ہندوستان کے لیے سیریز بچانے کا امتحان، آئرلینڈ تاریخی کامیابی سے ایک قدم دور
Awaz E Bihar••1 ویوز•4 منٹ پڑھیں
بیلفاسٹ، ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپئن ہندوستان اتوار کے روز سول سروس کرکٹ کلب میں آئرلینڈ کے خلاف دوسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سیریز بچانے کے ارادے سے میدان میں اترے گا، جبکہ میزبان ٹیم تاریخی کامیابی سے صرف ایک قدم دور ہے۔ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ ہندوستان دو میچوں کی سیریز میں یکطرفہ برتری حاصل کرے گا، لیکن پہلے ہی میچ میں آئرلینڈ نے اپنی کرکٹ تاریخ کی یادگار کارکردگی پیش کرتے ہوئے 34 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ہندوستان کے خلاف آئرلینڈ کی پہلی فتح تھی، جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ ہندوستان کے خلاف سیریز جیتنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس شکست کے بعد کپتان شریس ایئر اور ان کی ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہندوستان کی بیٹنگ اچھی شروعات کے باوجود لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم 18.5 اوورز میں 148 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ابھیشیک شرما نے صرف 20 گیندوں پر جارحانہ 49 رنز بنائے، لیکن سنجو سیمسن، ایشان کشن، شریاس ایئر اور تلک ورما خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ہندوستانی گیندبازی میں ہرشیت رانا نے چار ماہ بعد واپسی کرتے ہوئے 24 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ارشدیپ سنگھ اور اکشر پٹیل نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، تاہم ہندوستانی بولرز آئرلینڈ کے مڈل آرڈر کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہے۔ اب یہ سیریز ہندوستانی ٹیم کے لیے کردار کے امتحان میں بدل چکی ہے۔ ایک اور شکست نہ صرف آئرلینڈ کو ہندوستان کے خلاف پہلی ٹی ٹوئنٹی سیریز جتوائے گی بلکہ یہ موجودہ عالمی چیمپئن کے لیے حالیہ برسوں کی سب سے مایوس کن دوطرفہ سیریز شکستوں میں شمار ہوگی۔ ہندوستانی ٹیم انتظامیہ پلیئنگ الیون میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی، جو پہلے میچ میں بینچ پر رہے تھے، اس بار ابتدائی بیٹنگ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹیم میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ تیزگیندباز آل راؤنڈر سوریانش شیڈگے بھی ٹیم کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط متبادل سمجھے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب آئرلینڈ پہلے میچ کی شاندار کامیابی کے بعد بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کپتان لورکن ٹکر نے محتاط آغاز کے بعد 36 گیندوں پر 50 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ گیریتھ ڈیلانی نے 32 گیندوں پر جارحانہ 49 رنز بنائے۔ جارج ڈاکریل کی آخری اوورز کی مفید اننگز کی بدولت آئرلینڈ نے نو وکٹوں پر 182 رنز کا چیلنجنگ اسکور بنایا۔ گیندبازی میں ڈیبیو کرنے والے میٹ ہولارڈ اور جے موندرا نے میچ کا رخ بدل دیا۔ ہولارڈ نے ایشان کشن اور شریس ایئر سمیت تین اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ موندرا کی عمدہ گیندبازی نے ہندوستانی مڈل آرڈر کو مسلسل مشکلات میں رکھا۔ آئرلینڈ کی منظم فیلڈنگ اور بے خوف انداز نے ایک ایسی ٹیم کی تصویر پیش کی جس کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے، اور اگر وہ اتوار کو بھی کامیاب رہی تو یہ اس کی کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہوگی۔ اسٹورمونٹ میں ایک بار پھر موسم ابر آلود اور ٹھنڈا رہنے کا امکان ہے، جس سے ابتدائی اوورز میں تیز گیند بازوں کو مدد مل سکتی ہے۔ تاہم گیند پرانی ہونے کے بعد بیٹنگ آسان ہو جائے گی، اس لیے پاور پلے اور آخری اوورز میچ کے فیصلہ کن مراحل ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالیہ مقابلوں کو دیکھتے ہوئے پہلی اننگز میں تقریباً 170 رنز کا اسکور بھی کافی چیلنجنگ سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ پہلے میچ کی شکست ہندوستان کے لیے بڑا دھچکا تھی، لیکن اس کے پاس اب بھی دنیا کی مضبوط ترین ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ لائن اپس میں سے ایک موجود ہے اور اس سے زیادہ منظم اور ذمہ دارانہ کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف آئرلینڈ یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ عالمی چیمپئن ٹیم کا ہر شعبے میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک اور تاریخی کامیابی کے لیے پُرامید ہے۔ ہندوستان کے لیے اتوار کا مقابلہ صرف سیریز برابر کرنے کا نہیں بلکہ اپنی ساکھ بحال کرنے، عالمی چیمپئن ہونے کا وقار برقرار رکھنے اور حالیہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سب سے بڑی اپ سیٹ شکستوں میں سے ایک سے بچنے کا بھی امتحان ہوگا۔ ممکنہ اسکواڈ:ہندوستان: شریس ایئر (کپتان)، تلک ورما، ویبھو سوریہ ونشی، ابھیشیک شرما، شیوَم دوبے، سوریانش شیڈگے، اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر، سنجو سیمسن (وکٹ کیپر)، ایشان کشن (وکٹ کیپر)، روی بشنوئی، ہرشیت رانا، ارشدیپ سنگھ، پرنس یادو، پرسدھ کرشنا۔ آئرلینڈ: راس ایڈیر، بینجمن کیلٹز، ہیری ٹیکٹر، ٹم ٹیکٹر، گیریتھ ڈیلانی، جارج ڈاکریل، لورکن ٹکر (کپتان و وکٹ کیپر)، اسٹیفن ڈوہنی (وکٹ کیپر)، میتھیو ہمفریز، گیون ہوئی، میٹ ہولارڈ، لیام میکارتھی، روبن ولسن، جے موندرا۔