سرحدی معاہدوں پر عمل کریں اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہ ہونے دیں: مودی
Awaz E Bihar••26 ویوز•3 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد سے متعلق معاملات سے جڑے موجودہ معاہدوں اور اتفاق رائے پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔مسٹر مودی نے ہفتہ کو یہاں برکس سربراہ اجلاس سے الگ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تقریباً 50 منٹ تک جاری رہنے والی دو طرفہ بات چیت میں زور دے کر کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام دو طرفہ تعلقات کے لیے ضروری بنیاد ہے۔دونوں رہنماؤں نے اگست 2025 میں تیانجن میں ہوئی گزشتہ دو طرفہ بات چیت کے بعد ہند-چین دو طرفہ تعلقات میں ہوئی مسلسل پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دہرایا کہ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے اور اختلافات کو تنازع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں فریقوں کو 3 باتوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، جن میں باہمی احترام، باہمی حساسیت اور باہمی مفاد شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام دو طرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی کے لیے ضروری بنیاد ہے۔ انہوں نے سرحد سے متعلق معاملات پر موجودہ معاہدوں اور اتفاق رائے کی دونوں فریقوں کی جانب سے پابندی کیے جانے کی ضرورت بتائی۔ دونوں رہنماؤں نے وسیع تر دو طرفہ تعلقات کے سیاسی نقطۂ نظر اور دونوں ممالک کے عوام کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی تنازع کے منصفانہ، مناسب اور دونوں فریقوں کو قابل قبول حل کے لیے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے عوام کے درمیان تعلقات میں پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے، کاروباری تعلقات اور لوگوں کی آمد و رفت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر انہوں نے ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنے کی ضرورت بتائی۔ ان میں تجارت میں ساختی عدم توازن اور رسد کے سلسلے سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے بامعنی اور پہلے سے طے شدہ بازار تک رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ بنیاد کو مسلسل وسیع کیا جانا چاہیے اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کی برکس صدارت کے لیے چین کی حمایت اور 2026 کے برکس سربراہ اجلاس کی کامیابی میں اس کے تعاون کی ستائش کی۔مسٹر مودی اور مسٹر شی کے درمیان 3 سال میں یہ مسلسل تیسری دو طرفہ بات چیت ہے۔ اس سے پہلے کی 2 دو طرفہ بات چیت بالترتیب کازان اور تیانجن میں ہوئی تھی۔ سال 2020 میں گلوان وادی میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان ہوئی پرتشدد جھڑپ کے بعد مسٹر شی کا یہ پہلا ہندوستان کا دورہ ہے۔ اس سے پہلے وہ 2019 میں ہندوستان آئے تھے۔ اس جھڑپ میں ہندوستان کے 20 فوجی شہید ہوگئے تھے۔ چین کے بھی بڑی تعداد میں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ سال 2024 میں کازان میں دو طرفہ ملاقات کے بعد سے دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔