جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ہندوستان میں 24 گھنٹے کام کرنے والے عدالتی نظام کی ضرورت: جسٹس سوریہ کانت
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

ہندوستان میں 24 گھنٹے کام کرنے والے عدالتی نظام کی ضرورت: جسٹس سوریہ کانت

Awaz E Bihar•16 مئی، 2026 کو 04:43 PM•0 ویوز•5 منٹ پڑھیں

جبل پور، 16 مئی (ایجنسی)۔ہندوستان کی عدلیہ کو اب اسپتالوں کی طرح 24 گھنٹے کام کرنے والے نظام کی سمت میں ا?گے بڑھنا ہوگا۔ ڈیجیٹل تبدیلیوں کے اس دور میں عام شہریوں کا بھروسہ برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ تکنیکی پلیٹ فارمز ایسے ہوں جنہیں دیہی اور ٹیکنالوجی سے کم واقف لوگ بھی ا?سانی سے سمجھ سکیں۔ اس کے لیے مقامی سطح پر پیرا لیگل والنٹیرز تیار کیے جانے چاہئیں، جو لوگوں کو ڈیجیٹل نظامِ عدل سے جوڑ سکیں۔
ان خیالات کا اظہار ملک کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت نے ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے جبل پور میں منعقدہ ایک قومی سیمینار میں کیا۔ ’’فریگمنٹیشن ا?ف فیوڑن ایمپاورنگ جسٹس وایا یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انٹیگریشن‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اس پروگرام میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کئی ججوں کے ساتھ مرکزی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال اور وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو بھی موجود تھے۔
اس سے قبل نیتا جی سبھاش چندر بوس کلچرل اینڈ انفارمیشن سینٹر میں منعقدہ سیمینار میں ملک کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت نے ’’فریگمنٹیشن ا?ف فیوڑن ایمپاورنگ جسٹس وایا یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انٹیگریشن‘‘ کا آغاز کیا۔ اس موقع پر اینول رپورٹ: 2025 کا بھی اجرا کیا گیا۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے نرمدا ندی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے امرکنٹک سے نکلنے والی چھوٹی لہر آگے چل کر ایک وسیع شکل اختیار کر لیتی ہے، اسی طرح نظامِ عدل میں کی جانے والی چھوٹی چھوٹی تکنیکی اصلاحات آنے والے وقت میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں شروع کیے گئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ایپس نظامِ عدل کو مزید شفاف، تیز رفتار اور موثر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں پولیس تھانہ، فارنسک لیب، میڈیکل سسٹم، لیگل سیل، عدالت اور جیل سے متعلق معلومات کو ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسے ایک منفرد پہل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس ماڈل کو ملک بھر میں نافذ کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔
جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ عدالتی نظام میں ا?رٹیفیشل انٹیلی جنس (اے ا?ئی) کے استعمال کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی زیرِ التوا معاملات کے جلد تصفیہ اور طریقہ کار کو مزید موثر بنانے کے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ا?نے والے وقت میں اس سلسلے میں تفصیلی معلومات عام کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عدلیہ ٹیکنالوجی اپنانے کے معاملے میں پہلے ہی سے پیش پیش رہی ہے۔ کووڈ وبا کے دوران بھی عدالتوں کا کام متاثر نہیں ہوا اور ہندوستان کے ڈیجیٹل جسٹس ماڈل کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔
ملک کے چیف جسٹس نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے ایک پرانے کیس کا ذکر کیا، جس میں ضمانت کا حکم بروقت جیل تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے ملزم طویل عرصے تک قید رہا۔ انہوں نے کہا کہ نیا ڈیجیٹل نظام لاگو ہونے کے بعد ایسی صورتحال سے کافی حد تک بچا جا سکے گا اور عدالتی عمل زیادہ حساس اور تیز رفتار بنے گا۔
مرکزی وزیرِ قانون میگھوال نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی یہ پہل معمولی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ڈیجیٹل پولیس نیٹ ورک کی مثال کے طور پر چندی گڑھ کا نام لیا جاتا تھا، لیکن اب مدھیہ پردیش مثال بنے گا۔ انہوں نے خاص طور پر سائن لینگویج (اشاروں کی زبان) پر مبنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سننے اور بولنے سے معذور لوگوں کو بھی عدالتی عمل سے جوڑنے کی یہ کوشش ملک میں اپنی نوعیت کی انوکھی پہل ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ انتظامیہ کو اس کے لیے مبارکباد دی۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ انصاف کی بحث ہو اور سمراٹ وکرمادتیہ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکرمادتیہ کی عدالتی روایت آج بھی آئیڈیل مانی جاتی ہے۔ وکرم بیتال کی کہانیاں محض تفریح نہیں بلکہ انتظامیہ، پالیسی اور انصاف سے منسلک گہرے پیغامات دیتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے اور جمہوریت کو مضبوط رکھنے میں عدلیہ کا سب سے اہم کردار ہے۔ نظامِ عدل میں ہونے والی تکنیکی ایجادات عام لوگوں کا اعتماد مزید مضبوط کریں گی۔
سیمینار میں ای-کورٹ سسٹم، ڈیٹا انٹیگریشن، یونیفائیڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ عدل جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پروگرام ملک کے مستقبل کے ڈیجیٹل نظامِ عدل کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانوں نے ثقافتی پروگرام میں حصہ لینے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس دوران ایک بچی کو ایوارڈ دینے کے بعد چیف جسٹس سوریا کانت نے اسے گود میں اٹھا کر شفقت کا اظہار کیا، جس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ انہوں نے تمام شریک بچوں کی کارکردگی کی تعریف کی۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026