جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ٹوٹتے رشتے، بدلتی ترجیحات: ازدواجی زندگی کا نیا منظرنامہ
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

ٹوٹتے رشتے، بدلتی ترجیحات: ازدواجی زندگی کا نیا منظرنامہ

Awaz E Bihar•10 مئی، 2026 کو 02:00 PM•13 ویوز•8 منٹ پڑھیں


تحریر: یوسف شمسی
رابطہ: 9162216560

ازدواجی زندگی انسان کے لیے محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ جذبات، ذمہ داریوں، قربانیوں اور باہمی اعتماد پر قائم ایک نہایت نازک رشتہ ہے۔ شادی دو افراد کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں، دو تہذیبوں، دو مزاجوں اور دو مختلف تربیتوں کا ملاپ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رشتے کو کامیابی سے نبھانے کے لیے صرف محبت کافی نہیں بلکہ صبر، برداشت، سمجھ داری اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہوتی ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں یہ رشتہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ کمزور، غیر مستحکم اور مسائل سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی شادیاں چند مہینوں یا چند برسوں میں ہی اختلافات، ذہنی دباؤ، بداعتمادی اور بالآخر علیحدگی یا طلاق تک جا پہنچتی ہیں۔ یہ صورتحال محض کسی ایک فرد یا ایک جنس کی غلطی نہیں بلکہ ایک مجموعی سماجی بحران کی عکاسی کرتی ہے، جس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں۔
سب سے پہلے اگر ہم توقعات کے مسئلے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جدید میڈیا اور سوشل میڈیا نے ازدواجی زندگی کا ایک غیر حقیقی اور مثالی تصور پیش کیا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر دکھائی جانے والی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں، اختلافات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور ہر مسئلہ چند لمحوں میں حل ہو جاتا ہے۔ جب حقیقی زندگی ان تصورات سے مختلف نکلتی ہے تو مایوسی، بے اطمینانی اور شکایت جنم لیتی ہے۔ نتیجتاً میاں، بیوی ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے لگتے ہیں۔
دوسرا اہم عنصر انا اور برداشت کی کمی ہے۔ موجودہ دور میں خود اعتمادی اور خود مختاری کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جو اپنی جگہ درست ہے، لیکن ازدواجی زندگی میں لچک اور قربانی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ جب دونوں فریق اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھیں اور ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوں تو چھوٹے چھوٹے اختلافات بھی شدت اختیار کر لیتے ہیں اور رشتے میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔
معاشی دباؤ بھی اس بحران کا ایک اہم سبب ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کی غیر یقینی صورتحال اور معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کی دوڑ، میاں بیوی دونوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب انسان مالی پریشانیوں کا شکار ہوتا ہے تو اس کے رویّے میں چڑچڑاپن، بے صبری اور غصہ آ جاتا ہے، جو براہِ راست ازدواجی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہیں۔ پہلے مشترکہ خاندانوں میں بزرگوں کی رہنمائی اور تجربہ نوجوان جوڑوں کے لیے سہارا بنتا تھا، جبکہ اب زیادہ تر لوگ الگ رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس آزادی کے اپنے فوائد ہیں، لیکن اس کے ساتھ رہنمائی اور برداشت کا وہ عنصر کم ہو جاتا ہے جو بزرگ فراہم کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف بعض اوقات خاندانوں کی غیر ضروری مداخلت بھی مسائل کو بڑھا دیتی ہے، جس سے میاں، بیوی کے درمیان اعتماد اور خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو جذباتی ناپختگی ہے۔ بہت سے نوجوان شادی کو صرف خوشیوں، سیر و تفریح اور رومانوی لمحات تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک مکمل ذمہ داری ہے جس میں ایڈجسٹمنٹ، برداشت اور ایک دوسرے کی کمزوریوں کو قبول کرنا شامل ہے۔ جب وہ عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو انہیں یہ رشتہ بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔
سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ازدواجی تعلقات میں خلل ڈال رہا ہے۔ دوسروں کی زندگیوں سے مسلسل موازنہ، غیر ضروری تعلقات، اور ذاتی معاملات کو عوامی سطح پر لانا اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ بعض اوقات ایک معمولی غلط فہمی بھی سوشل میڈیا کے ذریعے بڑھ کر ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔


مزید یہ کہ، وقت کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ مصروف طرزِ زندگی، لمبے اوقاتِ کار اور ڈیجیٹل مصروفیات کے باعث میاں بیوی ایک دوسرے کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ نتیجتاً جذباتی دوری پیدا ہوتی ہے اور رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تعلق کو مضبوط رکھنے کے لیے وقت اور توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔
ازدواجی مسائل میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے معافی اور درگزر کی روایت کو کمزور کر دیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لینا، غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور فوری ردعمل دینا رشتے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جبکہ کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کی کمزوریوں کو سمجھ کر انہیں قبول کرے اور موقع ملنے پر معاف کرنا سیکھے۔
اس صورتحال میں میڈیا اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر نوجوانوں کو شادی سے پہلے ہی اس رشتے کی حقیقت، ذمہ داریوں اور چیلنجز سے آگاہ کیا جائے تو وہ زیادہ حقیقت پسندانہ توقعات کے ساتھ اس بندھن میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح خاندانی تربیت میں بھی برداشت، احترام اور ذمہ داری کے عناصر کو فروغ دینا ضروری ہے۔
حل کے طور پر سب سے اہم چیز مؤثر ابلاغ ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل، احساسات اور توقعات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ خاموشی، غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے جبکہ بات چیت مسائل کو حل کرنے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
اسی طرح باہمی احترام کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔ اختلاف رائے ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن اس اختلاف کو عزت اور شائستگی کے دائرے میں رکھنا ہی رشتے کی اصل خوبصورتی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ شادی کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی عہد ہے جسے نبھانے کے لیے مسلسل کوشش درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم صبر، برداشت، محبت، اعتماد اور سمجھوتے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہ رشتہ نہ صرف قائم رہ سکتا ہے بلکہ ایک پُرسکون، خوشحال اور بامقصد زندگی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ازدواجی زندگی کو محض ایک رسمی بندھن کے بجائے ایک ذمہ دارانہ شراکت داری کے طور پر دیکھیں، جہاں دونوں فریق برابر کے شریک ہوں اور ایک دوسرے کے سکون، عزت اور خوشی کو اپنی ترجیح بنائیں۔ تب ہی ہم اس بڑھتے ہوئے ازدواجی بحران پر قابو پا سکتے ہیں اور ایک مضبوط، صحت مند اور متوازن معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر رشتہ اپنی فطرت میں منفرد ہوتا ہے۔ ایک جوڑے کے مسائل اور ان کے حل دوسرے پر منطبق نہیں ہو سکتے۔ اس لیے دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنے تعلق کو اس کی اپنی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ شعور کہ “ہماری کہانی ہماری اپنی ہے” رشتے میں اطمینان اور استحکام پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح ازدواجی زندگی میں شکر گزاری کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ اکثر اوقات انسان اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو نظر انداز کر کے صرف کمزوریوں پر توجہ دیتا ہے، جس سے رشتہ بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اگر ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور مثبت پہلوؤں کو سراہنے کی عادت ڈال لیں تو تعلق میں خود بخود نرمی اور محبت پیدا ہوتی ہے۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر دو افراد کے خیالات، ترجیحات اور نقطۂ نظر مختلف ہو سکتے ہیں، اور یہی فرق رشتے کو وسعت دیتا ہے۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشترکہ راستہ تلاش کریں۔
بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شادی کا رشتہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اس میں ہر دن ایک نیا سبق ہوتا ہے، کبھی صبر کا، کبھی برداشت کا اور کبھی محبت کے اظہار کا۔ جو لوگ اس سیکھنے کے عمل کو قبول کر لیتے ہیں، وہی اس رشتے کی خوبصورتی اور پائیداری سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہو پاتے ہیں۔
اس تمام گفتگو کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور حساس پہلو جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ سچائی اور دیانت داری کا ہے۔ رشتے طے کرتے وقت، خواہ لڑکی والوں کی طرف سے ہو یا لڑکے والوں کی جانب سے، اگر کسی فریق کو کوئی بیماری، نفسیاتی مسئلہ، مالی حقیقت یا کوئی ایسی اہم بات معلوم ہو جو مستقبل میں ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہو، تو اسے ہرگز چھپانا نہیں چاہیے۔ وقتی طور پر کسی حقیقت کو چھپا لینا شاید رشتہ طے کر دے، لیکن یہی پوشیدہ بات بعد میں بداعتمادی، جھگڑوں اور حتیٰ کہ طلاق کا سبب بن سکتی ہے۔
ایک مضبوط رشتے کی بنیاد سچائی پر قائم ہوتی ہے۔ اگر آغاز ہی دھوکے یا ادھوری معلومات سے ہو تو اس رشتے میں اعتماد کی وہ مضبوطی پیدا نہیں ہو پاتی جو ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت مکمل شفافیت اختیار کی جائے، تاکہ دونوں فریق حقیقت کو جان کر ایک دوسرے کو قبول کریں۔ یہی رویہ نہ صرف رشتے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ آئندہ آنے والے مسائل سے بھی بڑی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026