جنرل اوپیندر دویویدی فوج میں چار دہائیوں سے بھی طویل شاندار خدمات کے بعد منگل کو آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے اور ان کی جگہ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل دویویدی کی میعاد کار کو آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھنے، فوج کی مختلف شاخوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنے، تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور ٹیکنالوجی کو اپنانے، فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے اور فوجیوں پر مرکوز اقدامات کو فروغ دینے کے لیے یاد کیا جائے گا۔آرمی چیف کے طور پر جنرل دویویدی نے تمام شعبوں میں آپریشنل تیاری کو بہت زیادہ ترجیح دی۔ ان کی قیادت میں، فوج نے 'آپریشن ا سنو لیپرڈ کے تحت شمالی سرحدوں پر مضبوط اور چوکنا موقف برقرار رکھا اور مغربی محاذ پر استقامت، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داری نبھائی۔ 'آپریشن سندور ان کی میعاد کار کی تاریخی مہم تھی، جو بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں فوج کی تیاری، درستگی اور سوچ سمجھ کر کی گئی کارروائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جنرل آفیسر نے فوج کی 'تبدیلی کی دہائی‘ کو مضبوط سمت دی۔ ان کی رہنمائی میں، فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے، جدید کاری، ٹیکنالوجی کو اپنانے، ہم آہنگی، انسانی وسائل کے انتظام میں بہتری کے کام کیے گئے۔ اس کے علاوہ جدید، چست اور مستقبل کے لیے تیار فوج بنانے کی بڑی کوشش کے تحت ردر بریگیڈ، بھیرو بٹالین، اشونی ڈرون پلاٹون، شکتی مان رجمنٹ، دیویاستر بیٹری، الیکٹرانک وارفیئر بریگیڈ اور انٹیگریٹڈ بیٹل گروپ جیسی پہل کو آگے بڑھایا گیا۔ تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مستقبل کے 'جوائنٹ، انٹیگریٹڈ اور تھیٹر اورینٹڈ آپریشن کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان زیادہ انضمام، ایک جیسی آپریشنل سوچ اور بہتر ہم آہنگی کو مسلسل فروغ دیا۔ ان کی میعاد کار کے دوران حاضر سروس اہلکاروں، سابق فوجیوں، بہادرخواتین اور خاندانوں کی فلاح و بہبود ایک اہم ترجیح رہی۔ انہوں نے فوجیوں اور سابق فوجیوں کے ساتھ فوج کے روابط کو مضبوط کرنے کے مقصد سے کئی پہل شروع کیں، جن میں 'ویٹرنز اچیورز ایوارڈ' جیسی پہل کے ذریعے ان کے تعاون کو اعزاز دینا شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی مسلسل زور دیا کہ فوج کی اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے تئیں ذمہ داری صرف فعال سروس تک ہی محدود نہیں ہے۔جنرل آفیسر نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے دور اندیشی کے ساتھ 'وکست بھارت وژن 2047' اور 'مسلح افواج وژن 2047' سے متاثر ہو کر 'اسٹریٹجک سکیورٹی گائیڈ لائنز 2047' تیار کرنے میں بھی رہنمائی کی۔ شاندار خدمات کے لیے، جنرل دویویدی کو باوقار 'پرم وششٹ سیوا میڈل اور 'اتی وششٹ سیوا میڈل سے نوازا گیا ہے۔