اختر جمال عثمانی۔ بارہ بنکی Mb.9450191754, ) اودھ کا علاقہ بر صغیر کی تاریخ میں محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ تہذیب ، تمدن ، علم و ادب اور روحانیت کا ایسا مرکز رہا ہے جہاں صدیوں تک علم و ادب ، شر یعت و طریقت ، درس و تدریس اور ذکر و فکر کی روایتیں تابندہ رہی ہیں ۔ لکھنئو، فیض آباد، جیسے شہروں کے علاوہ ردولی ، سترکھ ، دیوہ اور کرسی جیسے بے شمار قصبات اس بات کے شاہد ہیں کہ اس علاقے میں اہل قلم ہی نہیں اہل دل بھی گزرے ہیں یہ وہ سرزمین ہے جہاں مدارس و مکاتب ، خانقاہیں و درگاہیں، مشاعرے و مجالس ،علم و دانش اور روحانیت ایک ساتھ پروان چڑھتی رہی ہیں ۔ ایک طرف اس علاقے میں جہاں گوسوامی تلسی داس جی نے ہندئوں کے لئے مقدس اودھی زبان کی مقبول ترین کتاب راماین کی تخلیق کی وہیں بہت سی درگاہیں اور روحانی مراکز اور خانقاہیں بھی رہی ہیں ۔ انہیںخانقاہوں میں ایک اہم نام خانقاہ نجاتیہ قصبہ کرسی کا ہے جو اٹھاریں اور انیسویں صدی کی عظیم روحانی شخصیت حضرت شاہ نجات اللہ رحمت اللہ علیہ سے منسوب ہے ۔حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے زمانے میں بلکہ آنے والی کئی نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا جو دینی ، روحانی اور تاریخی اعتبار سے مضبوط پس منظر کا حامل تھا ۔ آپ کے سوانحی کوائف پر مشتمل آپ کے پسر زادے اور سجادہ نشین حافظ سراج الیقینؒ کی مشہور زمانہ تصنیف ’ نجات المونین‘ کے مطابق آپ کے اجداد سید سالار مسعود غازی کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے تھے۔ امن قائم ہونے کے بعد انہوں نے قصبہ دیوہ میں سکونت اختیار کی اور قاضی کے منصب سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا سلسلئہ نسب قاضی یوسف محمود سے ملتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کے خاندان علمی اور دینی اعتبار سے ایک ممتاز خاندان تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ کے دادا شیخ جان محمد نے دیوہ سے آکر قصبہ کرسی ضلع بارہ بنکی میں سکونت اختیار کی۔ اس طرح سے کرسی کی سرزمین کو وہ سعادت حاصل ہوئی جس نے اس بستی کو ایک اہم روحانی مرکز میں تبدیل کر دیا ۔ آپ کے والد کا نام شیخ کفایت اللہ تھا۔ حضرت شاہ نجات اللہ کی پیدائش ، نشو و نما، تربیت ایسی فضاء میں ہوئی جہاں علم ، دین، تقویٰ، اور خدمت خلق کی اقدار پہلے سے موجود تھیں ۔ آپ نے کم عمری سے ہی عبادت اور ریاضت کو اپنا شعار بنا لیا تھا ۔ نمود و نمائش یا حصول دولت سے آپ کو رغبت نہ تھی۔ آپ کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا، حضور ﷺ کی سنت کی پیروی اور خدمت خلق تھا۔ روحانی اعتبار سے حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کا تعلق سلسلئہ قادریہ سے تھا جو برصغیر میں سب سے زیادہ مقبول اور اثر انگیز سلسلہ ہے ۔ آپ کا شجرہء طریقت سلسلہء قادریہ کے جلیل القدر بزرگوں شاہ شاکر اللہؒ، شاہ محمد ا سماعیلؒ اور شاہ عبدالرزاقؒ سے ہوتا ہوا حضور ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ یہ روحانی سلسلہ ایک ایسی وراثت تھی جس کا اظہار حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کی عملی زندگی میں جا بجا نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔آپ نے شر یعت کی مکمل پاسداری کے ساتھ طریقت کی راہوں کو طے کیا اور اپنے مریدین اور خلفاء کو بھی اسی اعتدال اور توازن کی تعلیم دی ۔ حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو آپ کی ہمہ گیر محبت اور رواداری تھی۔آپ مذہب ،ذات یا سماجی اور معاشی حیثیت کی تفریق کے بغیر ہر انسان سے محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے ۔ اسی وجہ سے آپ کے حلقہ عقیدت میں نہ صرف مسلمان بلکہ بہت سے غیر مسلم بھی شامل تھے۔ آپ کے ہم عصر بابا کھلاڑی رام جو کہ ہندئوں کے مقدس مقام ’ کُٹی نانک شاہی‘ کے گدی نشین تھے اور اپنے پیرئوں کے لئے نہایت قابلِ احترام اور معتبر شخصیت تھے حضرت شاہ نجات اللہؒ سے بڑی قربت رکھتے تھے۔ یہ تعلق محض رسمی نہیں باہمی احترام اور روحانی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال تھا۔ جسے اس دور میں پروان چڑھ رہی گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کی خانقاہ جو بعد میں خانقاہ نجاتیہ کے نام سے معروف ہوئی ذکر و اذکار ، اور روحانی مشاغل کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی، اخلاقی تربیت اور خدمت خلق کا بھی ایک مرکز تھی۔ عوام و خواص ، ہندو اور مسلمان ، غریب اور امیر سبھی عزت اور احترام کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔ اسی وصف نے حضرت شاہ نجات اللہؒ کو ایک مقبول شخصیت بنا دیا تھا۔ حضرت شاہ نجات اللہؒ کے علمی اور روحانی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور کے جلیل القدر علماء خصوصاََ علمائے فرنگی محل آپ سے گہری عقیدت رکھتے تھے ۔ مولانا ابو البقا فرنگی محلی اور ملک العلماء ملا حیدر فرنگی محلی جیسے اکابرین کا آپ کے حلقہء خلافت میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ محض ایک صوفی یا درویش نہیں بلکہ علم اور معرفت کا ایک مرکز تھے ۔ علمائے فرنگی محل جو خود اس زمانے میں علمی قیادت کا مرکز تھے آپ کی اخلاقی اور روحانی عظمت کے معترف تھے ۔ اودھ کے نواب شجاع الدولہ بھی حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے اور حضرت سے ملاقات کے واسطے بذات خود کرسی تشریف لایا کرتے تھے ۔ اس کے باوجود آپ نے دربار شاہی یا اقتدار کی قربت کو اپنی خانقاہ کا محور نہیں بنایا بلکہ آپ کا دروازہ جس طرح ر ئیسوں اورنوابوں کے لئے کھلا رہتا تھا اسی طرح ایک عام آدمی کے لئے بھی کھلا ہوتا تھا، یعنی غریبوں کے جھوپڑوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک آپ کا روحانی فیض عام تھا۔ آپ سے بے شمار کراماتیں منسوب ہیں جن کا ذکر آپ کی سوانح ’ نجات المومنین‘ میں ملتا ہے اور جن کا تذکرہ آپ کے مریدین اور عقیدت مند نسل در نسل کرتے آئے ہیں لیکن آپ کا اصل زور ہمیشہ اصلاح نفس، تزکیہ قلب اور حسن و اخلاق پر تھا آپ کے نزدیک سب سے بڑی کرامت انسان کا اپنے نفس پر قابو پانا ہے ۔ آپ کے بے شمار مریدوں میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اہل علم ، اور رئوساء بھی شامل تھے۔ حضرت شاہ نجات اللہؒ کی وفات ۵ شعبان ۱۲۲۵ ہجری مطابق ۱۸ مئی ۱۸۲۰ء کو ہوئی۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے عقیدت مندوں اور متعلقین نے آپ کی یاد اور تعلیمات کو قائم رکھنے کے لئے ایک نہایے خوبصورت روضہ تعمیر کرایا اور اس سے ملحق ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو آج بھی اس روحانی مرکز کی علامت ہے ۔ یہ روضہ اس عقیدت اور محبت کا مجسم ثبوت ہے جو عوام اور خواص کے دلوں میں حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کے لئے تھی، آپ کی وفات کے ساتھ ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا مگر آپ کی خانقاہ کے ذریعے تعلیمات اور روحانی سلسلہ جاری رہا ۔ہر برس ۵ شعبان کو آپ کا عرس نہایت سادگی اور وقار سے منایا جاتا رہا ہے ۔ سادگی کا یہ عالم ہے کہ روضے پر کسی طرح کے چراغاں کا اہتمام نہیں کیا جاتا ۔ محفلِ سماع یا دیگر رسومات کی روایت یہاں کبھی نہیں رہی ہے ۔ یہ تقریب کبھی نمائش یا اسراف کا شکار نہیں ہوئی ہمیشہ قرآن خوانی اور اذکار اور خدمتَ خلق تک محدود رہی۔ ایک زمانے تک اس میں علمائے فرنگی محل ، بڑے بڑے رئوسا بیروبی شہروں سے آئے ہوئے عقیدت مند اور کثیر تعداد میں عوام شرکت کرتے رہے ہیں ۔ حضرت شاہ نجات اللہؒ کے بعد آپ کے خلفِ اول اور خلیفہ حضرت شاہ حمدانیؒ سجادہ نشین ہوئے انہوں نے آپ کی تعلیمات کو نہایت دیانت داری اور استقامت سے آگے بڑھایا ۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ سراج الیقینؒ مسند سجادگی پر فائز ہوئے ۔ وہ ایک باکمال مصنف بھی تھے ۔ نجات المومنین کے علاوہ انہوں نے چالیس سے زیادہ کتابیں تحریر کیں ان کا سفر نامہ ’’ سراج و حاج یعنی سفر حجاج‘‘ کے نام سے ڈیڑھ صدی قبل شایع ہوا جس مین سفر کی سعوبتوں کے علاوہ عرب، مصر، عراق اور شام کے اس دور کے حالات کا مفصل بیان ہے ۔ حافظ سراج الیقین نے باعثِ پیری اپنے فرزند مولانا صادق الیقین کو یہ ذمہ داری سونپی لیکن دوران حج مکہ میں ان کے انتقال ہو گیا اس کے بعد مولانا صادق الیقین صاحب کے صاحبزادے مولانا واثق الیقین کم عمری میں ہی سجادہ نشین ہوئے اور طویل عرصے تک خانقاہ کی ذمہ داریا سمبھالے رہے ۔ مولانا واثق الیقین نے اولاد کی غیر موجودگی کے سبب اپنے عزیز مولانا عتیق کو سجادہ نشین نامزد کیا۔ اس طرح یہ روحانی سلسلہ ایک منظم روایت کے ساتھ کئی نسلوں سے جاری ہے۔ حضرت شاہ نجات اللہ ؒکا خانوادہ علمی اور عملی اعتبار سے نہایت ممتاز رہا ہے ۔ آپ کے فرزندوں میں شاہ محمد حمدانی، شاہ محمد نورانی، شاہ محمد روحانی اور شاہ حزب اللہ شامل ہیں ان بزرگوں نے روحانی وراثت کو علم تقویٰ اور خدمت کے ذریعے آگے بڑھایا۔ ان کی اولاد میں دینی اودنیاوی دونوں اعتبار سے کئی اہم اور با وقار شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ مولانا امام المتقین اور مولانا محمود العافی اپنے زمانے کے جید عالم تھے ۔شاہ محمد روحانیؒ کے نواسے زادے محمد نسیم عثمانی اپنے دور کے نامور حکیم تھے اور ان کے بیٹے علیم عثمانی اپنے زمانے کے ممتاز شاعر تھے۔ اس خاندان کے ایک اور درخشاں فرد انوار الیقین تھے جو قانون کے پروفیسر تھے اور قانون کی کئی ایسی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے جو دنیا کے متعدد ممالک میں قانون کے نساب میں شامل ہیں۔ ، ڈاکٹر احترام الیقین پٹنہ یونیورسٹی میں زولوجی کے پرفیسر تھے ، ڈاکٹر حاذق الیقین کینسر کے اسپیشلسٹ تھے انہوں نے امریکہ میںمقیم رہ کر طب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے جدید طب اور انسانی خدمت کو یکجا کر کے اپنے خاندان کی روایت کو آگے بڑھایا،اعجاز الیقین پاکستان میں کراچی کے میر اور سر سید یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے سیاست اور تعلیم کے میدان میں ان کی اہم خدمات ہیں ۔مولانا محمد عبدللہ بھی اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے جنہوں نے تبلیغِ دین کے لئے خود کووقف کر رکھا تھا ۔ ان کی درسی اور دینی خدمات ناقابلَ فراموش ہیں، ان کے صاحب زادے مولانا رضوان صاحب جامع مسجد اور عیدگاہ کے موجودہ امام ہیں اور عوام کی اصلاح و تبلیغِ دین کے لئے کوشاں رہتے ہیں اس طرح یہ خانوادہ روحانیت کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں رہا ہے ۔ حضرت شاہ نجات اللہؒ کے مریدین میں حضرت خادم علی صاحب کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے جن کے مریدوں میں حضرت حاجی وارث علی شاہؒ دیوہ شریف کا نام بھی آتا ہے ۔ حضرت حاجی وارث علی شاہ ؒ کا مزار آج بھی زیارت گہِ خاص و عام ہے اور ان کی تعلیمات میں جو وسعتِ نظر ، اور روحانی گہرائی نظر آتی ہے اس میں بلا شبہ حضرت شاہ نجات اللہؒ کا فیض بھی شامل ہے ۔ روایت ہے کہ حاجی وارث علی شاہؒ جب بھی کرسی اپنے دادا پیر کے عرس میں تشریف لاتے تو احتراماََ ایک میل قبل سواری سے اتر جاتے اور خانقاہ تک پیدل تشریف لاتے تھے۔ خانقاہ نجاتیہ گزشتہ دو صدیوں سے زائد عرصے سے عوام کی عقیدت کا مرکز رہی ہے اور آج بھی عوام کی خدمت اور فلاح میں سرگرمِ عمل ہے ۔ یہ محض ایک روحانی مرکز نہیں ہے بلکہ تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی اس کا اہم کردار ہے اس کے زیر انتظام مدرسہ نجاتیہ ایک زمانے سے علم کی روشنی پھیلاتا آ رہا ہے اسے عرف عام میں ’’ پرانی حویلی‘‘ کہا جاتا رہا ہے۔ خود خاکسار کی اردو کی شد بد اسی مدرسے کی رہین منت ہے جو اس ادارے کی خدمات کا ایک حقیر سا ثبوت ہے ۔ آج جب ہم حضرت شاہ نجات اللہؒ کی حیات اور خانقاہ نجاتیہ کی خدمات پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ایسے بزرگ اور ایسی خانقاہیں مستقبل کے لئے مشعلَ راہ ہیں ۔ آج جب مذہب کے نام پر نفرت اور تصادم کے ماحول میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے حضرت شاہ نجات اللہ کی تعلیمات ہمیں محبت ، رواداری اور انسانیت کا سبق دیتی ہیں ۔ یہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ دین ،دنیا ،روحانیت، عبادت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ زندگیکے مختلف پہلو ہیں۔ اس طرح حضرت شاہ نجات اللہؒ اور خانقاہ نجاتیہ قصبہ کرسی ضلع بارہ بنکی کی تاریخ محض ایک داستان نہیں بلکہ اس خطہ زمین کی روحانی سماجی اور تہذیبی تاریخ کا ایک اہم باب ہے جسے محفوظ رکھنا ہماری مشترکہ ذ مہ داری ہے ۔