جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آزاد تجارتی معاہدوں سے چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں  اور ماہی گیروں  کے لیے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں: مودی
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

آزاد تجارتی معاہدوں سے چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں اور ماہی گیروں کے لیے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں: مودی

Awaz E Bihar•15 اگست، 2026 کو 04:42 PM•47 ویوز•4 منٹ پڑھیں

نئی دہلی، 15 اگست: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز یومِ آزادی کے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کیے جا رہے ہیں جن سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے لیے عالمی مارکیٹ میں وسعت حاصل کرنے کا بڑا موقع آیا ہے اور انہیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے اس کے لیے مصنوعات کی کوالٹی بڑھانے اور لاگت گھٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔ لال قلعے کی فصیل سے اپنے خطاب میں مسٹر مودی نے کہا، "...آج ہندوستان کا پروفائل پوری طرح بدل رہا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کے لیے ایک مقبول اور قابلِ احترام ملک بن رہا ہے۔ ہندوستان کے پاس مستحکم سیاسی مینڈیٹ ہے، مستحکم حکومت ہے، ہندوستان میں متحرک جمہوریت ہے، ہندوستان کا مضبوط عدالتی نظام ہے اور ہم سب کو سمت دینے والا ہندوستان کا آئین ہے، اور اب دنیا ہمارے اس سامرتھیہ کو پہچاننے لگی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اور اسی لیے 2014 کے بعد، دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ ہمارے ایف ٹی اے ایگریمنٹ (آزاد تجارتی معاہدے) ہو رہے ہیں۔...یہ ایک بہت بڑا موقع ہے اور اسی لیے خاص طور پر میں اپنے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنتعتوں (ایم ایس ایم ای) سے کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ دنیا میں ہمیں پہنچنا ہے، ہندوستان کی مصنوعات کی ہر چیز دنیا کی مارکیٹ میں پہنچے اور چاہے ہمارا ٹیکسٹائل ہو، ہماری مشینری ہو، ادویات ہوں، ہم نے موقع چھوڑنا نہیں ہے، لیکن عالمی سطح کے جو پیرامیٹرز (معیارات) ہیں، ان معیارات کو ہمیں عبور کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا سے جو ملتا ہے، اس سے بہتر دینا پڑے گا۔ دنیا میں جو ملتا ہے، اس سے سستا دینا پڑے گا۔"

قابلِ ذکر ہے کہ ان تجارتی معاہدوں میں 27 رکن ممالک والے یورپی یونین (ای یو) کے ساتھ ہوا اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ بھی شامل ہے جس کو عمل میں لانے کی بات چیت چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "اور پنجاب کے لدھیانہ سے لے کر تمل ناڈو کے تروپور تک ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر دنیا میں پہنچ سکتا ہے۔...کیرلم سے لے کر گجرات اور تمل ناڈو سے لے کر بنگال کے ساحلی علاقے میں ہمارے مچھیرے بھائی بہنوں کے لیے آج ان ایف ٹی اے کی بدولت شرمپ یعنی جھینگے کی برآمدات کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے سی فوڈ (سمندری غذائیں) کی دنیا میں رسائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔"

وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے گزشتہ 12 سالوں میں مختلف شعبوں میں خود کفالت سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کووڈ جیسی وبا اور مختلف جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) بحرانوں سے نمٹنے میں ہندوستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "اگر ہم خود کفالت کے منتر کو لے کر 10 سال صحیح سمت میں نہ چلے ہوتے، تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی چیلنجز کا مضبوطی سے مقابلہ کیسے کرتے۔" انہوں نے کہا، "ہماری تیاریاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔"

مسٹر مودی نے کہا، "ایک وقت تھا، جب میں خود کفالت کی بات کر رہا تھا، تو کچھ لوگ ایئر کنڈیشنڈ کمروں (چیمبرز) میں بیٹھ کر سوچنے والے ہمیں بتا رہے تھے کہ گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کا کیا ہوگا۔ لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا نے گلوبلائزیشن بولنا ہی بند کر دیا ہے۔ جہاں سے گلوبلائزیشن کی آوازیں آتی تھیں، وہ بند ہو گئیں، سنائی نہیں دیتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "دنیا کا ہر ملک اپنے اپنے مسائل کے مزاج کی طرف بڑھا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس بحران کے دور میں کچھ لوگوں نے اپنا رعب دکھانے کے لیے وسائل کو ویپنائز (ہتھیار کے طور پر استعمال) کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ دنیا اپنے پاس جو کچھ بھی ہے، اسے ویپنائز کرنے میں لگی ہے۔ وسائل کا ویپنائزیشن، پیٹرول، ڈیزل، فرٹیلائزر، ادویات، ٹیکنالوجی کی چپس، اتنا ہی نہیں زمینی علاقوں کو بھی ویپنائز کیا جا رہا ہے۔"
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026