ہندوستان-ملائیشیا شراکت داری کو نئی رفتار ملے گی، دہشت گردی پر نو ڈبل اسٹینڈرڈس، نو کمپرومائز: وزیر اعظم مودی
Awaz E Bihar••1 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پتراجایا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ملائیشیا دورے کے دوسرے دن کہا کہ ملائیشیا میں ہندوستان کے مزدوروں کے تحفظ کے لیے سوشل سیکورٹی ایگریمنٹ، سیاحت کے لیے گریٹس ای-ویزا اور ڈیجیٹل انٹرفیس یو پی آئی کا ملیشیا میں نافذ ہونا جیسے قدم دونوں ممالک کے شہریوں کی زندگی کو آسان بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے چیلنجوں کا حل نکالنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاح ضروری ہے۔ ہندوستان-ملیشیا امن کی سبھی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے اور دہشت گردی کے مسئلے پر دونوں ممالک کا پیغام واضح ہے- ’نو ڈبل اسٹینڈرڈس، نو کمپرومائز‘۔ ملیشیا کی انتظامی اور عدالتی راجدھانی پتراجایا میں ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور ملیشیا کے تعلقات انتہائی خاص ہیں۔ دونوں ممالک سمندری پڑوسی ہیں اور صدیوں سے ان کے لوگوں کے درمیان گہرے اور دلی تعلقات رہے ہیں۔ آج ملیشیا ہندوستانی نژاد آبادی والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان انسانی رشتوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ سال وہ آسیان سے منسلک پروگرام کے لیے ملیشیا نہیں آ سکے تھے، لیکن آج سال 2026 کے پہلے غیر ملکی دورے میں ملیشیا آ کر انہیں انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں ہندوستان-ملیشیا تعلقات نے نئی رفتار پکڑی ہے، جس میں وزیر اعظم انور ابراہیم کا خصوصی تعاون رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون مضبوط ہوا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت، بائیوٹیک اور آئی ٹی میں باہمی سرمایہ کاری بڑھی ہے، جبکہ سیاحت اور لوگوں کے درمیان رابطے بھی گہرے ہوئے ہیں۔ ان کامیابیوں سے متاثر ہو کر دونوں ممالک نے شراکت داری کو غیر معمولی رفتار اور گہرائی دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ سلامتی کے شعبے میں تعاون کو لے کر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور ملیشیا کاونٹر ٹیررزم، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سمندری سلامتی میں باہمی تعاون کو اور مضبوط کریں گے۔ دفاعی تعاون کو بھی اور وسیع بنایا جائے گا۔ اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے علاوہ سیمی کنڈکٹر، صحت اور فوڈ سیکورٹی کے شعبوں میں شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق رائے بنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سی ای او فورم منعقد ہونے سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھلے ہیں اور دونوں ممالک اسٹریٹجک اعتماد کے ذریعے اقتصادی تبدیلی کا راستہ بنائیں گے۔ انہوں نے ملیشیا میں ہندوستانی تارکین وطن سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 لاکھ ہندوستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے درمیان ایک ’لونگ برج‘ ہیں۔ ان کی بہبود کے لیے اٹھائے گئے قدم ہندوستان-ملیشیا تعلقات کو انسانی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور ملیشیا کو تمل زبان کے تئیں مشترکہ محبت بھی جوڑتی ہے۔ ملیشیا میں تمل کی مضبوط اور جاندار موجودگی تعلیم، میڈیا اور ثقافتی زندگی میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ آڈیو-ویژول تعاون سے فلم اور موسیقی، خاص طور پر تمل فلمیں، دونوں ممالک کے لوگوں کو اور قریب لائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے یونیورسٹی ایکسچینج، اسٹارٹ اپ کنیکٹ اور اسکل ڈیولپمنٹ کے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں۔ بڑھتے دو طرفہ تعلقات کو حمایت دینے کے لیے ملیشیا میں نیا ہندوستانی قونصل خانہ کھولنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انڈو-پیسیفک خطہ عالمی ترقی کا انجن بن کر ابھر رہا ہے۔ ہندوستان، آسیان کے ساتھ پورے انڈو-پیسیفک خطے میں ترقی، امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور آسیان سینٹرلٹی کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے ملیشیا کی کامیاب آسیان صدارت کے لیے وزیر اعظم انور ابراہیم کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے اتفاق ظاہر کیا ہے کہ آسیان-ہندوستان تجارتی معاہدے (آئی ٹی جی اے) کا جائزہ جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔ علاقائی اور عالمی مسائل پر بامعنی بات چیت ہوئی ہے۔ عالمی عدم استحکام کے موجودہ ماحول میں ہندوستان اور ملیشیا کی بڑھتی دوستی دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔