جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
الحاج غلام سرور : شخصیت اور خدمات
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

الحاج غلام سرور : شخصیت اور خدمات

Awaz E Bihar•9 جنوری، 2026 کو 02:13 PM•2 ویوز•8 منٹ پڑھیں

انوارالحسن وسطوی
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
میرتقی میر کایہ شعر جن نابغہ روزگار شخصیتوں پر صادق آتا ہے ان میں ایک نام الحاج غلام سرور کا بھی ہے۔موصوف ایک عہد سازاور انقلاب آفریں شخصیت تھے۔ ان کی طرح کثیرالجہات اور جامع کمالات شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتی ہیں۔جب برسوں مہر وماہ کی آنکھیں لگی رہتی ہیں اور فلک برسہا برس گردش کرتاہے تب کہیں جا کر غلام سرور جیسا صاحب نظر اور عہد آفریں انسان خاک کے پردے سے نمودار ہوتا ہے۔ الحاج غلام سرور اردو کے عظیم صحافی،معتبر ادیب،صاحب طرز انشاپرداز،شعلہ بیان مقرر،اردو تحریک کے قافلہ سالار ،معروف دانشور اور ایک منجھے ہوئے سیاست داں تھے ۔انہوں نے ہر میدان میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوایااور اپنے کاموں کے تعلق سے ایک ایسی لمبی لکیر کھینچی جس کی کوئی ہمسری نہ کر سکا۔ صحافت کی وادی میں قدم رکھا تو عظیم صحافی قرار پائےاور اپنی ادارت میں شائع ہونےوالے اردو روزنامہ"سنگم"کو ملک گیر شہرت کا اخبار بنا دیا۔ ادب کے میدان میں قدم رکھا تو صاحب طرز انشا پرداز تصور کیے گیے۔تقریری میدان میں شہنشاہ خطابت کے لقب سے نوازے گئے ۔ سیاست کی وادی میں قدم رکھا تو بڑے بڑے سیاست داں ان کے سامنے بونے ثابت ہوئے ۔ دانشور ایسے تھےکہ ان کی دانشوری پر ملت کو ناز تھا اور اردو تحریک کے تو وہ روح رواں اور قافلہ سالار ہی تھے۔ انہوں نے بہار میں اردو کے لئے جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ نا قابل فراموش ہے۔ انہوں نےاردو کی فلاح وبہبود کے لئے اپنے رفقاء کار کے تعاون سے تقریباً پچیس برسوں تک بہار میں اردو کی تحریک چلائی ،جس کے نتیجے میں بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا۔ یوں تو اردو تحریک میں الحاج غلام سرور کےساتھیوں اور حامیوں کی ایک کثیر تعداد تھی لیکن ان کے انتہائی قریبی ہم نشینوں میں سید شاہ مشتاق احمد ، مولانا بیتاب صدیقی اور پروفیسر عبدالمغنی کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ الحاج غلام سرور کے بعد پروفیسر عبدالمغنی انجمن ترقی اردو ، بہارکے صدر تھے اور ان کے ہی دور صدارت میں1981ء میں بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تھا۔لیکن پروفیسر موصوف ہمیشہ اور ہر موقع سے الحاج غلام سرور کی خدمت اردو اور ان کی کامیاب قیادت کا ذکر تحسینی طور پر کرتے رہے۔ انہوں نے الحاج غلام سرور کے ذریعہ بہار میں اردو تحریک کی کامیاب قیادت کے تعلق سے اپنی ایک تحریر میں بڑی صاف گوئی سے یہ اعتراف کیا کہ:
"بہار کی تحریک اردو جن کے سبب بالآخر آئینی وقانونی طور پر ریاست کی دوسری سرکاری زبان بن گئی ،اس کو ابھارنے اور آگے بڑھانے میں ایک مدت تک غلام سرور نے کلیدی اور تاریخی رول ادا کیا۔یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔یہ ایک مثالی واقعہ ہے جو پورے ہندوستان کی اردو دنیا کے لیے مشعلِ راہ بن گیا ہے"۔
(ماخوذ:ازمضمون" ہمدم دیرینہ"مطبوعہ خصوصی شمارہ روزنامہ"سنگم، پٹنہ)
اس تعلق سے ایک واقعہ کا عینی شاہد خود راقم السطور ہے جب10/جنوری2001ء کو ریاستی انجمن ترقی اردو ،بہار کے زیر اہتمام غلام سرور صاحب کے یوم پیدائش پر بہار اردو اکادمی،پٹنہ کے کانفرنس ہال میں تقریب " یوم اردو" کاانعقاد کیا گیا تھا اور اس موقع پر غلام سرور صاحب نے پروفیسر عبد المغنی کے ہاتھوں اپنی چار کتابوں کا اجراء بھی کرایا تھا ۔پروفیسر عبدالمغنی نےاس موقع سے بھی خدمت اردو کے تعلق سے الحاج غلام سرور کی گراں قدر خدمات کاکھلے الفاظ میں اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا:
"بہار کی اردو تحریک میں الحاج غلام سرور ہمارے پیش رو رہے ہیں۔اردو سے متعلق موجودہ حصولیابیاں ان کے ذکر کے بغیر نامکمل اور ادھوری رہیں گی ۔ ایک عرصہ تک ہم دونوں نے ایک ساتھ کام کیا ۔غلام سرور صاحب جب جب جیل گئے تو جیل سے باہر اس خاکسار نے ان کے تمام کام کیے ۔" سنگم" کااداریہ لکھا۔خطرات میں بھی ساتھ رہے اور اللہ کاشکر ہے کہ آج بھی ہم لوگ ساتھ ہیں "۔( " سنگم" 11/جنوری2001ء)
اس تاریخی تقریب میں موجود الحاج غلام سرور نےبھی جذبات سے مغلوب ہوکر اپنی تقریر میں پروفیسر عبدالمغنی کے تعلق سے اپنے تاریخی کلمات میں کہا کہ:
"میں وقت کے مؤرخ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر عبدالمغنی فی الوقت اردو تحریک کی آبرو ہیں اور میں جو شاید اب زیادہ دنوں تک آپ کے درمیان نہ رہوں،میرے بعد اردو کاپرچم ڈاکٹر عبدالمغنی کے ہاتھوں بلند رہے گا۔ میں اردو کی یہ مشعل ڈاکٹر عبدالمغنی کے حوالہ کرتا ہوں"۔(" سنگم" 11/جنوری2001ء)
اللہ کو کیا منظور تھا کہ اکتوبر 2004ءمیں الحاج غلام سرور صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہ دیا اور ان کے انتقال کے تقریباً 2/سال بعد پروفیسر عبدالمغنی بھی ستمبر 2006ء میں داغ مفارقت دے گئے ۔اس طرح بہار کی اردو آبادی اپنے دو عظیم محسنوں سے محروم ہوگئ۔ بقول پروفیسر حفیظ بنارسی ،اب اردو والوں کی حالت یہ ہوگئی ہے:
نہ ہمارا کوئی رہبر نہ ہماری کوئی منزل
جہاں دل ٹھہر گیا ہے وہیں ہم ٹھہر گئے ہیں
غلام سرور صاحب نےملک وملت با لخصوص اردو کی بیش بہا خدمت کی ہے، خواہ ادب کے ذریعہ ہو یاصحافت کے ذریعہ،تحریک اردو کے ذریعہ ہو یا سیاست کے ذریعہ۔ ہر شعبہ میں انہوں نے اپنی خدمات کے انمٹ نشان چھوڑے ہیں۔ ان کی جملہ خدمات کا احاطہ کرنا اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں ۔یہاں صرف اشاریہ کے طور پرا ن کی چند اہم خدمات کاذکر کر کے انہیں خراج عقیدت" پیش کرنا ضروری سمجھتاہوں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا غلام سرور اور"اردو"ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم کی طرح تھے۔اس کا اندازہ ان کے ان جملوں سے لگایا جاسکتاہے۔وہ اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے" اردو ہماری زندگی ہے اور اردو کی موت ہماری موت ہے۔ وہ اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے اردو کاحق ادا کرنا ہمارے لیے ماں کے دودھ کاحق ادا کرنے کے برابر ہے۔ ان کے ان جملوں اور ان باتوں سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو سے انہیں کس قدر والہانہ محبت تھی۔اردو کے حقوق کی حصولیابی کے لیے انہوں نے جتنے کارہائے نمایاں انجام دیے ان میں 1951ء میں ان کےذریعہ بہار ریاستی انجمن ترقی اردو کا قیام عمل میں لانا، اردو کو علاقائی زبان کا درجہ دلانے کے لیے تقریباً 10/لاکھ لوگوں کے دستخط پر مشتمل عرضداشت صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد کو پیش کرنا۔1965ء میں بہار ریاستی انجمن ترقی اردو کاتاریخ ساز اجلاس منعقد کرنا،1967ء کے صوبائی انتخاب میں اردو کو انتخابی موضوع بنانا۔1972ء میں آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کا پٹنہ میں انعقاد کراکے اردو کے حقوق کی آواز بلند کرنا۔ جب کرپوری ٹھاکر کی حکومت میں وزیر تعلیم بنے تو بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ قائم کرایا،سینکروں مدارس کو منظوری دلا کر مدرسہ کے اساتذہ کو نئی شرح تنخواہ دلائی ،سینکڑوں اسکولوں کو اقلیتی کردار عطا کرایا۔جب بہار اسمبلی کے اسپیکر بنے تو قانون ساز اسمبلی میں شعبئہ اردو کاقیام عمل میں لاکر درجنوں مسلم نوجوانوں کو اسمبلی کی ملازمت دلوائی ۔یہ سب ان کے ایسے تاریخی اور نمایاں کام ہیں جن سے کبھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
الحاج غلام سرور کی تاریخ پیدائش جیسا کہ ہم آپ جانتے ہیں کہ10/جنوری1926ء ہے۔مرحوم سرور صاحب اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اپنے یوم پیدائش کو" یوم اردو" کےنام سے منانے لگے تھے ،جس کا مقصد یقیناً یہی تھا کہ اردو والے انکی خدمت اردو کو یاد رکھیں اور ان خدمات سے روشنی اور سبق حاصل کریں تاکہ ان کے اندر بھی خدمت اردو کا جذبہ پیدا ہو۔ موصوف کے اس عمل میں اردو والوں کے لیے بالخصوص اردو تحریک سے منسلک لوگوں کے لیے کیا پیغام ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ضرورت ہے کہ ہم اس پیغام پر عمل کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اردو کے مسائل کو حکومت وقت سے حل کرانے کی بھی کوشش کریں اور اردو آبادی کو بھی اپنی مادری زبان کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو نے کی تاکید کریں۔ الحاج غلام سرور آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کا بتایا ہوا راستہ ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔ لہذا ہمیں اور بالخصوص نئی نسل کو ان کی زندگی سے سبق لینےاور ان کے دکھائے ہوئے راستہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔الحاج غلام سرور کے لیے یہی ہماری سچی خراج عقیدت ہو گی۔ اپنی اس تحریر کا اختتام جناب ابو نصر فاروق صارم عظیم آبادی کی نظم" خراج عقیدت" کے مندرجہ ذیل اس دو شعر سے کرنا چاہتا ہوں جسے انہوں نے الحاج غلام سرور کی شان میں کہا تھا:
نوجوانوں کے لیے ہے رہنما اب تیری ذات
تیرے جیسے لوگ زندہ رہتے ہیں بعدالممات
سروری کرتارہا اور نام تھا تیرا غلام
فرض ہے یہ اہل اردو کا کریں تجھ کو سلام
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026