حکومت نے وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ نوٹیفائی کیا، یکم جولائی سے ملک بھر میں نافذ ہوگا
Awaz E Bihar••28 ویوز•3 منٹ پڑھیں
حکومت نے پیر کے روز 'وکست بھارت - گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی) یعنی وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ کو نوٹیفائی کر دیا ہے، جسے یکم جولائی سے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ وزارت دیہی ترقی نے آج بتایا کہ دیہی ترقی اور روزگار کو نئی سمت دیتے ہوئے حکومت نے آج 'وکست بھارت - گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی) 2025' کو نوٹیفائی کیا ہے۔ یہ ایکٹ یکم جولائی سے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں نافذ العمل ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی 'مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) 2005' اسی تاریخ سے منسوخ تصور کیا جائے گا۔ یہ ہندوستان کے دیہی ترقیاتی ڈھانچے میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، جو وکست بھارت-2047 کے قومی وژن کے مطابق ایک مربوط، مستقبل پر مبنی اور پیداواری صلاحیت پر مبنی دیہی تبدیلی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام کے تحت ہر وہ دیہی خاندان، جس کے بالغ ارکان غیر ہنر مند جسمانی محنت کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر آگے آتے ہیں، انہیں ہر مالی سال میں 125 دن کے اجرت پر مبنی روزگار کی قانونی گارنٹی حاصل ہوگی۔ یہ بڑھائی گئی گارنٹی معاش کے تحفظ کو مضبوط بنانے، دیہی آمدنی میں اضافہ کرنے اور گاؤں کی سطح پر پائیدار ترقی کی حمایت کرنے کے مقصد سے لائی گئی ہے۔ ایکٹ کی دفعات کے مطابق مزدوروں کو ان کے روزگار کی مانگ کے مطابق مقررہ وقت کے اندر کام فراہم کیا جائے گا۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں مزدور بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے۔ یہ ایکٹ وقت کے پابند اور شفاف اجرت کی ادائیگی پر خصوصی زور دیتا ہے۔ اجرتوں کی ادائیگی براہ راست فائدہ کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے براہ راست کارکنوں کے بینک یا ڈاک خانے کے کھاتوں میں کی جاتی رہے گی۔ اجرت کی ادائیگی ہفتہ وار بنیادوں پر یا مسٹر رول بند ہونے کے پندرہ دنوں کے اندر کی جائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو کارکن تاخیر کا معاوضہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ حکومت نے وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ 2025 کے مؤثر نفاذ کے لیے وسیع مالی دفعات کو یقینی بنایا ہے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے حکومت نے 95,692.31 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو دیہی روزگار کے پروگرام کے لیے بجٹ کے تخمینے کے مرحلے میں اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔ ریاستوں کے ممکنہ حصے سمیت اس پروگرام کا کل تخمینہ 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ تخصیص دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بڑے پیمانے پر روزگار کی تخلیق اور دیہی آمدنی میں اضافے کو نئی تحریک دے گی۔ حکومت کے مطابق وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ 2025 سے دیہی روزگار کی تخلیق، دیہی ترقی اور دیہات میں خود انحصاری کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔ گرام پنچایتوں کو دیہی تبدیلی کے مرکزی ستون کے طور پر قائم کرتے ہوئے یہ ایکٹ ایک بااختیار، خوشحال اور ترقی یافتہ دیہی ہندوستان کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔