اپنے جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی اور معاملے کی سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔ ان سات نشستوں میں سے چھ پراے آئی اے ڈی ایم کے کا قبضہ تھا، جبکہ ایک نشست مسٹر وجے کے پاس تھی، جو حکمراں تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے بانی صدر بھی ہیں۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے ان تمام سات نشستوں کو خالی قرار دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا اور الیکشن کمیشن کو بھی اس کی اطلاع دے دی تھی، جس سے ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ تاہم ان پانچ نشستوں سے منتخب امیدواروں کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے عرضیاں دائر کردی گئی تھیں۔ تریچی ایسٹ کی نشست مسٹر وجے کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور چنئی کی پیرمبور نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح امباسمدرم کی نشست موجودہ رکن اسمبلی اسکی سبرمیا کے استعفے اور پیروندورئی کی نشست رکن اسمبلی ایس جے کمار کے عہدہ چھوڑنے کے بعد خالی ہوئی۔ کرور اور ویرالیملائی کی نشستیں بالترتیب اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزرا اور اس وقت کے ارکان اسمبلی **ایم آر وجے بھاسکر اور ڈاکٹر سی وجے بھاسکر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ مدورانتکم اور دھارا پورم کی نشستیں اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان اسمبلی مرگتھم کمارویل اورپی ستیابھاما کے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔