جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مجاہد آزادی مولانا مظہر الحق کی صحافت
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

مجاہد آزادی مولانا مظہر الحق کی صحافت

Awaz E Bihar•21 دسمبر، 2025 کو 02:20 PM•8 ویوز•18 منٹ پڑھیں

وحیدہ رحمان
پی ایچ ڈی اسکالر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسیٹی
alrakhashanda@gmail.com
تحریکِ آزادی میں جن شخصیات نے سیاست، سماج، تعلیم اور صحافت چاروں میدانوں میں ہمہ گیر خدمات انجام دیں، ان میں مولانا مظہر الحق کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ مولانا مظہر الحق محض ایک سیاسی رہنما یا سماجی مصلح ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسے صحافی بھی تھے ۔جنہوں نے قلم کو قوم کی بیداری، فکری آزادی اور سماجی انصاف کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک تھی، جو عوام کے دل و دماغ کو جھنجھوڑتی تھی اور غلامی کے خلاف جدوجہد میں نئی روح پھونکتی تھی۔مظہر الحق کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے تعلیم و تربیت کے ذریعے فکری بالیدگی حاصل کی اور پھر اسی شعور کو صحافت کے ذریعے عوام تک منتقل کیا۔ وہ ایک صاحبِ فکر، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار شخصیت تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی، مساوات اور انصاف کے روشن راستے پر گامزن کرنا تھا۔مولانا مظہر الحق کی پیدائش 22 دسمبر 1866ء کو صوبہ بہار کے ضلع پٹنہ بھپورا گاوں میں ایک معزز اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو دینی و دنیاوی علوم کا قدردان اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔ بچپن ہی سے مولانا مظہر الحقؒ میں سنجیدگی، ذہانت اور سچائی کے آثار نمایاں تھے۔مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم بھی حاصل کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ کا سفر کیا جہاں قانون (Law) کی تعلیم حاصل کی۔ مغربی تعلیم کے باوجود ان کی دینی و اخلاقی اقدار مضبوط رہیں۔ تعلیم کے دوران ہی ان میں قوم کی خدمت کا جذبہ بیدار ہو چکا تھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا مظہر الحقؒ نے وکالت کے پیشے کا آغاز کیا، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کی اصل منزل قوم کی رہنمائی اور سماجی اصلاح ہے۔ اس احساس نے انہیں سیاست اور عوامی خدمت کی طرف مائل کر دیا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے قومی مقصد کے لیے وقف کر دیا۔وہ انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہے اور مہاتما گاندھیؒ کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے عدم تشدد، سچائی اور قومی اتحاد کے اصولوں پر پوری زندگی عمل کیا۔وہ بہار کے ان اولین رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے انگریز حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر اپنے اصولوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کی فلاح تھا۔وہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار ان کی سب سے بڑی پہچان ہندو مسلم اتحاد ہے۔ وہ فرقہ واریت کے سخت مخالف تھے اور ہندوستان کی آزادی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک دونوں قومیں مل کر جدوجہد نہیں کریں گی، آزادی ممکن نہیں۔انہوں نے اپنی تقاریر، تحریروں اور عملی اقدامات کے ذریعے اتحاد و بھائی چارے کا پیغام دیا۔ ان کی رہائش گاہ ہر مذہب اور طبقے کے لوگوں کے لیے کھلی رہتی تھی۔انہوں نے اخبارات اور رسائل کے ذریعے عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور انگریز حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ ان کی تحریریں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئیں۔ ؒ سماجی خدمت کے میدان میں بھی پیش پیش رہے۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ، غریبوں کی مدد اور سماجی انصاف کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
پٹنہ میں قائم مولانا مظہر الحق عربک اینڈ فارسی یونیورسٹی ان کی تعلیمی خدمات کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔مولانا مظہر الحقؒ سادگی، ایمانداری اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔ انہیں نمود و نمائش اور عیش و عشرت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حق گوئی اور اصول پسندی پر یقین رکھتے تھے۔ دوست ہوں یا مخالف، سب ان کے کردار کے معترف تھے۔یہ عظیم رہنما 2 جنوری 1930ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ ان کی وفات سے ہندوستان خصوصاً بہار کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ مگر ان کی فکر، خدمات اور قربانیاں آج بھی زندہ ہیں۔
مولانا مظہر الحق نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ سمجھا۔ انہوں نے 1921 میں انگریزی میں ایک ہفت روزہ ــ دی مدر لینڈ کے نام سے شرو ع کیاانکے نزدیک اخبار عوام کی آواز، مظلوموں کا سہارا اور ظالموں کے خلاف احتجاج کا ذریعہ تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جب تک عوام باخبر نہیں ہوں گے، تب تک آزادی محض ایک خواب رہے گی۔اسی احساسِ ذمہ داری نے انہیں صحافت کی طرف مائل کیا اور انہوں نے اپنے قلم کو قوم کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیا۔انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستانی صحافت ایک نازک دور سے گزر رہی تھی۔ انگریز حکومت اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کر چکی تھی۔ اظہارِ رائے پر پابندیاں، پریس ایکٹ، جرمانے اور قید و بند معمول کی بات تھی۔ ایسے ماحول میں صحافت کرنا محض پیشہ نہیں بلکہ خطرہ مول لینے کے مترادف تھا۔اسی عہد میں مولانا مظہر الحق نے صحافت کو اختیار کیا۔ ان کے نزدیک اخبار صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کی آواز، عوام کا ضمیر اور ظلم کے خلاف احتجاج کا سب سے مؤثر ہتھیار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحافت میں مصلحت کے بجائے حق گوئی، اور خاموشی کے بجائے جرات نظر آتی ہے۔
مولانا مظہر الحق کی صحافت کا ایک نمایاں پہلو انگریز حکومت پر بے خوف تنقید ہے۔ ان کے اداریوں میں نوآبادیاتی نظام کی ناانصافیوں کو نہایت شائستگی مگر سخت دلیل کے ساتھ بے نقاب کیا گیا۔ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے وقت ذاتیات سے گریز کرتے تھے، مگر ظلم کو ظلم کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے بارہا لکھا کہ حکومت اگر قانون کے نام پر ناانصافی کرے تو صحافت کا فرض ہے کہ وہ قانون کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھائے۔ یہی سوچ ان کی صحافت کو محض خبرنامہ نہیں بلکہ فکری مزاحمت بنا دیتی ہے۔انگریز ی دور میں پریس پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ اخبار بند کرنا، مدیر کو جیل بھیج دینا یا بھاری جرمانے عائد کرنا حکومت کے لیے عام بات تھی۔ مولانا مظہر الحق ان پابندیوں کے سخت ناقد تھے۔ انہوں نے اپنے اداریوں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کسی حکومت کی عطا نہیں بلکہ قوم کا بنیادی حق ہے۔
وہ یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر حکومت سچ سے خوفزدہ ہے تو یہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ان کی یہ تحریریں آج کے دور میں بھی صحافتی آزادی کے مباحث میں حوالہ بن سکتی ہیں۔مولانا مظہر الحق کی بے باک صحافت کے نتائج بھی انہیں بھگتنے پڑے۔ انگریز حکومت ان کی تحریروں سے خوش نہیں تھی۔ انہیں سیاسی طور پر دبانے، سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے اور قانونی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مگر مولانا مظہر الحق نے کبھی معذرت یا مفاہمت کی راہ اختیار نہیں کی۔
یہی جراتِ اظہار ان کی صحافت کو اخلاقی بلندی عطا کرتی ہے۔ ان کا قلم خوف کے سائے میں نہیں بلکہ یقین کی روشنی میں چلتا تھا۔ایڈیٹوریل کے نقط نظر سے مولانا مظہر الحق کی سب سے بڑی طاقت ان کی زبان اور استدلال تھا۔ وہ نہ تو اشتعال انگیز الفاظ استعمال کرتے تھے اور نہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیتے تھے۔ ان کا ہر جملہ ایک سوچا سمجھا موقف ہوتا تھا۔وہ واقعات کو الگ تھلگ بیان کرنے کے بجائے انہیں قومی تناظر میں رکھ کر دیکھتے تھے۔ یہی انداز ایک معیاری ایڈیٹوریل کی پہچان ہے، جہاں مسئلہ وقتی نہیں بلکہ اصولی ہوتا ہے۔مولانا مظہر الحق کی صحافت نے عوام اور تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان ایک مضبوط فکری پل کا کام کیا۔ وہ نہایت سادہ زبان میں گہرے سیاسی نکات بیان کرتے تھے۔ ان کا قاری صرف خبر نہیں پڑھتا تھا بلکہ ایک نقط? نظر حاصل کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اداریے سیاسی کارکنوں، طلبہ، وکلا اور عام شہریوں سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر تھے۔مولانا مظہر الحق فرقہ وارانہ صحافت کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ جو اخبار مذہبی نفرت کو ہوا دیتا ہے، وہ دراصل قوم کی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک صحافت کا اصل فرض قوم کو جوڑنا تھا، نہ کہ توڑنا۔انہوں نے ایسے مواقع پر بھی ضبط کا دامن نہیں چھوڑا جب جذباتی صحافت آسان راستہ بن سکتی تھی۔ یہی اصول پسندی انہیں عظیم صحافیوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔مولانا مظہر الحق ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے سیاست، سماج اور صحافت—تینوں میدانوں میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خاص طور پر ہندو مسلم اتحاد اور صحافت ان کی فکر کے دو بنیادی ستون تھے۔مولانا مظہر الحق ایک روشن خیال، وسیع النظر اور حقیقت پسند مفکر تھے۔ وہ ہندوستان کی کثرت میں کے اصول پر کامل یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو جوڑنے کے لیے ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔ اسی فکر نے انہیں فرقہ وارانہ سیاست اور تعصب کے سخت خلاف کھڑا کیا۔وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں آزادی کی جدوجہد اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہندو اور مسلمان باہمی اتحاد و اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ان کے نزدیک ہندو مسلم اتحاد محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی بقا کی شرط تھا۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ:۔ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیںدونوں کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ مشترکہ ہے ۔انگریز حکومت‘‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’’کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے ۔اس لیے اتحاد ہی غلامی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔مظہر الحق فرقہ واریت کو ہندوستان کی سب سے بڑی کمزوری سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فرقہ وارانہ فسادات صرف عوام کو کمزور کرتے ہیں اور سامراجی طاقتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقاریر اور تحریروں میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ: ‘‘فرقہ واریت غلامی کی سب سے خطرناک شکل ہے۔’’ان کی صحافت اسی نظریے کی عملی تصویر تھی۔مولانا مظہر الحق نے صحافت کو محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قومی اصلاح اور اتحاد کا طاقتور وسیلہ بنایا۔ ان کے نزدیک اخبار:عوام کی آوازسماج کا ضمیراور قوم کا رہنماہونا چاہیے۔اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنے مضامین اور اداریوں میں ہندو مسلم اتحاد کو مرکزی حیثیت دی۔مولانا مظہر الحق کی صحافتی تحریروں میں چند نمایاں خصوصیات نظر آتی ہیں:وہ ہندوستانیوں کو پہلے‘‘قوم’’اور بعد میں‘‘مذہب’’کے خانے میں رکھتے تھے۔ ہندو اور مسلمان—دونوں طبقوں کے رہنماؤں سے قریبی تعلقات تھے۔ وہ اختلاف کے باوجود مکالمے کے قائل تھے۔ ان کی شخصیت خود ہندو مسلم اتحاد کی جیتی جاگتی مثال تھی، جس کا اثر ان کی صحافت میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔مولانا مظہر الحق کے نزدیک صحافت کی سب سے بڑی ذمہ داری قومی اتحاد تھا۔ وہ صحافت کو ہندو مسلم تقسیم کے بجائے مشترکہ جدوجہد کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اخبار اگر نفرت پھیلائے تو وہ صحافت نہیں بلکہ فساد ہے۔انہوں نے بارہا اپنے مضامین میں اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی آزادی ہندو اور مسلمان دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کی صحافت نے فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف مضبوط فکری دیوار کھڑی کی۔وہ ہر مذہب کے احترام اور باہمی برداشت پر زور دیتے تھے۔انہوںؔ نے اپنی صحافت کے ذریعے سماج میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کیا۔ وہ نہ صرف ایک آزادی پسند رہنما تھے بلکہ ایک ذمہ دار صحافی بھی تھے، جن کی تحریروں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔مولانا مظہر الحقؔ کے عہد میں ہندو مسلم کشیدگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی تھی۔ ایسے نازک حالات میں انہوں نے صحافت کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اصلاحِ معاشرہ کا وسیلہ بنایا۔ ان کے مضامین اور اداریے مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مذہب انسان کو انسان سے جوڑنے کے لیے ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔ان کی صحافت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ کسی ایک مذہب یا فرقے کی حمایت میں اندھی تقلید نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر مذہب کی اچھی تعلیمات کو اجاگر کرتے اور انتہاپسندی کی کھل کر مخالفت کرتے تھے۔ مولانا مظہر الحقؔ کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب تمام مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں۔انہوں نے اپنی تحریروں میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا استعمال سب سے بڑا سماجی جرم ہے۔ ان کے نزدیک صحافی کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کو سچائی سے آگاہ کرے اور اشتعال انگیز زبان سے پرہیز کرے۔ اسی وجہ سے ان کی صحافت میں شائستگی، توازن اور اخلاقی قدریں نمایاں نظر آتی ہیں۔مظہر الحقؔ کی صحافت میں مذہبی رواداری محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی رویہ تھا۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے قلم کے ذریعے مسلسل جدوجہد کی۔ آج کے دور میں، جب مذہبی عدم برداشت ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، مولانا مظہر الحقؔ کی صحافت ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے جو ہمیں باہمی احترام، امن اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے۔انگریز حکومت کس طرح ہندو مسلم اختلافات کو ہوا دے رہی ہے، اس کی واضح مثالیں پیش کرتے تھے۔مولانا مظہر الحق نے اپنی صحافت کے ذریعے انگریز حکومت کی اس پالیسی کو بے نقاب کیا جس کا مقصد ہندوستانیوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا تھا۔ وہ لکھتے تھے کہ:انگریز حکمران جان بوجھ کر فرقہ وارانہ فسادات کو نظر انداز کرتے ہیںبعض اوقات انہیں خفیہ طور پر ہوا دیتے ہیںتاکہ آزادی کی تحریک کمزور پڑ جائے۔
ان کی یہ بے باک صحافت حکومتِ وقت کو سخت ناگوار گزرتی تھی۔مولانا مظہر الحق کی صحافت میں سماجی مسائل کو بھی ہندو مسلم اتحاد کے تناظر میں پیش کیا جاتا تھا، جیسے:تعلیم کی کمی غربت ،سماجی ناانصافی،دیہی پسماندگی صرف مسلمانوں کی زبان نہیںبلکہ ہندوستانی تہذیب کی مشترکہ آواز ہے ۔ان کی تحریروں نے اردو صحافت کو وسیع قومی دائرہ عطا کیا۔کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ مولانا مظہر الحق کا اتحاد پر حد سے زیادہ زور بعض اوقات زمینی حقائق سے دور نظر آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا نظریہ وقتی سیاست نہیں بلکہ طویل مدتی قومی مفاد پر مبنی تھا۔آج جب معاشرہ ایک بار پھر مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا شکار نظر آتا ہے، مولانا مظہر الحق کی صحافت اور اتحاد کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ان کی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد ممکن ہے۔صحافت نفرت نہیں، ہم آہنگی پھیلانے کا ذریعہ ہونی چاہیے ۔قومی مفاد ہر ذاتی و فرقہ وارانہ مفاد سے بالاتر ہے ۔مولانا کی صحافت اور ہندو مسلم اتحاد ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے بلکہ ایک ہی مقصد کے دو نام تھے۔ انہوں نے قلم کے ذریعے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کی اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ آزادی، ترقی اور خوشحالی کا راستہ صرف اتحاد، رواداری اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔مولانا مظہر الحق کی یہ فکر آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔عوام میں آزادی کا شعور بیدار کرنا اور انہیں ان کے حقوق سے آگاہ کرنا۔ذات پات، فرقہ واریت، جہالت اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا۔عوام کو سیاسی حالات سے باخبر رکھنا اور انہیں جدوجہدِ آزادی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا۔تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنا اور علمی پسماندگی کے خلاف جدوجہد کرنا۔ان کا صحافتی اسلوب سادہ، بامقصد اور اثر انگیز تھا۔
ان کی تحریروں میں:دلائل کی مضبوطی،اخلاقی جرات،قومی درد،سماجی ہمدردی واضح طور پر جھلکتی ہے۔ وہ مشکل سیاسی اور سماجی مسائل کو عام فہم زبان میں بیان کرتے تھے تاکہ عام قاری بھی ان کی بات سمجھ سکے۔مولانا مظہر الحق کی صحافت خالصتاً قوم پرستانہ تھی۔ وہ انگریز حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں پر بے لاگ تنقید کرتے تھے۔ ان کے اداریے غلامی کے خلاف بغاوت کا اعلان ہوتے تھے۔ وہ قوم کو یہ باور کراتے تھے کہ:‘‘آزادی خیرات میں نہیں ملتی، اسے شعور، قربانی اور اتحاد کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔’’مولانا مظہر الحق نے اپنی صحافت کے ذریعے انگریزی سامراج کے اصل چہرے کو بے نقاب کیا۔ وہ:اقتصادی استحصال سیاسی جبرثقافتی غلامی عدالتی ناانصافی جیسے موضوعات پر مدلل اور جرات مندانہ تحریریں لکھتے تھے۔ ان کی تحریریں حکومتِ وقت کو ناگوار گزرتی تھیں، مگر وہ کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے۔مولانا مظہر الحق کی صحافت صرف سیاست تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے سماجی مسائل پر بھی بھرپور توجہ دی، جیسے:عورتوں کی تعلیم مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی،ہندو مسلم اتحاد،غربت اور بے روزگاریوہ سمجھتے تھے کہ آزادی کا مفہوم صرف سیاسی اقتدار نہیں بلکہ سماجی انصاف بھی ہے۔مولانا ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے۔ ان کی صحافت فرقہ واریت کے زہر کے خلاف ایک مضبوط ڈھال تھی۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ:‘‘ہندوستان کی آزادی ہندو مسلم اتحاد کے بغیر ناممکن ہے۔’’ان کے مضامین میں قومی یکجہتی کا پیغام نمایاں نظر آتا ہے۔مولانا مظہر الحق تعلیم کو قوم کی ترقی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کی صحافت میں تعلیمی بیداری ایک اہم موضوع تھا۔ وہ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو تعلیم کی طرف راغب کرتے اور جدید علوم کے حصول پر زور دیتے تھے۔ان کی صحافت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی بے خوفی تھی۔ انہوں نے:جیل کی صعوبتیں برداشت کیںمالی نقصان اٹھایاسرکاری پابندیوں کا سامنا کیامگر اپنے قلم کو کبھی غلام نہیں بنایا۔ ان کی صحافت قربانی اور استقامت کی اعلیٰ مثال ہے۔مولانا مظہر الحق نے اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اردو زبان صرف ادب کی زبان نہیں بلکہ سیاسی شعور اور قومی جدوجہد کی بھی توانا زبان ہے۔ ان کی تحریروں نے:اردو صحافت کو مقصدیت بخشی صحافیوں میں اخلاقی جرات پیدا کی قومی صحافت کی روایت کو مضبوط کیا۔
مولانا مظہر الحق کی صحافت اور آج کا دور
آج کے دور میں، جب صحافت اکثر مفادات اور سنسنی کی نذر ہو چکی ہے، مولانا مظہر الحق کی صحافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:صحافت عوام کی امانت ہے۔سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔قلم کا اصل مقصد اصلاحِ معاشرہ ہے۔اگرچہ مولانا مظہر الحق کی صحافت بے مثال تھی، تاہم بعض ناقدین کے مطابق ان کی تحریریں بعض اوقات جذباتی ہو جاتی تھیں۔ لیکن یہ جذباتیت دراصل ان کے قومی درد کی عکاس تھی، جس نے ان کی تحریروں کو مزید اثر انگیز بنا دیا۔مولانا مظہر الحق کی صحافت برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کو قوم کی امانت سمجھا اور اس کی لاج رکھی۔ ان کی صحافت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:صحافت صرف خبر نہیں، ذمہ داری ہے۔قلم صرف لفظ نہیں، طاقت ہے۔اور سچائی سب سے بڑی خدمت ہے ۔آج بھی اگر اردو صحافت کو نئی سمت دینا ہو تو مولانا مظہر الحق کے صحافتی نظریات سے رہنمائی لینا ناگزیر ہے۔

پیدائش: وہ پٹنہ، بہار کے گاؤں بہپورہ میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔
اعلیٰ تعلیم: پٹنہ کولجیٹ سے میٹرک کرنے کے بعد، انہوں نے لکھنؤ کے کیننگ کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر 1888 میں قانون کی پڑھائی کے لیے انگلستان چلے گئے۔
پیشہ ورانہ زندگی: 1891 میں وہ بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آئے اور پٹنہ میں وکالت کا آغاز کیا۔
تحریک آزادی میں کردار:گاندھی جی کے ساتھ: وہ مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے 1917 کے چمپارن ستیہ گرہ اور بعد میں تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون میں بھرپور حصہ لیا۔
ہندو مسلم اتحاد: وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پکے حامی تھے۔ ان کا مشہور قول تھا: "چاہے ہم ہندو ہوں یا مسلمان، ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، ہم ساتھ تیریں گے یا ساتھ ڈوب جائیں گے"۔
ہوم رول لیگ: وہ بہار میں ہوم رول لیگ کے صدر بھی رہے۔
صداقت آشرم کا قیام:1921 میں انہوں نے پٹنہ میں گنگا کے کنارے سداقت آشرم قائم کیا، جو بہار میں تحریک آزادی کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر دیا تھا۔ یہ آشرم آج بھی بہار میں سیاسی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
یونیورسٹی: ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں 1998 میں پٹنہ میں مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی قائم کی گئی۔
ڈاک ٹکٹ: حکومت ہند نے 1981 میں ان کی یاد میں ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔
مولانا مظہر الحق نے اپنی پوری زندگی سادگی اور وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کی وفات 2 جنوری 1930 کو ہوئی۔

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026